اسماء میں تخفیف کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 7 #187Urdu
Vol. 7باب (۷): نام اور القاب سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کا نام عبد الرحمن ہے لیکن لوگ اس کو رحمن سے پکارتے ہیں تو کیا ان لوگوں کو منع کرنا چاہیے یا یہ جائز ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے فتاوی دار العلوم دیوبند میں تحریر فرمایا ہے کہ چونکہ پکارنے والوں کی غرض اس لفظ سے عبد الرحمن اور عبد الغفور ہی ہوتی ہے صرف اختصار کے لیے ایسا کرتے ہیں اس لیے گناہِ کبیرہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں، البتہ ایسا کرنے میں ایک قسم کا سوء ادب ہے اس لیے نامناسب ہے اور اسی بنا پر آج کل ایسے نام رکھنا خلافِ اولی ہے اور نامناسب ہیں کیوں کہ عموماً لوگ ایسا اختصار کرتے ہیں باقی لفظ شکور اس میں تو کوئی مضائقہ ہی نہیں کیوں کہ یہ لفظ حق تعالی کے ساتھ خاص نہیں، اگر خود کسی کا نام ہی فقط شکور رکھ دیا جائے تو جائز ہے، ایسے ہی رحیم اور علی اور کبیر اور رشید وغیرہ جو اسمائے الہیہ میں سے ہیں لیکن مخصوص بذاتِ حق تعالی نہیں وہ بھی اگر کسی کا نام رکھ دیں تو جائز ہے۔

قال في العالمكيرية في الباب الثاني والعشرين من كتاب الكراهة: أحب الأسماء إلى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن لكن التسمية بغير هذه الأسماء في هذا الزمان أولي لان العوام يصغرون هذا الأسماء للنداء والتسمية باسم يوجد في كتاب الله كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائز لأنه من الأسماء المشتركة. (امداد المفتين، جلدِ دوم ص ۸۵۳، دار الاشاعت).
امام قرطبی رحمه الله الجامع لاحکام القرآن میں فرماتے ہیں:

أكثر العلماء على أن "الرحمن" مختص بالله عز وجل، لا يجوز أن يسمي به غيره، ألا تراه قال: ﴿قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن﴾ [الاسراء: ۱۱۰] فعادل الاسم الذي لا يشركه فيه غيره، وقال: ﴿واسأل من أرسلنا من قبلك من رسلنا أجعلنا من دون الرحمن الهة يعبدون﴾ [الزخرف: ٤۵] فأخبر أن "الرحمن" هو المستحق للعبادة جل وعز، وقد تجاسر مسيلمة الكذاب ــ لعنه الله ـــ فتسمي برحمان اليمامة، ولم يتسم به حتى قرع مسامعه نعت الكذاب فألزمه الله تعالى نعت الكذاب لذلك، وإن كان كل كافر كاذباً، فقد صار هذا الوصف لمسيلمة علماً يعرف به، ألزمه الله إياه، وقد قيل في اسمه الرحمن: إنه اسم الله الأعظم؛ ذكره ابن العربي. (الجامع لا حكا م القرآن: ۱/۷۵).
(وكذا في تفسير ابن كثير: ۱/۲۳، والموسوعة القرآنية، ص ۳۷٦۹، وتفسير آيات الأحكام).

ملا علی قاری رحمه الله نے ضوء المعالی میں تحریر فرمایا ہے:

قلت: المختص المعرف بالألف واللام دون غيره). (ضوء المعالي، ص).

ملا علی قاری رحمه الله کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ جو باری تعالی کے ساتھ خاص ہے وہ معرف بہ الف لام ہے یعنی "الرحمن" لیکن بغیر الف لام کے فقط "رحمن" یہ عام لفظ ہے۔
علامہ شامی رحمه الله نے بھی اسی طرح فرمایا ہے:

والرحمن لفظ عربي، وقيل معرب عن رخمان بالخاء المعجمة لانكار العرب حين سمعوه ورد بأن إنكارهم له لتوهمهم أنه غيره تعالى في قوله: ﴿قل ادعوا الله أو ادعوا الرحمن﴾، وذهب الأعلم إلى أنه علم كالجلالة لاختصاصه به تعالى وعدم إطلاقه على غيره تعالى معرفاً ومنكراً

قال السبكي: والحق أن المنع شرعي لا لغوي، وأن المخصوص به تعالى المعرف. (فتاوى الشامي: ۱/۷، سعيد).

احسن الفتاوی میں مطلقاً کراہت کا قول مرقوم ہے۔ ملاحظہ ہو:
چونکہ ایسے اسماء میں مضاف محذوف معنوی ہوتا ہے اس لیے جائز تو ہے مگر کراہت سے خالی نہیں بالخصوص ان اسماء میں جو صرف ذاتِ باری تعالی کے ساتھ مختص ہیں جیسے غفار، رحمن وغیرہ ان میں حذفِ مضاف زیادہ قبیح ہے۔ (احسن الفتاوی: ۸/۱۷٦)۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے معارف القرآن میں بھی ناجائز اور گناہ لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو: (معارف القرآن: ۱/۷٦)۔
لیکن امداد المفتین چونکہ خاص فتاوی کی کتاب ہے اس میں تخفیف موجود ہے نیز ملا علی قاری رحمه الله اور علامہ شامی رحمه الله کی عبارات بھی جواز پر دال ہیں اور چونکہ عوام الناس بلا معنی و مطلب کی رعایت کے اس طرح ناموں میں تخفیف کرتے ہیں بنا بریں اس بارے میں زیادہ تشدد نہیں کرنا چاہیے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.