تزکیہ والے ناموں کا حکم:
Question
ایک آدمی کا نام طاہر ہے، کسی نے اس نام پر اعتراض کیا کہ حضرت زینب رضی الله عنه کا نام برہ تھا جس کے معنی نیک و کار اور متقیہ کے ہیں، تو کسی نے کہا کہ یہ خود اپنی تعریف کرنے کی طرح ہے،
فقيل لها تزكي نفسها، فسماها رسول الله ﷺ زينب
، رسول اللہ ﷺ نے برہ کو تبدیل کر کے زینب نام رکھا، بظاہر طاہر، صالح، ساجد، عابد وغیرہ ناموں میں بھی یہ سبب پایا جاتا ہے، پھر ان ناموں کا رکھنا جائز ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
طاہر، صالح، ساجد، عابد وغیرہ ناموں کا رکھنا جائز اور درست ہے اس لیے کہ اس طرح کے اسماء تفاولاً رکھے جاتے ہیں کہ اللہ تعالی اس نام کو حقیقت بنا دے، تزکیہ یعنی خود اپنی تعریف مقصود نہیں ہوتی ۔ اور جن روایات سے بظاہر ممانعت معلوم ہوتی ہے ان کی چند توجیہات حسب ذیل ملاحظہ کیجیے:
٭ جن ناموں میں تعریف اور مدح کا پہلو ہے اور مقصود تفاؤل ہو تو ان ناموں کا رکھنا جائز ہے، جیسے رباح، نافع، علاء وغیرہ، آپ ﷺ نے ایسے ناموں سے منع فرمانے کا ارادہ فرمایا تھا لیکن پھر ارادہ ترک کر دیا ۔
٭ جن ناموں سے لوگوں کے اذہان بد فالی کی طرف منتقل ہوتے ہیں، ایسے نام رکھنا مناسب نہیں جیسے کسی کا نام خوش قسمتی یا برکت یا سعادت ہو، اور کسی کے جواب میں کہا جائے خوش قسمتی برکت نہیں، تو ذہن بد فالی کی طرف جائے گا ۔
٭ جو نام تزکیہ اور صفائی اور مدح پر دال ہیں پہلے ان کے رکھنے سے منع کا ارادہ کیا تھا لیکن پھر چھوڑ دیا یا یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔
٭ یہ کراہت اس زمانہ پر محمول ہے جب بد فالی کی ممانعت نہیں آئی تھی جب بد فالی ممنوع ہوئی تو ان ناموں سے بد فالی کا پہلو ختم ہوا اور
إنما الأعمال بالنيات
کے تحت ان میں بجائے تعریف کے نیک فالی آ گئی، اس لیے ایسے نام رکھنا جائز ہوا ۔
اگر کوئی اشکال کرے کہ برہ کی تبدیلی کے تین واقعات ہیں: (۱) حضرت جویریہ بنت الحارث رضی الله عنه زوجۃ رسول اللہ ﷺ ۔ (۲) زینب بنت جحش رضی الله عنه زوجۃ رسول اللہ ﷺ ۔ (۳) زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنه ربیبہ رسول اللہ ﷺ ۔ (شرح الابی:
۷
/
۳۰۰
) ۔ ان تینوں کا نام برہ تھا، حضور ﷺ نے تبدیل فرما دیا تھا ۔ لیکن کسی جگہ اس نام کو نیک فالی کی وجہ سے برقرار رکھا اور تبدیل نہیں فرمایا، اس کی کیا وجہ ہے؟
اس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ برہ کے معنی التوسع فی الخیر یعنی تمام خیر کے کام بہت ہی وسعت اور اعلی پیمانے پر کرنا ہے اور یہ مبالغہ ہے ۔ قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ليس البر أن تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البر من آمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وآتي المال على حبه ذوي القربي واليتامى والمساكين وابن السبيل والسائلين وفي الرقاب وأقام الصلاة وآتي الزكاة والموفون بعهدهم إذا عاهدوا والصابرين في البأساء والضراء وحين البأس أولئك الذين صدقوا وأولئك هم المتقون﴾. (البقرة: ۱۷۷)
اس آیت میں لفظ
"البِرّ"
میں اعتقادات، عباداتِ بدنیہ مالیہ پھر عباداتِ مالیہ کی تمام اقسام اقارب و اباعد مقیم مسافر محتاج غیر محتاج سائل غیر سائل سب آئے ہیں، پھر اجتماعی خیر یعنی ایفائے عہد شکر و صبر و الصابرین پھر صبر کی تمام اقسام آئی ہیں، اگر اس کو تفاؤل پر محمول کیا جائے تو پھر بھی اس کو نباہنا مشکل ہے، اس لیے اس کو تبدیل فرمایا ۔
ہاں اگر برہ کے عام معنی بہ معنی متقین لیں جس کو عوام استعمال کرتے ہیں تو پھر اس نام میں کوئی حرج نہیں، اللہ تعالی نے ہم کو یہ دعا سکھائی ہے:
وتوفنا مع الأبرار.
یہاں ابرار بہ معنی متقین ہے، اس لیے بعض بزرگوں کا نام ابرار الحق تھا، اور صحابیات میں برہ بنت ابی تجراۃ ہے (الاصابۃ:
۸
/
٤۸
) اور بریرہ کا مطلب بھی بر اور تقوی والی ہو سکتا ہے ۔
اس مسئلہ کے دلائل ما قبل میں گزر چکے ہیں، وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.