قابل احترام شخصیت کی قدم بوسی کا حکم:
Question
کسی قابل احترام شخصیت کے پاؤں کو بوسہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ بظاہر اس میں سجدہ کی کیفیت بنتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بعض فقہاء نے مفاسد و منکرات کی وجہ سے بطورِ سداً للباب منع کیا ہے، اگر چہ فی نفسہٖ جائز اور مباح ہے تاہم اگر کسی بزرگ کی تعظیم و تکریم کی غرض سے حدودِ شریعت میں رہتے ہوے قدم بوسی یا دست بوسی کی جائے تو ٹھیک ہے جب کہ تکبر پیدا نہ ہو اور سجدہ کی شکل نہ بنتی ہو ۔
بعض احادیث سے قدم بوسی و دست بوسی جائز معلوم ہوتی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
عن صفوان بن عسال رضي الله عنه قال: قال يهودي لصاحبه: اذهب بنا إلى هذا النبي، فقال صاحبه: لا تقل نبي إنه لو سمعك كان له أربعة أعين فأتيا رسول الله ﷺ وسألاه عن تسع آيات بينات فقال لهم: لا تشركوا بالله شيئاً ولا تسرفوا ولا تزنوا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا تمشوا ببرئ إلى ذي سلطان ليقتله ولا تسحروا
فقال: فقبلوا يده ورجله فقالا: نشهد إنك نبي
(رواه الترمذي، رقم ۲۷۳۳، وقال: هذا حديث حسن صحيح).
في رواية للنسائي عنه قال: فقبلوا يديه ورجليه. (رقم: ٤۰۷۸).
وعن بريدة قال: جاء أعرابي إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله قد أسلمت فأرني شيئاً ازدد به يقيناً، فقال: فما الذي تريده؟ قال: ادع تلك الشجرة فلتأتك
فقال الأعرابي: يا رسول الله! ائذن لي أن أقبل رأسك ورجلك، فأذن له، ثم قال: يا رسول الله! ائذن لي أن أسجد لك، فقال: لا يسجد أحد لا حد
الخ. (ذكره ابن الملقن في البدر المنير: ۹/٤٦، ط: الرياض).
محمد بن ابراہیم المقری نے اپنے رسالہ
"الرخصة في تقبيل اليد"
میں چند احادیث ذکر کی ہیں ملاحظہ کیجیے:
عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه قال: لما نزلت توبتي أتيت النبي ﷺ فقبلت يده وركبتيه.
عن أسامة بن شريك قال: قمنا إلى النبي ﷺ فقبلنا يده.
عن ابن عمر رضي الله عنه أنه قبل يد النبي ﷺ.
عن هود القصري العبدي، عن جده قال: بينما رسول الله ﷺ يحدث أصحابه إذ قال لهم: إنه سيطلع عليكم من هذا الوجه ركب هم من خير أهل المشرق
حتى أتوا النبي ﷺ وأخذوا بيده فقبلوها وقعدوا إليه، وبقي الأشج، وهو أصغر القوم، فأناخ الإبل وعقلها وجمع متاع القوم، ثم أقبل يمشي على تؤدة حتى أتي النبي ﷺ فأخذ بيده فقبلها
الخ.
نا أبو عبد الملك القاري قال: سمعت يحيى بن الحارث يقول: قال لنا واثلة بن الأسقع: ترون كفي هذه، بايعت بها رسول الله ﷺ، قال: وقلت: ناولني يدك فناولنيها، فأخذتها فقبلتها.
عن جابر رضي الله عنه أن عمر رضي الله عنه قام إلى النبي ﷺ فقبل يده.
عن ذكوان أن رجلاً قال، أراه يقال له صهيب، قال: رأيت علياً رضي الله عنه يقبل يدي العباس أو رجله ويقول: أي عم، ارض عني.
عن أبي فضالة بن عبد الله قال: حدثني أبي عبد الله بن أبي بكر وكان عبد الله قد رأي النبي ﷺ، أن عامر بن الطفيل انتهى إلى النبي ﷺ، فقال له النبي ﷺ يا عامر، أسلم تسلم
حتى أتي النبي ﷺ فقبل قدميه، قال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأنك رسول الله آمنت بك وبما أنزل عليك
الخ.
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما قدم جعفر على أصحاب رسول الله ﷺ تلقاه رسول الله ﷺ فاعتنقه وقبل بين عينيه.
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: استأذن زيد بن حارثة رضي الله عنه على النبي ﷺ، فاعتنقه وقبله.
وعن أبي بزة قال: دخلت مع مولاي عبد الله بن السائب على رسول الله ﷺ، فقمت إلى رسول الله ﷺ فقبلت رأسه ويده ورجله.
عن مجاهد عن ابن عباس رضي الله عنه قال: صنع رسول الله ﷺ إلى معروفاً، فقبلت يد رسول الله ﷺ خمس مرات.
