عورت کا مجمع میں تقریر کرنے کا حکم:
Question
کیا عورت پردہ کی رعایت کے ساتھ مردوں کے مجمع میں تقریر کر سکتی ہے؟
Answer
مذکورہ بالا تفصیلی فتوی میں یہ بات وضاحت کے ساتھ مذکور ہوئی کہ اصح قول کے مطابق عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں ہے لیکن خوفِ فتنہ ہو تو اظہار سے روکا جائے گا، چونکہ مردوں کے مجمع میں فتنہ کا اندیشہ ہے لہذا مردوں کے مجمع میں تقریر نہیں کرنی چاہیے، ہاں خاص عورتوں کا مجمع ہو تو وعظ و نصیحت کی اجازت ہے ۔
قال في مجمع الأنهر: إن المرأة إن رفعت صوتها فقد باشرت منكراً؛ لأن صوتها عورة
أقول: وفيه كلام؛ لأن صوتها مطلقاً ليس بعورة، وإلا يستلزم أن يكره تكلمها مع الأجنبي وليس كذلك، بل يكره رفع صوتها. (مجمع الأنهر، باب الاذان).
قال في حاشية البحر الرائق: إنا إذا قلنا صوت المرأة عورة إنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. (منحة الخالق: ۱/۲۷۰، باب شروط الصلاة، كوئته). وينظر: (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۲٤۲، و۵٤۰، ط: قديمي، والبحر الرائق: ۱/۲۷۰، ط: كوئته).
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله نے مردوں کے مجمع میں بھی تقریر کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
شریعتِ مقدسہ اسلامیہ عورتوں کو کسی اسلامی خدمات سے جو ان کے لائق ہو منع نہیں کرتی پردہ کی محافظت کے ساتھ عورت مردوں کے مجمع میں تقریر کر سکتی ہے ۔ (کفایت المفتی:
۲
/
٦۹
، ط: دار الاشاعت، کراچی) ۔
لیکن حضرت مفتی صاحب رحمه الله کے زمانہ میں شرم و حیا غالب ہو گی، فی زماننا لوگ جانتے ہی نہیں کہ شرم و حیا کیا چیز ہے ۔ بلکہ عریانی اور فحاشی کا سیلاب موجزن ہے ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
نا محرموں کے سامنے بے پردہ تقریر کرنا جائز نہیں، حرام ہے، اور بوقتِ ضرورت پر دے کے ساتھ گفتگو جائز ہے، مگر لب و لہجے میں سختی و درشتی ہونی چاہیے، جس سے دوسرے آدمی کو عورت کی طرف کشش پیدا نہ ہو ۔ آج کل جلسوں میں خواتین و حضرات کا مشترکہ خطاب ہوتا ہے، یہ جاہلیتِ جدیدہ کی بدعتِ سیۂ ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۹۲
، طبع جدید) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: اگر مقرر عورت برقع اوڑھ کر مردوں کے مجمع میں تقریر کرے تو کیسا ہے؟
الجواب: عورت کا مردوں کے ساتھ مسجد میں جا کر نماز پڑھنا بھی علمائے کرام نے ممنوع لکھا ہے، خواہ برقع اوڑھ کر جائے یا بلا برقع اوڑھے، کیوں کہ اس میں بہت مفاسد اور فتن ہیں، لہذا عورت کا مردوں کے مجمع میں جا کر تقریر کرنا بھی (بلا شدید ضرورت) منع ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۱۹٤
، جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر صرف مستورات کا مجمع ہو اور آواز نا محرموں تک نہ پہونچے تو عورت کا وعظ کہنا اور اپنی بات بتانا درست ہے ۔ (فتاویٰ محمودیہ:
۱۹
/
۱۹٦
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.