سونے کے پرزے والی گھڑی کا حکم:
Question
اگر کسی کی گھڑی ایسی ہے جس کی چین میں سونا ملا ہوا ہے یا کچھ پرزے سونے کے ہیں تو ایسی گھڑی کا استعمال جائز ہوگا یا نہیں؟
Answer
مکمل سونے کی گھڑی کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے ہاں گھڑی کی چین میں سونا ملا ہوا ہے یا کچھ پرزے سونے کے ہیں اور سونا مغلوب ہے تو اس کے استعمال کی اجازت ہو گی ۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کا پیالہ مبارک ٹوٹ گیا تو آپ نے پھٹن کی جگہ چاندی سے جوڑ دیا تھا ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن قدح النبي ﷺ انكسر فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة قال عاصم: رأيت القدح وشربت فيه. (رواه البخاري، رقم: ۳۱۰۹).
وفي رواية قال: قدحاً كان للنبي ﷺ فيه ضبة فضة. (أخرجه الامام أحمد، رقم: ۱۲٤۱۱).
ملاحظہ ہو جدید فقہی مسائل میں ہے:
سونے کی گھڑی کا استعمال تو مطلق جائز نہ ہوگا اور غالباً ایسی گھڑی کا استعمال بھی کراہت سے خالی نہ ہوگا جس کا کیس چاندی کاہو اور وہ نمایاں ہو، اس لیے کہ انگوٹھی کے علاوہ دوسری استعمالی چیزوں میں بھی چاندی کے استعمال کو فقہاء مکروہ قرار دیتے ہیں:
وكذا الأكل بملعقة الذهب والفضة وكذا الاكتحال بميل الذهب والفضة. (خلاصة الفتاوى: ٤ /۳۷۱، كتاب الكراهية)
ہاں اگر اس کا کوئی پرزہ سونے کا ہو تو درست ہوگا اور چاندی میں تو بدرجہ اولی ۔ چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں:
ولا بأس بمسامير الذهب والفضة. (الهندية: ۵/۳۳۵)
اسی طرح اندر کی مشین سونے چاندی کی بنی ہو اور اوپر کا کیس لوہے کا ہو تو بھی اجازت ہو گی ۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱٦
) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
سوال: راڈو گھڑی میں جو سونے کے پرزے لگے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک گھڑی میں پلاٹینم گولڈ جو کہ سونے سے بھی دگنی قیمتی دھات ہے، لگا ہو، اس کی گھڑی پہننا جائز ہے؟
جواب: سونا اگر ہوتا ہے تو براہِ راست اس کا استعمال نہیں ہوتا، بلکہ گھڑی کے تابع ہو کر ہوتا ہے، اس لیے جائز ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۷۸
، طبع جدید) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
یہ ولایتی گھڑیاں جن کا کیس سونے چاندی کا کیا جاتا ہے اس میں چونکہ دوسری دھاتیں غالب اور سونا چاندی مغلوب ہوتا ہے اس لیے یہ سونے چاندی کے حکم میں نہیں بلکہ عام دھاتوں کی طرح اسباب و متاع میں داخل ہیں (صرح بہ الہدایہ و غیرہا) لہذا ان کا استعمال مردوں کے لیے جائز ہے اور زکوۃ بھی مثل سونے چاندی کے ان پر نہیں آتی، البتہ اگر تجارت کے لیے گھڑیاں ہوں تو عام تجارتی مال کی طرح ان پر بھی زکوۃ آئے گی فاؤنٹین پین میں بھی جو نب ہوتا ہے وہ بھی غالباً اصلی سونے کا نہیں ہوتا اس لیے جائز ہے ۔ (امداد المفتین:
۲
/
۸۱۵
، ط: دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.