عن أم المؤمنين عائشة رضي الله تعال عنها أنها قالت: ما رأيت أحداً من خلق الله كان أشبه حديثاً وكلاماً برسول الله ﷺ من فاطمة رضي الله تعالى عنها وكانت إذا دخلت عليه رحب بها وقام إليها، فأخذ بيدها وقبلها وأجلسها في مجلسه، وكان إذا دخل عليها قامت إليه فرحبت به قبلته
الخ.
عن أبي الهيثم التيهان، أن النبي ﷺ لقيه فاعتنقه والتزمه وقبله. (الرخصة في تقبيل اليد لمحمد بن إبراهيم المقرئ، ص۳. ۳۰).
وعن الزهري قال: أخبرني أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ خرج فقام عبد الله بن حذافة فقال: من أبي فقال: أبوك حذافة ثم أكثر أن يقول: سلوني فبرك عمر رضي الله عنه على ركبتيه فقال: رضينا بالله رباً وبالإسلام ديناً وبمحمد ﷺ نبياً فسكت. (رواه البخاري، رقم: ۹۳).
للاستزادة انظر: (القبلة والمعانقة والمصافحة لابن الاعرابي).
فقہاء کی عبارات ملاحظہ کیجیے:
طلب من عالم أو زاهد أن يدفع إليه قدمه ويمكنه من قدمه ليقبله أجابه وقيل لا يرخص فيه، وفي رد المحتار: قوله يدفع إليه قدمه، يغني عنه ما في المتن قوله أجابه لما أخرجه الحاكم أن رجلاً أتي النبي ﷺ فقال: يا رسول الله
ثم أذن له فقبل رأسه ورجليه
وقال صحيح الإسناد، من رسالة الشرنبلالي. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۸۳، سعيد).
قال في مجمع الأنهر: وقال شرف الأئمة: لو طلب من عالم أو زاهد أن يدفع إليه قدمه ليقبله لم يجبه وقيل أجابه لان الصحابة رضي الله تعالى عنهم يقبلون أطراف النبي ﷺ كما في الاختيار. (مجمع الأنهر: ٤/۲۰۵، ط: بيروت).
تقبيل يد العالم والسلطان العادل جائز. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۹).
قال في حاشية الطحطاوي: ثم قال الشرنبلالي: فعلم من مجموع ما ذكرنا إباحة تقبيل اليد والرجل. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۹۲). (وكذا في البحر الرائق: ۸/۲۲۱، ۲۲٦، بيروت، والجوهرة النيرة، كتاب الحظر والإباحة، والمحيط البرهاني: ۵/ ۲۷۹، دار إحياء التراث، وتبيين الحقائق: ٦/۲۵، وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۲۱۵، بولاق).
شرح النقایہ میں مرقوم ہے:
وفي الجامع الصغير: ويكره أن يقبل فم الرجل أو يده أو شيئاً منه
وقال أبو يوسف رحمه الله: لا بأس بالتقبيل والمعانقة.. ثم لا بأس بتقبيل يد العالم والسلطان العادل على سبيل التبرك، وكذا تقبيل يد الأبوين والشيخ والرجل الصالح
الخ. (شرح النقاية: ٤/٤۱، كتاب الكراهية).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
احوط و ارجح عدمِ تقبیل رجلین ہے بعض صورتوں میں مشابہ سجدہ کے ہو جاتی ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱/ ۱۲۷، دار الاشاعت) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
قدم بوسی فی حد ذاتہ جائز ہے تقبیل ید و قدم میں بحیثیت نفس تقبیل کے کوئی فرق نہیں اور دست بوسی اور قدم بوسی کا جواز متعدد احادیث سے ثابت ہے ادعائے تخصیص غیر موجہ ہے مجوزین نے اسی حکم اصلی کی بنا پر جواز کا فتوی دیا مانعین نے قدم بوسی کو سجدہ کا ذریعہ اور دواعی قرار دے کر سداً للباب ممانعت کا حکم لگا دیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام ایسے معاملات میں اکثری طور پر حد سے تجاوز کر جاتے ہیں پس واقف اور خاص آدمی کے لیے قدم بوسی میں مضائقہ نہیں اور عوام کو اجازت نہ دینا ہی احوط ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱۱۵، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
تقبیل یدین میں بھی مضائقہ نہیں ہے، حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ جب حبشہ سے مدینہ طیبہ آئے تو حضرت نبی آ کرم ﷺ نے ان کی پیشانی کی تقبیل کی تھی، ہاں محل فتنہ ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۱۲۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
