جادو کے دفعیہ کے لیے ساحر کے پاس جانے کا حکم:
Question
اگر کسی پر بہت سخت قسم کا جادو ہوا اور کوئی راستہ نہ ہو تو اس کو ختم کرنے اور توڑنے کے لیے ساحر کے پاس جانا درست ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر ساحر کفریہ کلمات استعمال نہیں کرتا اور نہ کوئی ایسا منتر وغیرہ استعمال کرتا ہے بلکہ جائز ذرائع سے جادو توڑنا جانتا ہے تو علاج کی غرض سے جانا درست ہے۔ ورنہ جائز نہیں ہے۔
حدیث شریف میں ایسے کاموں سے ممانعت وارد ہوئی ہے:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: من أتي ساحراً أو كاهناً أو عرافاً فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد ﷺ. (السنن الكبرى للامام البيهقي: ۸/۱۳٦/۱٦۹۳۹).
قال في المرقاة: قال ابن الملك: يؤول هذا الحديث بالمستحل والمصدق وإلا فيكون فاسقاً فمعني الكفر حينئذٍ كفران نعمة الله أو إطلاق اسم الكفر عليه لكونه من أفعال الكفرة الذين عادتهم عصيان الله تعالى. (مرقاة المفاتيح: ۲/٤۸۹).
قال الطيبي: تغليظ شديد ووعيد هائل
وقال المظهر: المراد أن من فعل هذه المذكورات واستحلها فقد كفر ومن لم يستحلها فهو كافر النعمة على ما مر غير مرة، وليس المراد حقيقة الكفر. (فيض القدير: ٦/۳۱/۸۲۸۸).
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اس مسلمان بیمار کو اگر معلوم ہے کہ اوجھا (ساحر) اپنے عمل میں کوئی ناجائز کام کرتا ہے اور جو منتر پڑھتا ہے وہ بھی شرک و کفر کے مضمون کا ہوتا ہے تو یہ بھی گنہگار ہوا، اس کو بھی توبہ کرنی چاہیے۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۷۸
)۔
حضرت مفتی محمود صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اس ضرورت کی حالت میں اس سے علاج کرنا درست ہے، مگر اس طرح کہ جو کچھ کرنا ہو وہ خود کرے، کھانا، پینا، باندھنا، پڑھنا کوئی کام مسحور کو نہ کرنا پڑے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۵۳
، جامعہ فاروقیہ)۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
جادو کرنا اور کرانا حرام ہے، اگر اس میں کوئی شئی عقیدۂ اسلام کے خلاف ہو تو کفر ہے۔ اور ہنود سے منتر اور گنڈا تعویذ وغیرہ نہیں لینا چاہیے کہ اس میں بسا اوقات شرک کی باتیں ہوتی ہیں، اس کی تعظیم اور اس پر اعتقاد کفر ہے۔ (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
٦۱
، ط: جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.