نقشہ نعل مبارک سے توسل کا حکم:

5 min readFatwa Vol 7 #330Urdu
Vol. 7باب (۹): ما يتعلق بالقرآن الكريم و الذكر و التلاوة و الأشياء المقدسة

Question

نقشہ نعل مبارک سے توسل کا کیا حکم ہے؟ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

نبی پاک ﷺ کی اشیائے مقدسہ متروکہ سے تبرک حاصل کرنا فقط جائز ہی نہیں بلکہ مستحب اور حضور پر نور ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کی علامت ہے، جس کا جذبہ ہر مسلمان کے سینہ میں وافر مقدار میں ہونا ضروری ہے لیکن تصویر اور نقشہ نعل مبارک کے سلسلہ میں کوئی حدیث سند کے ساتھ نظر سے نہیں گزری، نیز تصویر کا اصل کے ساتھ سو فیصد مطابق ہونا بھی غیر متیقن ہے، مزید براں اصل سے توسل تو معقول ہے مگر تصویر سے توسل غیر معقول ہے، بنا بریں نقشہ نعل مبارک سے توسل درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
سوال: آیا رسول اللہ ﷺ کا معجزہ یعنی پائے مبارک حضرت خاتم النبوۃ ﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آ جانا کہیں صحاحِ ستہ یا دوسری حدیث کی کتابوں یا دیگر معتبر یا غیر معتبر کتابوں سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: (از نائب مفتی دار العلوم دیوبند) آج کل جو بعض لوگ ایک نشان لیے پھرتے ہیں اور اس کو نقش اور نشانِ قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بتاتے ہیں، یہ قول ان کا صحیح نہیں ہے، یہ نشان مصنوعی اور بناوٹی ہے ۔ فقط واللہ اعلم ۔ مسعود احمد نائب مفتی دار العلوم دیوبند ۔
جواب: (از حضرت شیخ الاسلام مولانا السید حسین احمد مدنی قدس سرہ) جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات بہت زیادہ اور نہایت عظیم ہیں ۔ ان کے سامنے پتھر کا مثل موم بن جانا اور نقش قدم اس پر پڑ جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہ تو ادنی بات ہے ۔ مگر اس وقت تک میری نظر سے کسی حدیث یا سیر کی کتابوں میں سے کسی کتاب میں یہ معجزہ نہیں گزرا ۔ واللہ اعلم، حسین احمد غفر لہ ۔
جواب (حضرت مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ) اگر چہ پتھر پر نشان قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بطورِ معجزہ کے نقش ہو جانا مستبعد نہیں، مگر اس کے باور کرنے کے لیے کوئی سند اور روایت کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی ۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔ (کفایت المفتی: ۱/۱۱۷، ط: دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں: کسی چیز کو بے ثبوت اور بے پختہ سند کے حضور ﷺ کی طرف منسوب کرنا حرام ہے، نیز اصلی آثار کے ساتھ بھی اس قدر غلو کا معاملہ کرنا جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ناجائز اور بدعت ہے، بے ثبوت ہونے کی بنا پر اگر کوئی شخص ان آثار کی تعظیم و احترام سے منع کرے تو اس کو آنحضرت ﷺ کی توہین کا الزام لگانا ظلم اور جہالت ہے ۔ (کفایت المفتی: ۱/۳۵۹، دار الاشاعت) ۔
حضرت حکیم الامت رحمه الله نے اس مسئلہ سے متعلق ایک رسالہ بنام "نیل الشفاء بنعل المصطفی" تحریر فرمایا تھا جو زاد السعید میں ص از ٤۷ تا ص ۵۳ موجود ہے، اس میں حضرت نے نقشہ نعل مبارک سے استبراک و توسل کی مسلمانوں کو تلقین و ترغیب اور نقشہ کی تشہیر و اشاعت کی تحریض بیان کی ہے، پھر حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمه الله نے اس کے خلاف رائے کا اظہار فرمایا اور دونوں حضرات کے مابین مکاتبت کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ حضرت حکیم الامت رحمه الله نے عوام کے تجاوز عن الحدود اور غلو کو مد نظر رکھ کر استبراک و توسل کی ترغیب و تشہیر و اشاعت کی تلقین سے رجوع فرما لیا، جس کا خلاصہ کفایت المفتی، جلد دوم از ص ۹۱ تا ص ۹۹ پر مرقوم ہے، جس کو شوق ہو وہ نیل الشفاء، و زاد السعید اور کفایت المفتی اور بوادر النوادر وغیرہ کا مطالعہ فرما لے ۔ تطویل سے دامن بچاتے ہوے فقط ایک فتوے پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
اگر آنحضرت ﷺ کی استعمال کی ہوئی نعل شریف کسی کو مل جائے تو زہے سعادت اور فرط محبت سے اس کو بوسہ دینا سر پر اٹھانا بھی موجبِ سعادت ہے، مگر یہ تو اصل نعل نہیں اس کی تصویر ہے اور یہ بھی متیقن نہیں کہ یہ تصویر اصل کے مطابق ہے یا نہیں اور تصویر کے ساتھ اصل شیٔ کا معاملہ کرنا شریعت میں معہود نہیں ورنہ آنحضرت ﷺ کے دستِ مبارک، پائے مبارک، موئے مبارک اور قمیص مبارک، جبہ مبارک کی تصویریں بھی بنائی جا سکتی ہیں اور اگر ان میں بھی اصل کی مطابقت

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.