سدیس، شریم، نوفل، زیدان، بہلول کے اچھے معانی:
Question
ایک شخص اپنے نو مولود بچے کے لیے درجِ ذیل ناموں میں سے ایک نام تجویز کرتا ہے اور اس کے معانی پوچھتا ہے: سدیس ۔ شریم ۔ نوفل ۔ زیدان ۔ بہلول ۔ ان کے کیا معنی بن سکتے ہیں، اور ناموں میں تصغیر کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
Answer
(١) سدیس: سدس کی تصغیر ہے اور سدس خاص عمر کے اونٹ کو کہتے ہیں، اونٹ میں بہت ساری خصوصیات ہیں: مثلاً اونٹ فرماں بردار ہے، اونٹ میں بہت زیادہ صبر ہوتا ہے، اونٹ قوی مضبوط اور غیرت مند ہوتا ہے اس اعتبار سے سدیس کے معنی فرماں بردار، صابر، قوی، اور غیرت مند ہو سکتے ہیں اور یہ سب اچھے معانی ہیں ۔
نیز سدس چھ کے عدد کو بھی کہتے ہیں جو عرب کے ہاں اور حدیث کی روشنی میں کامل عدد سمجھا جاتا ہے کہ چھ زوج اور فرد اور زوج الزوج یعنی چار اور زوج الفرد یعنی خود چھ اور عدد ناقص اور عدد تام اور عدد منطق اور اصم پر مشتمل ہے اس لیے سدیس جو سدس کی تصغیر ہے اس میں عدد کامل کی طرح کمال کی طرف اشارہ ہو گا ۔
راجع: شرح البخاري للعيني والشروح الأخرى، تحت حديث: "الإيمان بضع وستون شعبة".
ملاحظہ ہو النہایہ فی غریب الاثر میں ہے:
السديس: من الإبل ما دخل في السنة الثامنة وذلك إذا ألقي السن التي بعد الرباعية. (النهاية: ۲: ۸۹٦).
اما م اخفش کی الاختیارین میں ہے:
والسديس: السن التي وراء الرباعية. يقال: قد أسدست وهي سديس، وسدس يقول: حين بزلت. (ص ۲٦). (وكذا في معجم الوسيط، ص ٤۲۳).
تفسیر عزیزی میں مرقوم ہے:
باوجود اس ڈیل ڈول کے اس قدر تابعدار ہے کہ ایک بچہ بلکہ چوہا اس کی مہار پکڑے تو جہاں چاہے لے جاوے اگر اس کے پیٹھ کو خیال کرے تو گویا ایک اونچا تخت چار ستون پر دھرا ہے باوجود اس بلندی کے کہ ہاتھ بھی آدمی کا اس تک نہیں پہونچ سکتا آدمی جب چاہے بٹھلا کر سوار ہو جائے اور صابر ایسا ہے کہ دس روز تک پیاسا رہتا ہے اور محنت و مشقت میں قصور نہیں کرتا، اور اونٹ سب جانوروں میں با غیرت مشہور ہے کسی جانور میں یہ نہیں، اگر اس پر سامان لادے تو تمام اسباب گھر کا اٹھا لے اور اگر کہیں بھیجنا منظور ہو تو تمام راستہ دوڑتا چلا جاوے اور اتنی دور جاتا ہے کہ کوئی جانور اس تک نہیں پہونچ سکتا ۔ (خلاصہ تفسیر عزیزی، پارۂ عم، ٤/۲۴۵ ط: سعید) ۔
(٢) شریم: شرم کی تصغیر ہے جس معنی خلیج کے ہیں یعنی خلیج کی طرح مفید، جہاں کشتیاں آ کر ٹھہر سکتی ہیں تو شریم کا مطلب ملجأ پناہ گاہ ہے ۔
وشرم من البحر: خليج منه. (الصحاح: ٤/۱۵۹۰، وتاج العروس: ۸/۱٤۲، ولسان العرب: ۷/۱۰۱).
والخليج: شرم من البحر وقال ابن سيده: هوما انقطع من معظم الماء، لأنه يجبذ منه. (تاج العروس: ۵/۵۳۱).
نیز ناموں میں تصغیر شفقت اور مہربانی کے لیے آتی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه ان كان النبي ﷺ ليخالطنا حتى يقول لا خ لي صغير: يا أبا عمير ما فعل النغير وكان له نغير يلعب به فمات. متفق عليه.
قال: وفيه إباحة تصغير الأسماء، قلت: لأنه مبني على اللطف والشفقة. (مرقاة المفاتيح: ۹/۱۷۲، ط: إمداديه).
تصغیر سے متعلق ضروری بحث ما قبل میں گزر چکی ہے ۔
(٣) نوفل: لغت میں نوفل کے دو اچھے معانی بیان کیے گئے ہیں: (۱) بہت زیادہ عطیہ دینے والا ۔ (۲) خوبصورت نوجوان ۔
النفل بالتحريك: الغنيمة، والهبة. النوفل: العطية، والنوفل: السيد المعطاء يشبهان بالبحر. (لسان العرب: ۱٤/۲٤۵، دار الباز).
وقال في تاج العروس (۸/۱٤۲): والنوفل: الشاب الجميل. وكذا في (الصحاح: ٤/۱٤۹۱، دار إحياء التراث العربي).
(٤) زیدان: یہ زاد یزید کا مصدر ہے اس کے معنی ہیں زیادہ ہونا، مطلب یہ ہو گا کہ خیر و برکت، رشد و ہدایت میں زیادہ ہونا ۔ دیکھیے: (
تاج العروس: ۲/۳۲۲، والصحاح: ۲/٤۱٦، دار إحياء التراث).
(٥) بہلول: (۱) بہلول کے معنی شریف با حیا (۲) معزز آدمی جو بھلائیوں کا جامع ہو ۔ اور غیاث اللغات میں ہے: ایک عارف کا نام اور خوش مزاج سردار ۔
البهلول من الرجال الضحاك، والبهلول العزيز الجامع لكل خير عن
. والبهلول الحيي الكريم. (تاج العروس: ۷/۲۳۹، والصحاح: ٤/۱۳٤۸، ولسان العرب: ۱۱/۷۳، دار الفكر).
قال في اللطائف في اللغة: أما البهلول: فالسيد الجامع لكل خير. (ص: ۱٤٦).
قال في فقه اللغة: البهلول السيد الحسن البشر. (ص: ۵٦۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.