آنکھ کی پتلی منتقل کرنے کا حکم:
Question
میں ایک خاتون ہوں، میری بینائی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اطباء کا کہنا ہے کہ اگر علاج نہ کرایا گیا تو میں بالکل نابینا ہو جاؤں گی۔ اطباء کا کہنا ہے کہ مجھے آنکھوں کی روشنی حاصل کرنے کے لیے کورینل گرافٹ (corneal graft) کرانا پڑے گا۔
اس علاج کا مختصر تعارف حسبِ ذیل ہے:
یہ انتقالی آپریشن ہوتا ہے، ایک آدمی کا عضو یعنی آنکھ کی پتلی دوسرے کی آنکھ میں ڈالی جاتی ہے۔
یہ آنکھ کی پتلی ایک ایسے شخص کی آنکھ سے لی جاتی ہے جس نے یہ وصیت کی ہو کہ میرے مرنے کے بعد میری آنکھ کی پتلی کسی اور میں استعمال کی جائے، موصی کی موت کے بعد ایک خاص مدت کے لیے اس پتلی کو آنکھوں کے بینک میں رکھ کر اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔
مریض میں منتقل کرنے سے پہلے پتلی کا اچھی طرح جائزہ لیتے ہیں کہ صحیح اور مفید ہے یا نہیں اور مریض کی آنکھ میں منتقل کرنے سے کسی قسم کی بیماری تو منتقل نہیں ہو گی۔
آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم سے مطلع فرمائیں کہ آیا اس قسم کے علاج کی اجازت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
بعض علماء اور مفتیوں کے نزدیک اس کی گنجائش ہے آپ ان کے فتوے پر عمل کر سکتے ہیں۔ فریقین کے دلائل کی تفصیل ما قبل تفصیلی فتوے میں ملاحظہ فرما لیں، ہاں اس قسم کی وصیت کرنا جائز اور درست نہیں ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.