عورت کی آواز سننے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 7 #60Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

کیا چینل اسلام سننے کی ترغیب دینا چاہیے یا نہیں؟ کیا عورت کی آواز ستر میں داخل ہے یا نہیں؟ کیا عورت کسی اجنبی شخص کے ساتھ بات کر سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عورت کی آواز کا دار و مدار خوفِ فتنہ پر ہے اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو محض آواز سننے میں چنداں حرج نہیں ہے جب کہ آواز میں لچک نہ ہو، عام لہجہ میں بات کرے، ہاں اگر فتنہ کا اندیشہ ہے تو سننا جائز نہیں ہے، البتہ چونکہ فی زماننا فتنہ فساد لوگوں پر غالب ہے اس لیے بلا ضرورت اجنبیہ کی آواز سننے سے احتراز کرنا چاہیے ۔ اگر چہ اصح قول کے مطابق عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں ہے ۔ ہاں ضروری بات چیت کی اجازت ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:

قوله وصوتها يعني أنه ليس بعورة قوله على الراجح عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه وفي النهر هو الذي ينبغي اعتماده ومقابله ما في النوازل نغمة المرأة عورة وتعلمها القرآن من المرأة أحب قال عليه الصلاة والسلام: التسبيح للرجال والتصفيق للنساء فلا يحسن أن يسمعها الرجل، وفي الكافي: ولا تلبي جهراً لأن صوتها عورة ومشي عليه في المحيط في باب الأذان، بحر، قال في الفتح وعلي هذا لو قيل: إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجهاً ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام من التسبيح بالصوت لا علام الإمام بسهوه إلى التصفيق.
أقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير وكذا في الإمداد ثم نقل عن خط العلامة المقدسي ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع ولا يظن من لا فطنة عنده إنا إذا قلنا صوت المرأة عورة إنا نريد بذلك كلامها لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام من النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة، قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة. (فتاوى الشامي: ۱/٤۰٦، مطلب في ستر العورة، سعيد). وينظر: (فتاوى الشامي: ٦/۳٦۹، سيعد).

احکام القرآن میں حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:

حكم صوت المرأة: وقع الخلاف في صوت المرأة، أنه من العورة فلا يجوز أن تتكلم بحيث يسمعها الأجانب، أو ليس بعورة فيرخص لها في التكلم، والحق الحقيق عند أرباب التحقيق، وهو أن صوت المرأة ليس بعورة في نفسه إلا أنه قد يكون سبباً للفتنة، فكان من القسم الثاني من سد الذرائع، فدار حكمه على الفتنة وعدمها فحيث خيفت الفتنة حرام إبدائه وحيث لا، فلا، كيف وقد حرم الله سبحانه وتعالى إظهار صوت الخلخال وأمثاله فقال: ولا يضربن بأرجلهن، لمظنة الفتنة فكيف يجوز إظهار صوت نفسها مطلقاً؟ (أحكام القرآن: ۳/٤۸۲، ط: إدارة القرآن).

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
نا محرم سے بات کرنے کی اگر ضرورت پیش آئے تو عورت کو چاہیے کہ ایسے انداز سے بات کرے کہ نا محرم کو اس کی طرف کشش نہ ہو، زبان میں لوچ نہ ہو بلکہ ایک طرح کا اکھڑ پن اور درشتی ہو ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
٦۸
، طبع جدید) ۔
معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
کیا عورت کی آواز فی نفسہٖ ستر میں داخل ہے اور غیر محرم کو آواز سنانا جائز ہے؟ اس معاملہ میں حضراتِ ائمہ کا اختلاف ہے، امام شافعی رحمه الله کی کتب میں عورت کی آواز کو ستر میں داخل نہیں کیا گیا، حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں، ابن ہمام رحمه الله نے نوازل کی روایت کی بنا پر ستر میں داخل قرار دیا ہے، اسی لیے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ازواجِ مطہرات نزولِ حجاب کے بعد بھی پسِ پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں اس مجموعہ سے راجح اور صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے (جصاص) اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضرورت عورتیں پس پردہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں ۔ واللہ اعلم ۔ (معارف القرآن:
٦
/
٤۰٦
، و
۷
/
۱۲۳
، ادارۃ المعارف) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.