ممسکِ حیض ادویہ استعمال کرنے کا حکم:
Question
حیض بند کرنے کے لیے دوا استعمال کرنا حج یا رمضان میں درست ہے یا نہیں، آج کل حیض کی بے ترتیبی کی وجہ سے عورتوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے؟
Answer
حیض چونکہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کا جاری رہنا ضروری ہو بلکہ عارضی چیز ہے اسے روکنے کے لیے دوا کھانا ممنوع نہیں ہے، بلکہ جائز ہے خصوصاً حج یا رمضان میں دوائی کا استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے، تاکہ عورت اپنے واجبات سہولت اور آسانی کے ساتھ ادا کر سکے کیونکہ ان ایام میں حیض آنے سے عموماً تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں البتہ حیض کو مستقل بند کرنے کے لیے دو استعمال کرنا مناسب نہیں ہے چونکہ اس میں صحت پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہے اس لیے احتیاط بہتر ہے ۔
رد المحتار میں ہے:
وقال في السراج سئل المشايخ عن المرضعة إذا لم تر حيضاً فعالجته حتى رأت صفرة في أيام الحيض قال هو حيض تنقضي به العدة. (رد المحتار: ۱/۳۰٤).
نیز مذکور ہے:
لو انقطع دمها فعالجته بدواء حتى رأت صفرة في أيام الحيض أجاب بعض المشايخ بانه تنقضي به العدة. (رد المحتار: ۳/۵۵).
جس طرح عورت اپنے حیض کو جاری کرنے کے لیے علاج کرا سکتی ہے مصلحتاً عدت پوری کرنے کے لیے اسی طرح حیض کو بند کرنے یا روکنے کے لیے بھی دوا کھا سکتی ہے اپنے واجبات کو ادا کرنے کی مصلحت کی وجہ سے، کیونکہ نہ حیض آنا مطلوب شرعی ہے اور نہ روکنا ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
حج کے ایام میں تمام افعال حج کو معمول اور اپنے مقررہ اوقات پر انجام دینے کے لیے اگر خواتین ایسی ادویہ استعمال کریں جو وقتی طور پر حیض کے خون کو روک دیں تو کوئی قباحت نہیں تاکہ افعال حج کو مقررہ وقت کے اندر ادا کر سکیں ۔ (جدید فقہی مسائل
۱
/
۲٤۳
) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.