نصر اللہ نام رکھنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنے بچہ کا نام نصر اللہ رکھا، لوگ اس پر معترض ہیں، کہ اللہ کی مدد کا کیا مطلب ہے؟ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس نام کو بدلنا چاہیے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس نام کو بدلنے کی ضرورت نہیں، اس کا مطلب ناصر لدین اللہ ہے یعنی یہ شخص اللہ تعالی کے دین کا مدد گار ہے ۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿إن تنصروا الله ينصركم ويثبت أقدامكم﴾ [سورة محمد].
روح المعانی میں مذکور ہے:
إن تنصروا الله أي دينه ورسوله
فنصرته سبحانه نصرة رسوله ودينه. (روح المعاني: ۲٦/ ٤۳).
بیان القرآن میں ہے: تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے ۔ (بیان القرآن:) ۔
یعنی نصر مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے اور دین محذوف ہے اس کو علمِ بلاغت میں مجاز بالحذف کہتے ہیں ۔ البلاغۃ العربیہ میں مرقوم ہے:
القسم الرابع: المجاز المرسل القائم على التوسع في اللغة دون ضابط معين، ومنه المجاز بالحذف أو بالزيادة، فالحذف يكون للإيجاز، كحذف كلمة يوجد ما يدل عليها، أو حذف جملة أو أكثر. (البلاغة العربية، ص ٦٦٦).
اسی طرح نصر اللہ مفعول کے معنی میں بھی آ سکتا ہے یعنی منصور من اللہ جیسے عون المعبود یعنی معان و منصور من اللہ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس بچہ کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہے گی ۔ نیک تفاؤل ہے ۔
خلاصہ یہ ہے اس نام کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.