تعزیتی جلسہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #538Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ اگر کسی بڑی شخصیت کا انتقال ہو جائے اور بغیر کسی دن کی تعیین کے ان کے متعلقین کا اجتماع بلا لیا جائے اور اس کا مقصد اس شخصیت کے کارناموں کا بیان ہو اور ان کے اعمال و اخلاق کا تذکرہ ہو تاکہ ان کے متعلقین ان کے نقشِ قدم پر چلیں اور ان کے طریقہ کو زندہ کریں اور ایک دوسرے کی آراء سے استفادہ کریں، ہاں آسانی کی وجہ سے ایک دن معین کیا جائے لیکن وہ تعیین آسان کے لیے ہوں شریعت کا حکم سمجھ کر نہیں کیا گیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز اس اجتماع کا مقصد ان حالات کے مقابلہ کی تیاری ہوتی ہے جو کسی بزرگ کی وفات سے پیدا ہو جاتے ہیں، نیز اس اجتماع کو لازم اور ضروری یا سنت نہیں سمجھا جاتا چنانچہ نہ کرنے والوں پر کوئی نکیر نہیں ہوتی؟

Answer

جب اجتماع کسی ایسی شخصیت کے متعلق ہو جس سے بے شمار فوائدِ دین وابستہ ہوں ان کی زندگی کا ہر پہلو قابلِ تشریح اور قابلِ تقلید ہو ان کے اعمال و اخلاق کے پھیلانے کی ضرورت ہو ان کے متعلقین ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہوں ان کے مشن کو بڑھانے کی ضرورت ہو تو متعلقین کی آسانی کے لیے ایک دن مقرر ہو سکتا ہے، آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد ان گنت فتنوں کو دبانے کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس اجتماع سے خطاب فرمایا تھا جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جمع ہوا تھا، نیز بخاری شریف کی روایت سے بھی تائید ہوتی ہے ملاحظہ ہو:

عن زياد بن علاقة قال: سمعت جرير بن عبد الله رضي الله عنه يوم مات المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قام فحمدالله وأثني عليه وقال عليكم باتقاء الله وحده لا شريك له والوقار والسكينة حتى يأتيكم أمير فإنما يأتيكم الآن ثم قال: استغفروا لأميركم فإنه كان يحب العفو، الحديث. (رواه البخاري: ۱/۱٤/٥۸، باب قول النبي ﷺ الدين النصيحة، فيصل).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.