خسر کے والد کے ساتھ سفر کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 7 #64Urdu
Vol. 7باب (٤): احکام اللباس

Question

ایک عورت کے لیے اس کے خسر کے والد محرم ہے یا نہیں یعنی ان کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عورت کے لیے اس کے خسر کے والد محرم ہے اور ان کے ساتھ حج، عمرہ وغیرہ کا سفر کرنا جائز اور درست ہے جب کہ خوفِ فتنہ نہ ہو ۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:

وتحرم موطوءات آبائه وأجداده وإن علوا ولو بزني والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح وموطوءات أبنائه وأبناء أولاده وإن سفلوا ولو بزني والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح. (فتاوى الشامي: ۳/۲۸، سعيد).
بدائع الصنائع
میں ہے:

وحليلة ابن الابن وابن البنت وإن سفل تحرم بالإجماع أو بما ذكرنا من المعني لا بعين النص لان ابن الابن يسمي ابناً مجازاً لا حقيقة فإذا صارت الحقيقة مرادة لم يبق المجاز مراداً لنا. (بدائع الصنائع: ۲/۲٦۰، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.