بندر نام رکھنے کا حکم:
Question
ایک شخص چونکہ سعودی عرب کے ناموں کے عاشق ہیں، وہ اپنے بیٹے کا نام بندر رکھنا چاہتے ہیں چونکہ یہ ایک سعودی عرب شہزادہ کا نام ہے، بیوی اس کی مخالفت کرتی ہے کہ بندر تو ایک قبیح اور برا جانور ہے یہ نام نہ رکھیں، اگر یہ نام رکھا جائے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے مناسب نہیں ہے کیوں کہ یہ نام سنتے ہی انسان کا ذہن معروف جانور کی طرف جاتا ہے جو قباحت و شناعت میں معروف و مشہور اور ضرب المثل ہے، البتہ کوئی شخص یہ نام رکھنے پر مصر ہو تو اس کا اچھا مطلب اہم اور معزز شخص ہو گا اور قباحت کے بجائے اس میں حسن و خوبصورتی کا معنی لیا جائے گا ۔
بندر کی تحقیق ملاحظہ کیجیے: البندر: بندر گاہ یا ساحلی شہر کو کہتے ہیں، بندر گاہ پر تجارتی سامان کی کثرت ہوتی ہے، جو کہ بہت قیمتی ہوتا ہے، اور قیمتی ہونا آدمی کے معزز ہونے پر دال ہے، اسی طرح ساحلی شہر عام طور پر خوبصورت بھی ہوا کرتا ہے اور ملک کی ترقی کا باعث ہوتا ہے ۔
القاموس الوحید میں مذکور ہے: البندر: بندر گاہ، بڑا شہر، تجارتی شہر ۔
مصباح اللغات میں ہے: البندر: بندر گاہ، سمندر کے کنارے کا شہر، شہر میں تاجروں کے قیام کی جگہ ۔
المنجد میں مرقوم ہے: بندر گاہ، ساحلی شہر، تاجروں کے ٹھہرنے کی جگہ ۔
المعجم الوسیط میں لکھا ہے:
البندر: موسي السفن في الميناء (فارسي) ويطلق الآن على البلد الكبير، يتبعه بعض القري.
المورد میں ہے: بندر:
مدينة ساحلية، مركز تجاري
۔
لہذا بندر کا مطلب خوبصورت شہر یا بندر گاہ جو ضروری چیزیں فراہم کرتی ہے، یعنی بندر شخص کا مطلب ضروریات فراہم کرنے والا ہے اور خوبصورت کے معنی بھی اس سے مترشح ہوتے ہیں ۔
بندر گاہ فارسی لفظ ہے، اور یہ مرکب ہے، بند اور در سے ۔ تخفیف کی وجہ سے ایک دال حذف کی گئی تو بندر ہو گیا ۔ در کے معنی دروازہ اور گاہ فارسی میں جگہ کو کہتے ہیں ۔
قیمتی سامان کی وجہ سے اور باہر سے شہر پر حملہ سے حفاظت کی خاطر دروازہ بند کیا جاتا ہے ۔
غیاث اللغات میں ہے:
بندر فتح کے ساتھ جہاں پر کشتی کو باندھتے ہیں اور اس کا معنی یہ بھی ہے: وہ شہر جو دریا کے کنارے پر ہو اور دریا اس کو محیط ہو جیسے سورت اور بمبئی ۔
فیروز اللغات میں ہے: بندر گاہ، جہازوں کے ٹھہرنے کی جگہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.