امام محمد رحمہ اللہ کے مسلک پر حیض کا ایک اہم مسئلہ:
Question
ایک عورت منیٰ جانے کے بعد پاک ہوئی پاک ہونے سے پہلے اس کو چار دن حیض آیا تھا پھر ذی الحجہ کی ۱٦ تاریخ تک ۷ دن پاک رہی ۔ اسی دوران اس نے طواف، سعی اور نمازیں سب کچھ ادا کیا ، ۱٦ تاریخ سے پھر خون شروع ہوا جو تین دن رہا، سوال یہ ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق اس عورت کے کتنے دن طہارت اور کتنے دن حیض کے شمار ہوں گے؟
Answer
رد المحتار میں ہے:
قول محمد أن الشرط أن يكون الطهر مثل الدمين أو اقل في مدة الحيض، فلوكان أكثر فصل، لكن ينظران كان في كل من الجانبين ما يمكن أن يجعل حيضاً فالسابق حيض ولو في أحدهما فهو الحيض والآخر استحاضة والا فالكل استحاضة ولو رأت ثلاثة دماً وخمسة طهراً ويوماً دما فالثلاثة حيض لغلبة الطهر فصار فاصلاً الخ وقد صحح قول محمد في المبسوط والمحيط وعليه الفتوى. (رد المحتار: ۱/۲۹۰، سعيد).
بحر میں ہے:
وقال محمد الطهر المتخلل إن نقص عن ثلاثة أيام ولو بساعة لا يفصل اعتباراً بالحيض فإن كان ثلاثة فصاعداً فإن كان مثل الدمين أو اقل فكذلك تغليباً للمحرمات لأن اعتبار الدم يوجب حرمتها واعتبار الطهر يوجب حلها فغلب الحرام الحلال وان كان أكثر فصل، ثم ينظران كان في أحد الجانبين ما يمكن إن يجعل حيضا فهو حيض والآخر استحاضة وإن لم يمكن فالكل استحاضة، ولا يمكن كون كل من المحتوشين حيضاً لأن الطهر حينئذٍ اقل من الدمين إلا إذا زاد على العشرة فيجعل الأول حيضاً لسبقه لا الثاني. (البحر الرائق: ۱/۲۰٦).
بدائع الصنائع میں ہے:
واختار محمد لنفسه في كتاب الحيض مذهباً فقال الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان اقل من ثلاثة أيام لا يعتبر فاصلاً وان كان أكثر من الدمين ويكون بمنزلة الدم المتوالي وإذا كان ثلاثة أيام فصاعداً فهو طهر كثير فيعتبر لكن ينظر بعد ذلك إن كان الطهر مثل الدمين أو اقل من الدمين في العشرة لا يكون فاصلاً وإن كان أكثر من الدمين يكون فاصلاً ثم ينظران امكن إن يجعل احدهما حيضاً جعل وان امكن إن يجعل كل واحد منهما يجعل اسرعهما حيضاً. (بدائع الصنائع: ۱/٤٤، سعيد).
شرح الوقایہ میں ہے:
وعند محمد يشترط مع هذا كون الطهر مساويا للدمين أو اقل ثم إذا صار دما عنده فإن وجد في عشرة هو فيها طهر آخر
يغلب الدمين المحيطين به لكن يصير مغلوباً إن عد ذلك الدم الحكمي دماً فإنه يعد دماً حتى يجعل الطهر الآخر حيضاً أيضا، وقد ذكران كثيراً من المتقدمين والمتأخرين أفتوا بقول محمد. (شرح الوقاية: ۱/۱۱۱).
خلاصہ یہ ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کا مسلک واضح ہے کہ ان کے نزدیک طہر متخلل اگر تین دن سے کم ہو تو طہر شمار نہیں ہو گا ۔ اور اگر طہر تین دن یا اس سے زیادہ ہو تو دیکھا جائے گا کہ اگر حیض کے ایام میں (یعنی دس دن میں) پہلے خون اور بعد کے خون کا زمانہ طہر کے زمانہ کے برابر ہے یا دونوں خونوں کا زمانہ غالب ہے اگر ایسا ہے تب بھی دونوں وجہوں میں طہر کا زمانہ حیض ہی شمار ہو گا نہ کہ طہر، اگر طہر متخلل غالب ہے تو وہ حقیقی طہر شمار ہو گا ۔
پھر دیکھیں گے کہ اگر دونوں خونوں میں سے کوئی ایک بھی حیض نہیں بن سکتا تو یہ حیض نہیں ہو گا اور اگر دونوں خونوں میں سے ایک حیض بن سکتا ہے چاہے پہلا یا دوسرا تو وہ حیض ہو گا اور اگر پہلا اور دوسرا حیض بن سکتا ہے تو صرف پہلے کو حیض قرار دیں گے اور دوسرا استحاضہ ہو گا ۔
اب صورتِ مسئولہ میں دونوں خون چار دن (اول) اور تین دن (آخر) حیض بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو اسرعہما یعنی پہلا خون حیض قرار دیا جائے گا، اگر چہ دونوں خونوں کا زمانہ طہر کے زمانہ کے برابر ہے، لیکن ایامِ حیض میں یعنی ۱۰ دن میں طہر غالب ہے، تو چار دن حیض ہو گا اور سات دن طہر کے ہوں گے اور آخری تین دن کا خون استحاضہ ہو گا ۔
مذکورہ عورت کے لیے یہ مسلک آسان ہے اسی پر فتوی ہو نا چاہیے اور علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے اسی پر فتوی دیا ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.