لڑکیوں کے لیے قراء ت، نعت پڑھنے کا حکم:
Question
کیا بالغ لڑکیاں مرد اور عورتوں کے مخلوط مجمع میں قراء ت، نعت وغیرہ پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟
Answer
بالغ لڑکیاں اور عورتیں خوش آوازی کے ساتھ مردوں کو سنانے کے لیے تلاوت، نعت وغیرہ نہ پڑھیں، اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے، ہاں مخلوط اجتماع کے بغیر صرف عورتوں کے مجمع میں سادہ طریقہ پر تلاوت کریں اور خوش آوازی کا مظاہرہ نہ کریں تو شرعاً اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ فتنہ نہ ہو ۔
دلائل ما قبل میں تفصیل سے مذکور ہوئے حاصل یہ ہے کہ اصح قول کے مطابق عورت کی آواز ستر میں داخل نہیں ہے تاہم فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے روکا جائے گا، اور مردوں کے مجمع میں پڑھنا فتنہ سے خالی نہیں، لہذا اجتناب کرنا چاہیے ۔ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
شادی نکاح کے موقع پر دف بجانا جائز ہے اور عورتوں کو عورتوں میں گیت گانا دو شرطوں سے جائز ہے ایک شرط یہ ہے کہ غیر محرم مردوں کے کان میں ان کی آواز نہ پہنچے دوسری شرط یہ کہ گیت میں فحش مضمون اور ناجائز کلام نہ ہو ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۲۰۰
، دار الاشاعت) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
اصل مقصد فتنہ کے دروازوں کو بند کرنا ہے، جہاں غیر محرم تک آواز پہنچنے اور پہنچانے میں فتنہ کا اندیشہ ہو وہاں اس سے احتیاط کرنا واجب ہے، جیسے کسی غیر محرم کو نعت یا حمد سنانا الخ ۔ (کتاب الفتاوی:
٦
/
۹۹
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.