مسئلہ حیض میں امام محمد رحمہ اللہ کا مسلک:

2 min readFatwa Vol 1 #286Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۵): حیض اور نفاس کا بیان

Question

ایک عورت کو دو دن خون آیا پھر دس دن تک خون بند رہا پھر گیارہویں دن خون دوبارہ آیا تو اس کو دم مسلسل شمار کرتے ہیں ۔ ہدایہ میں ہے ۔ إذا
كان اقل من خمسة عشر يوماً لا يفصل وهو كله كالدم المتوالي لا نه طهر فاسد.
بعض دفعہ حج اور رمضان میں عورتوں کو یہ صورت پیش آتی ہے جس کی وجہ سے بہت کلفت اور مشقت اٹھانی پڑتی ہے ۔ اس کا کوئی حل فقہ کی کتابوں میں ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دو دن استحاضہ ہے، دس دن طہر کے ہیں اور اس کے بعد جو خون آیا اگر وہ تین دن جاری رہا تو حیض ہے اور اگر تین دن سے کم ہو تو استحاضہ ہے، بعض فقہاء نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتوی دیا ہے ۔
وفي الوجيز: "الفتوي على قول محمد"
صوم اور حج کی مشکلات کی وجہ سے امام محمد کے قول پر فتوی دے سکتے ہیں ۔
امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی روایت میں جو انھوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے لی ہے اس میں یہ مذکور ہے: جب دو خونوں کے درمیاں تین دن کا طہر حائل ہو جائے تو وہ طہر ہی کہلائے گا ان کے نزدیک خون کے ایام کا غالب ہونا یا مساوات بھی ضروری نہیں ۔
كما في شرح النقاية للملا علي قاري رحمه الله: وقد روى الحسن بن زياد عن أبي حنيفة رحمه الله أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان دون ثلاثة أيام لا يصير فاصلاً (شرح النقاية ۱/۸۳).

اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے الوان حیض میں لکھا ہے کہ آسانی کے لیے مذکورہ اقوال میں سے کسی بھی قول پر فتوی دے سکتے ہیں ۔

وفي المعراج عن فخر الأئمة: لو افتي مفتٍ بشيء من هذه الأقوال في مواضع الضرورة طلباً للتيسير كان حسناً. (فتاوى الشامي: ۱/۲۸۹).

لہذا میرے خیال میں حسن بن زیاد رحمہ اللہ کے قول کے بارے میں بھی مفتی حضرات کو سوچنا چاہیے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.