سفید بال چننے کا حکم:
Question
اگر جوان آدمی کے سر میں چند سفید بال آ جائیں تو ان کا چننا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ نوجوان آدمی کے سر میں چند بال سفید آ جائیں کسی بیماری یا دوائیوں کی وجہ سے تو ان کا چننا بطورِ ازالہ عیب جائز ہے ۔ ہاں بطورِ زینت ایسا کرنا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
وفي الخلاصة عن المنتقي كان أبو حنيفة رحمه الله لا يكره نتف الشيب إلا على وجه التزين، وينبغي حمله على القليل أما الكثير فيكره لخبر أبي داود: لا تنتفوا الشيب فإنه نور المسلم يوم القيامة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۵۲٦، باب الجمعة، قديمي، وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر: ٤/۲۰۳).
ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:
قال بعض العلماء: لا يكره نتف الشيب إلا على وجه التزين. (مرقاة المفاتيح: ۸/۳۰٦، باب الترجل، ط: إمدادية، ملتان).
قال في الدر المختار: ولا بأس بنتف الشيب. وفي رد المحتار: قيده في البزازية بأن لا يكون على وجه التزين. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۷، سعيد).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ازالہ عیب کے لیے سفید بال چننا جائز ہے اور قبل از وقت بالوں کا سفید ہونا عیب ہے لہذا جائز ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۸
/
۱۸۳
، طبع قدیم) ۔
اور ابو داود شریف کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ سفید بال نہیں نکالنا چاہیے تو علامہ طحطاوی رحمه الله نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سفید بال زیادہ ہو جائیں تو حدیث کی بنا پر ممنوع ہے ۔ ورنہ ازالہ عیب درست ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.