درود کی جگہ رموز و اشارات لکھنے کا حکم:
Question
بعض حضرات اپنی تحریروں میں نبی کریم ﷺ کے تذکرہ کے وقت مکمل درود نہیں لکھتے بلکہ فقط علامت "صلعم" یا ؑ، وغیرہ لکھتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور صحیح کیا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ فقط علامت یا اشارات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ پورا درود شریف لکھنا چاہیے اس کے بہت فضائل وارد ہوے ہیں ۔ ملاحظہ ہو مقدمہ ابن الصلاح میں ہے:
ينبغي له أن يحافظ على كتبة الصلاة والتسليم على رسول الله صلي الله تعالى عليه وآله وسلم عند ذكره، لا يسأم من تكرير ذلك عند تكرره، فإن ذلك من أكبر الفوائد التي يتعجلها طلبة الحديث وكتبته، ومن أغفل ذلك حرم حظاً عظيماً
ثم ليتجنب في إثباتها نقصين: أحدهما: أن يكتبها منقوصة صورة رامزاً إليها بحرفين أو نحو ذلك.
والثاني: أن يكتبها منقوصة معني بأن لا يكتب (وسلم) وإن وجد ذلك في خط بعض المتقدمين.
سمعت أبا القاسم منصور بن عبد المنعم وأم المويد بنت أبي القاسم بقراء تي عليهما قالا: سمعنا أبا البركات
عن محمد بن إسحاق الحافظ قال: سمعت حمزة الكناني يقول: كنت أكتب الحديث وكنت أكتب عند ذكر النبي "صلي الله عليه" ولا أكتب "وسلم"، فرأيت النبي ﷺ في المنام فقال لي: مالك لا تتم الصلاة علي؟ قال: فما كتبت بعد ذلك "ﷺ" إلا كتبت "وسلم". قلت: ويكره أيضاً الاقتصار على قوله "عليه السلام"، والله أعلم. (علوم الحديث لابن الصلاح: ۱۸۸. ۱۹۰، النوع الخامس والعشرون في كتابة الحديث).
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
علامہ سخاوی رحمه الله قولِ بدیع میں لکھتے ہیں کہ جیسا کہ تو حضورِ اقدس ﷺ کا نام نامی لیتے ہوے زبان سے درود پڑھتا ہے اسی طرح نامِ مبارک لکھتے ہوے اپنی انگلیوں سے بھی درود شریف لکھا کر کہ تیرے لیے اس میں بہت بڑا ثواب ہے اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے جس کے ساتھ علمِ حدیث لکھنے والے کامیاب ہوتے ہیں ۔ علماء نے اس بات کو مستحب بتایا ہے کہ اگر تحریر میں بار بار نبی کریم ﷺ کا پاک نام آئے تو بار بار درود شریف لکھے اور پورا درود لکھے اور کاہلوں اور جاہلوں کی طرح سے "صلعم" وغیرہ الفاظ کے ساتھ اشارہ پر قناعت نہ کرے ۔ اس کے بعد علامہ سخاوی رحمه الله نے اس سلسلہ میں چند حدیثیں بھی نقل کی ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے حضورِ اقدس ﷺ کا پاک ارشاد نقل کیا گیا کہ جو شخص کسی کتاب میں میرا نام لکھے فرشتے اس وقت تک لکھنے والے پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں رہے ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی حضورِ اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے جو شخص مجھ سے کوئی علمی چیز لکھے اور اس کے ساتھ درود شریف بھی لکھے اس کا ثواب اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک وہ کتاب پڑھی جائے ۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنه سے بھی حضورِ اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود لکھے اُس وقت تک اُس کو ثواب ملتا رہے گا جب تک میرا نام اس کتاب میں رہے ۔ (فضائل درود شریف، ص۱٤٤، ۱٤۵، از حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمه الله) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (
القول البديع، ص ٤٦۰، مؤسسة الريان، والباعث الحثيث للشيخ أحمد محمد شاكر، ص ۱۲٤، ط: مكتبة المعارف، الرياض).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.