عمامہ کا حکم اور اس کے سنن عادیہ میں سے ہونے کی وضاحت:
Question
عمامہ کا کیا حکم ہے؟ سنت ہے یا مستحب؟ نیز سنن عادیہ میں سے ہے یا سنن ہدی میں ہے؟ دونوں کی وضاحت کیجیے؟ اور سنن عادیہ کا کیا مطلب ہے؟ نیز اکثر اوقات عمامہ ثابت ہے یا ٹوپی؟ مفصل مدلل جواب تحریر فرمائیے ۔ بینوا بالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل ۔
Answer
حضور آ کرم ﷺ کی ہر ادا اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے، اور جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کے مبارک طریقوں کو اپنی زندگی میں اپنائے گا، وہ اللہ تعالی شانہ کے قریب ہو گا اور اللہ تعالی اس کو اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما لیں گے، تمام جہاں میں صرف آپ ﷺ کی ذات بابرکت کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ کی ہر ادا محفوظ ہے، اب ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے کہ آپ کی ہر ادا کو اپنائیں خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا عاداتِ یومیہ مثلاً نشست و برخاست، طعام و شراب، لباس و پوشاک کردار و گفتار وغیرہ سے ہو ۔
اللہ تعالی کے پاک ارشاد:
﴿قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم﴾ (آل عمران: ۳۱)
کا بھی یہی تقاضا ہے ۔
تاہم فقہاء نے سنت کو دو خانوں میں تقسیم کیا ہے (۱) سنن ہدی (۲) سنن زوائد ۔
سنن ہدی وہ سنتیں ہیں جن پر نبی پاک ﷺ یا آپ کے بعد خلفائے راشدین نے بطورِ عبادت مواظبت فرمائی ہو، اور یہ مکملاتِ دین میں سے ہوتی ہیں، اور یہ سنن مؤکدہ قریب بہ واجب ہیں، ان کا تارک عاصی ہے، جیسے اذان اقامت، جماعت، اعتکاف، اسی طرح سنن صلاۃ و صیام و حج وغیرہ ۔
اور سنن کی ایک قسم غیر مؤکدہ ہے جس پر مواظبت ثابت نہ ہو اس کا تارک عاصی نہیں ہے ۔ ہاں عامل ماجور ہے ۔ جیسا کہ عصر کی سنتِ قبلیہ ۔
(۲) سنن زوائد وہ سنتیں ہیں جو آپ کے اخلاق عادات سے متعلق ہوں، جیسے لباس و نوم، طعام و شراب وغیرہ کی سنن، چونکہ یہ مکملاتِ دین اور شعائر دین میں سے نہیں اس لیے ان کا بجا لانے والا تو مثاب ہو گا لیکن تارک مستحق کراہت یا عقاب نہ ہو گا ۔ ان کو سنن عادیہ بھی کہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے ان کو اتنا کیا کہ یہ امور عادت بن گئے ۔
تنبیہ: زوائد کے لفظ سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان امور کا بجا لانا عبادت میں شامل نہیں، ایسا ہرگز نہیں! یہ بھی عبادت میں داخل ہیں، کیوں کہ فی نفسہٖ سنت کا مفہوم ہی عبادت ہے ۔
إن السنة هي الطريقة المسلوكة في الدين فهي في نفسها عبادة. (
فتاوی الشامی:
۱
/
۱۰۳
، سعید) ۔ (ہاں حضور آ کرم ﷺ نے بطورِ عبادت انجام نہیں دیا) ۔
ان امورِ عادیہ میں بھی جن پر آپ ﷺ نے مداومت فرمائی ہے ان کا ترک مذموم ہو گا جیسے طعام میں ہمیشہ داہنا ہاتھ استعمال فرمانا، جوتا ہمیشہ پہلے داہنے پیر میں پہننا وغیرہ ۔ ہاں جن پر مداومت نہیں فرمائی ان کا ترک مذموم اور قابل ملامت نہ ہو گا مثلاً: ثرید کھانا، عجوہ کھانا وغیرہ، ہاں ان امور کو بجا لانے والا ثواب پائے گا اور عامل سنت ہو گا ۔ ملاحظہ ہو علامہ سید احمد طحطاوی رحمه الله فرماتے ہیں:
والسنة نوعان سنة هدي كالأذان والإقامة وتركها يوجب الإساء ة، وسنة زائدة وتركها لا يوجبها كسنة النبي ﷺ في قعوده وقيامه ولبسه وأكله وشربه ونحو ذلك كما في السراج ولكن الأولي فعلها لقوله تعالى: ﴿لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة﴾ (الأحزاب: ۳۳). (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱۹٤، باب الاذان، ط: قديمي).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة، والأذان والإقامة ونحوها، وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي ﷺ في لباسه وقيامه وقعوده