علم اور بزرگی کے احترام کی خاطر ہاتھ پیر چومنے کی اجازت ہے، مگر ایسا نہ ہو کہ سجدہ کی صورت بن جائے اس کی اجازت نہیں، جھکنے کی بھی حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۱۲٦، جامعہ فاروقیہ) ۔
اس مسئلہ میں حضرت مولانا محمد عابد سندھی رحمه الله نے عربی میں رسالہ
"الكرامة والتقبيل"
تحریر فرمایا ہے جس کا خلاصہ اردو میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے رسالہ
"تعديل الهادي في تقبيل الأيادي"
میں تحریر فرمایا ہے اس کے چند ملخصات حسبِ ذیل ہیں:
اس مسئلہ میں ایک اختلاف ائمہ حنفیہ کا بدائع اور قاضيخان کے حوالہ سے اوپر ذکر کیا ہے، اس میں دست بوسی اور قدم بوسی کے ساتھ معانقہ بھی شامل ہے، اس اختلاف کا حاصل قاضيخان کی تحقیق کے مطابق یہ تھا کہ جس صورت میں یہ افعال ایسے طرز پر ہوں جس میں شہوت کا خطرہ اور اشتباہ ہو، اس کو ابو حنیفہ رحمه الله و محمد رحمه الله نے مکروہ فرمایا ہے اور جہاں یہ صورت نہ ہو وہ متفق علیہ جائز ہے ۔
اور در مختار، شامی اور عالمگیری وغیرہ کے حوالہ سے جو اختلاف اوپر نقل کیا گیا یہ اختلاف فقہائے متاخرین کا ہے اور اصل مسئلہ تقبیل و معانقہ میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ منشا اختلاف کا یہ ہے کہ جس شخص کی قدم بوسی دست بوسی کی جائے کیا اس کے لیے بھی یہ جائز اور درست ہے کہ اپنے ہاتھ پاؤں پھیلا کر لوگوں کو اس کا موقع دے ۔
اور وجہ اختلاف کی بظاہر یہ ہے کہ اس صورت میں حقیقۃً عجب و تکبر نہ بھی ہو تو صورۃً ایک متکبرانہ فعل ہے جس سے تکبر پیدا ہو جانے کا احتمال غالب ہے، اس لیے بعض فقہاء نے اس خطرہ کی بنا پر مکروہ قرار دیا، بعض نے اصل فعل کے جواز پر نظر کر کے جائز فرمایا ۔
سیدی حضرت حکیم الامت قدس سرہ کے سامنے یہ آخری سوال بعض لوگوں نے پیش کیا تو آپ نے اس کا جواب حسبِ ذیل تحریر فرمایا:
تاویل بلا دلیل غیر مسموع ہے اور ظاہر سے بلا صارف عدول نہیں کیا جا سکتا پس صحیح جواز تقبیل قدم فی نفسہٖ ہے اور فقہاء کے منع کو عارض مفسدہ پر محمول کیا جائے گا ۔ (امداد الفتاوی: ۵/۳٤۵)
جو انحناء مقصوداً ہو وہ ناجائز ہے اور جو بضرورت تقبیل کے لازم آ جائے وہ حکم میں تقبیل کے تابع ہے ۔
خلاصہ کلام: (۱) تقبیل و معانقہ اگر شہوت کے ساتھ ہو وہ باتفاق امت اپنی بیوی یا زر خرید کنیز کے علاوہ کسی کے ساتھ جائز نہیں ۔
(۲) اور جو تقبیل اور معانقہ چھوٹوں پر شفقت یا بزرگوں کی تعظیم و آ کرام کے لیے ہو وہ باتفاق جائز اور سنت سے ثابت ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی امر منکر یعنی ناجائز کام شامل نہ ہو جائے ۔
(۳) اور جہاں تقبیل و معانقہ بلکہ مصافحہ میں بھی کچھ منکرات شامل ہو جائیں وہ باتفاق مکروہ ہے ۔
منکرات میں سے چند یہ ہیں:
الف ۔ تکبر و عجب کا اندیشہ ہو ایسا شخص دست بوسی و قدم بوسی کا موقع نہ دے ۔
باء ۔ دوسرے کو ایذا و تکلیف کا اندیشہ ہو وہاں یہ امور جائز نہیں ۔
ج ۔ جس کی دست بوسی کی جا رہی ہے یہ اس کے نفس میں تکبر و غرور پیدا کر دے گا تو اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
بس مختصر بات یہی ہے کہ سنت رسول ﷺ اور تعامل صحابہ میں اس کی جو حد منقول ہے اس کو اسی حد پر رکھا جائے تو بلا شبہ دست بوسی، قدم بوسی، معانقہ، مصافحہ سب جائز بلکہ سنت و مستحب ہیں اور جہاں اس میں غلو کا پہلو یا دوسروں کی ایذا شامل ہو جائے وہ گناہ ہے ۔ (جواہر الفقہ، جلد اول، ص ۱۹۸ ۔ ۲۰۳، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.