مصنوعی بال جوڑنے میں تلبیس کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #129Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

بعض حضرات فرماتے ہیں مصنوعی بال لگانے میں التباس اور دھوکادہی ہوتی ہے اس کا کیا جواب ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اصل انسانی بال لگانے میں تزویر اور تلبیس کا اندیشہ ہے، پلاسٹک یا ڈورے وغیرہ میں یہ اندیشہ کم ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے جہاں اون وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے وہاں تزویر کو بیان نہیں فرمایا اس سے پتا چلتا ہے کہ ڈورے اور اون وغیرہ میں چونکہ بعینہٖ بال نہیں ہیں لہذا دھوکادہی کا امکان کم ہے، ہاں اگر دھوکا دینے ہی کے لیے کوئی استعمال کرے تو ممنوع اور ناجائز ہوگا ۔ عام طور پر مصنوعی بال لگانا زینت یا ازالہ عیب کے لیے ہوتا ہے ۔ ہاں ارادی طور پر کافرات اور فاسقات کی مشابہت سے بچنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

قوله سواء كان شعرها أو شعر غيرها، لما فيه من التزوير

وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف رحمه الله، وفي الخانية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاً من الوبر. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد).

مزید عبارات ما قبل میں مذکور ہوئیں، تکرار سبب طوالت ہے ۔ نیز علمائے شافعیہ میں سے امام غزالی رحمه الله اور حافظ ابن حجر رحمه الله نے بھی اسی طرح بیان فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو : (الوسیط فی المذہب:
۲
/
۱٦۹
، و فتح الباری:
۱۰
/
۳۷۵
) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.