گھڑی کی چین کو خاتمِ حدید پر قیاس کرنے کا حکم:
Question
کیا گھڑی کی چین کو خاتمِ حدید پر قیاس کرنا اور ناجائز کہنا صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
گھڑی کی چین کو زرہ یا تلوار کے بیلٹ پر قیاس کرنا درست ہے انگوٹھی پر قیاس کرنا درجِ ذیل وجوہات کی بنا پر بعید معلوم ہوتا ہے اور تلوار کے بیلٹ میں لوہے کا لگانا بطورِ زینت جائز ہے ۔
قال سليمان بن حبيب سمعت أبا أمامة رضي الله عنه يقول: لقد فتح الفتوح قوم ما كانت حلية سيوفهم الذهب ولا الفضة إنما كانت حليهم العلابي والآنك والحديد. (رواه البخاري: ۱/٤۰۷، باب حلية السيوف).
قوله: العلابي: جمع علباء، وهو عصب العنق، وهما علباوان يميناً وشمالاً، كانت العرب تشد العصب على غلف سيوفها وهو رطب، ثم يجف فيصير كالقد. والآنك: الرصاص الأبيض وقيل: الأسود، وقيل: الخالص منه.
(۱) گھڑی چین کے ساتھ معلق ہے جیسے تلوار پٹے اور پر تلے کے ساتھ معلق رہتی ہے ۔
(۲) گھڑی کی چین گھڑی کی تابع ہے جیسے تلوار کا بیلٹ تلوار کے تابع ہے ۔ جب کہ انگوٹھی مقصود بالزینت ہے ۔
(۳) تلوار مجاہد کے لیے ضروری ہے اور گھڑی مسلمان کے اوقاتِ صلوات کے لیے ضروری ہے کیوں کہ جیبی گھڑی میں مشقت ہے ۔
(٤) تلوار کا پٹہ تلوار کے لیے ضرورت کے درجہ میں ہے جب کہ انگوٹھی اس زمانہ میں صرف زینت کے لیے ہے، کیوں کہ اب اس سے مہر لگانے کا کام متروک ہو چکا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی مفتی محمود میں ہے:
گھڑی انسانی ضرورت کی چیز ہے اور زنجیری یا چین اس کی حفاظت کے لیے ہے ۔ جیسا کہ تلوار کے لیے دونوں سروں پر ایک یا دو حلقے ہوتے ہیں ۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر یہ حلقے لوہے، تانبے، پیتل کے ہوں تو جائز ہیں اور اس میں کراہت نہیں ۔ اس سے بظاہر لوہے وغیرہ کی چین کی اجازت مفہوم ہوتی ہے ۔
قال في الشامية (٦/۳۵۹): ولا يكره في المنطقة حلقة حديد أو نحاس وعظم وأيضاً تحت قوله: ولا يتختم إلا بالفضة أي بخلاف المنطقة فلا يكره فيها حلقة حديد ونحاس
۔ (فتاوی مفتی محمود:
۱۰
/
۳۰۱
، و ص
٤۰۳
، و ص
۲۵۱
) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۳٦٤
، جامعہ فاروقیہ، و احسن الفتاوی:
۲۱۳/۸
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.