قد مثلوا لسنة الزوائد أيضاً بتطويله عليه الصلاة والسلام القراءة والركوع والسجود، ولا شك في كون ذلك عبادة، وحينئذٍ فمعني كون سنة الزوائد عادة أن النبي ﷺ واظب عليها حتى صارت عادة له ولم يتركها إلا أحياناً؛ لان السنة هي الطريقة المسلوكة في الدين، فهي في نفسها عبادة وسميت عادة لما ذكرنا، ولما لم تكن من مكملات الدين وشعائره سميت سنة الزوائد، بخلاف سنة الهدي، وهي السنن المؤكدة القريبة من الواجب التي يضلل تاركها؛ لان تركها استخفاف بالدين
فاغتنم تحقيق هذا المحل فإنك لا تجده في غير هذا الكتاب، والله تعالى أعلم بالصواب. (فتاوى الشامي: ۱/۱۰۳، مطلب في السنة وتعريفها، سعيد).
مزید تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کر لی جائے ۔
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ لباس وغیرہ امورِ عادیہ میں بھی آپ ﷺ کی اتباع سنت ہے اور خیر و برکت کا باعث ہے ۔ اور عمامہ آنحضرت ﷺ کا اکثر و بیشتر اوقات کا معمول تھا لہذا سنت ہے ۔ اور سنت کی دوسری قسم زوائد میں داخل ہے ۔
عمامہ سے متعلق چند احادیث ملاحظہ ہوں:
عن جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ دخل مكة وقال قتيبة: دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء بغير إحرام. (رواه مسلم، رقم: ۱۳۵۸).
ترجمہ: حضرت جابر
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔
وفي رواية له عن جعفر بن عمرو بن حريث عن أبيه رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ خطب الناس وعليه عمامة سوداء. (رواه مسلم، رقم: ۱۳۵۹).
ترجمہ: حضرت عمرو بن حریث رضی الله عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا تو آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا ۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله ﷺ توضأ وعليه عمامة قطرية، فأدخل يده من تحت العمامة فمسح مقدم رأسه ولم ينقض العمامة. (رواه أبو داود، رقم: ۱٤۷، وابن ماجه، رقم: ۵٦٤).
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ پر قطری عمامہ تھا آپ نے عمامہ کے نیچے اپنا ہاتھ داخل فرمایا اور سر کے اگلے حصہ کا مسح فرمایا اور عمامہ کو نہیں کھولا ۔
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: أن رسول الله ﷺ خطب الناس وعليه عمامة دسماء. (رواه الترمذي في الشمائل، ص ۲۳۳، رقم: ۱۱۸، بتحقيق الشيخ محمد عوامة، والبخاري: ۱/۵۳٦).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ پر سیاہ عمامہ تھا ۔
عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله وملائكته يصلون على أصحاب العمائم يوم الجمعة. رواه الطبراني في الكبير وفيه أيوب بن مدرك قال ابن معين: إنه كذاب. (مجمع الزوائد: ۵/۱۲۱، باب اللباس للجمعة، دار الفكر).
ترجمہ: حضرت ابو درداء
رضي الله عنه
فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی اور اس کے فرشتے جمعہ کے دن عمامہ باندھنے والوں پر دعا رحمت کرتے ہیں ۔
آپ ﷺ نے عمامہ باندھنے کا حکم فرمایا ۔ ملاحظہ ہو :
عن عبادة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: عليكم بالعمائم فإنها سيماء الملائكة وأرخوها خلف ظهوركم. (رواه البيهقي في شعب الإيمان، رقم: ۵۸۵۱، وفيه عيسى بن يونس قال الدارقطني: مجهول).
حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عمامہ باندھو یہ حضراتِ ملائکہ کی خاص نشانی ہے اور اس کے کنارے کو پشت پر ڈال دو ۔
عن ابن عباس رضي الله عنه اعتموا تزدادوا حلماً. رواه البزار والطبراني، وفيه عبيد الله بن أبي حميد وهو متروك. وفي إسناد الطبراني عمران بن تمام وضعفه أبو حاتم بحديث غير هذا وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۵/۱۱۹، دار الفكر).
حضرت عبد اللہ بن عباس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا عمامہ باندھا کرو، اس سے حلم و بردباری میں اضافہ ہو گا ۔
وعن أبي المليح بن أسامة عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: اعتموا تزدادوا حلماً. رواه الطبراني وفيه عبيد الله بن أبي حميد وهو متروك. (مجمع الزوائد: ۵/۱۱۹، دار الفكر).
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: عليكم بالعمائم فإنها سيماء الملائكة وأرخو لها خلف ظهوركم. رواه الطبراني وفيه عيسى بن يونس قال الدارقطني: مجهول. (مجمع الزوائد: ۵/۱۲۰، دار الفكر).
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر
رضي الله عنه
فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم عمامہ لازم پکڑو اس لیے کہ یہ فرشتوں کی نشانی ہے اور اس کے شملہ کو پیچھے لٹکاؤ ۔
عن عبد الأعلى بن عدي أن رسول الله ﷺ دعا على بن أبي طالب رضي الله عنه يوم غدير خم فعممه وأرخي عذبة العمامة من خلفه ثم قال: هكذا فاعتموا فإن العمائم سيماء الإسلام وهي حاجز بين المسلمين والمشركين. (أخرجه أبو نعيم في معرفة الصحابة: ٤/۳۱۳، ط: بيروت، وذكره المقدسي في ذخيرة الحفاظ: ۳/۱۳۳٦).
نبی کریم ﷺ نے غدیر خم کے دن حضرت علی
رضي الله عنه
کو بلایا اور عمامہ باندھا اور اس کا شملہ پیچھے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اس طرح عمامہ باندھو عمامہ خاص اسلام کی نشانی ہے، یہ مسلمان اور کافروں کے درمیان باعثِ امتیاز ہے ۔
عمدۃ القاری میں ہے:
وفي كتاب الجهاد لابن أبي عاصم حدثنا أبو موسى حدثنا عثمان بن عمر عن الزبير ابن جوان عن رجل من الأنصار قال: جاء رجل إلى ابن عمر رضي الله عنه فقال: يا أبا عبد الرحمن العمامة سنة؟ فقال: نعم. (عمدة القاري: ۱۵/۲۲، ملتان).
وفي "الشمائل المحمدية" للباجوري (ص ۲۲۷): والعمامة سنة لا سيما للصلاة وبقصد التجمل لأخبار كثيرة فيها. (وكذا في شرح الشمائل للمناوي، ص ۱٦۵).
وفي فيض القدير: ذكره ابن العربي قال: والعمامة سنة المرسلين وعادة الأنبياء والسادة وقد صح عن المصطفي ﷺ أنه قال: لا يلبس المحرم القميص ولا العمامة فدل على أنها كانت عادة أمر باجتنابها حال الإحرام وشرع كشف الرأس إجلالاً لذي الجلال. (فيض القدير: ٤/ ۵٦٤، دار الكتب العلمية).
خصائل نبوی میں ہے:
عمامہ کا باندھنا سنتِ مستمرہ ہے نبی آ کرم ﷺ سے عمامہ باندھنے کا حکم بھی نقل کیا گیا ہے ۔ (خصائل نبوی، ص
۸۸
) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
پگڑی باندھنا آنحضرت ﷺ کی سنت ہے باندھے تو ثواب ہے نہ باندھے تو گناہ نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۵٤
) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
سوال: عمامہ سنت ہے یا عادتِ نبوی؟ جواب: عمامہ سنت ہے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱۵۹
، دار الاشاعت) ۔
شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں:
بدانکہ پوشیدنِ عمامہ سنت است و احادیث بسیار در فضل آں وارد شدہ (اشعۃ اللمعات:
۳
/
۵٤۵
، ط: کتب خانہ مجیدیہ، ملتان) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۹٤
، جامعہ فاروقیہ، و فتاوی فریدیہ:
۲
/
۲۸٤
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.