اسٹیل کی چین والی گھڑی پہننے کا حکم:
Question
گھڑی کی چین اگر اسٹیل کی بنی ہوئی ہو تو اس کا استعمال مردوں کے لیے درست ہے یا نہیں؟ کیا گھڑی کو انگوٹھی پر قیاس کرتے ہوے ناجائز یا مکروہ کہا جائے گا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مردوں کے لیے اسٹیل کی چین والی گھڑی کا استعمال جائز اور درست ہے ۔ گھڑی کی چین کو انگوٹھی پر قیاس کرنا بعید ہے، اگر اسٹیل لوہے کی قسم ہو تو اسٹیل کی انگوٹھی کو مکروہ کہا جائے گا اور چین کو درست کہا جائے گا نیز انگوٹھی کے استعمال کی ممانعت سے چین کی ممانعت لازم نہیں آتی، ورنہ پھر لوہے کی زرہ بھی ناجائز ہو گی جب کہ یہ جائز ہے نیز چین میں ضرورت بھی ہے چمڑے کا پٹہ باندھنا مشکل ہے اور ٹوٹنے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔
نبی پاک ﷺ نے لوہے کی زرہ زیب تن فرمائی تھی ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن جده عبد الله بن الزبير بن العوام قال: كان على النبي ﷺ درعان يوم أحد
الخ. (رواه الترمذي، وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب، رقم: ۳۷۳۸).
بخاری شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ وهو في قبة: اللهم إني أنشدك عهدك ووعدك اللهم إن شئت لم تعبد بعد اليوم فأخذ أبوبكر رضي الله عنه بيده فقال: حسبك يا رسول الله! فقد ألححت على ربك وهو في الدرع
الخ. (رواه البخاري، رقم: ۲۹۱۵).
عن عائشة رضي الله عنه قالت: توفي رسول الله ﷺ ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعاً من شعير وقال يعلي: حدثنا الأعمش درع من حديد وقال معلي: حدثنا عبد الواحد حدثنا الأعمش وقال: رهنه درعاً من حديد. (رواه البخاري، ۲۹۱٦).
در مختار میں ہے:
ولا يكره في المنطقة حلقة حديد أو نحاس وعظم. (الدر المختار: ٦/۳۵۹، سعيد).
کمر بند میں لوہے یا تانبے یا ہڈی کا حلقہ لگا سکتے ہیں ۔ نیز تانبے لوہے کے برتن بھی استعمال کر سکتے ہیں ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
آج کل گھڑیوں میں لوہا اور اسٹیل کی چین کا استعمال عام ہے، یہ جائز ہے گھڑی کی حفاظت کے لیے اس طرح کی چین حاجت کا درجہ رکھتی ہے اور فقہاء کا اصول ہے کہ حاجت بھی بعض اوقات ضرورت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے الخ ۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۲۱
) ۔ (و کذا فی منتخبات نظام الفتاوی:
۱
/
۳۸۰
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.