سحر کرنے یا کرانے کا حکم:
Question
سحر کرنے یا کرانے والا کافر ہے یا مجرم؟
Answer
سحر کی تمام نا جائز صورتیں جن کا تعلق کفر کے ساتھ نہ ہو ان میں سحر کرنے والا اور سحر کرانے والا دونوں مجرم و مرتکب حرام ضرور ہوں گے، ہاں جن صورتوں کا تعلق کفر یہ الفاظ کہنے اور کفریہ عمل کرنے یا ساحر کا معتقد الکفر بننے کے ساتھ ہو تو ان میں ساحر کافر ہو جائے گا۔ ملاحظہ ہو مقدمہ شامی میں ہے:
وللسحر فصول كثيرة في كتبهم، فليس كل ما يسمي سحراً كفراً، إذ ليس التكفير به لما يترتب عليه من الضرر بل لما يقع به مما هو كفر كاعتقاد انفراد الكواكب بالربوبية أو إهانة قرآن أو كلام مكفر ونحو ذلك، ملخصاً. وهذا موافق لكلام إمام الهدي أبي منصور الماتريدي، ثم إنه لا يلزم من عدم كفره مطلقاً عدم قتله، لأن قتله بسبب سعيه بالفساد كما مر، فإذا ثبت إضراره بسحره ولو بغير مكفر يقتل دفعاً لشره كالخناق وقطاع الطريق. (مقدمة الشامي: ۱/٤۵، مطلب السحر انواع، سعيد).
سل الحسام الہندی میں ہے:
(والحاصل) أن نفس السحر ليس كفراً عند الحنفية كالشافعية بل لا يكفر صاحبه به ما لم يقترن بمكفر ولذا نقل في تبيين المحارم عن إمام الهدي أبي منصور الماتريدي أن القول بأن السحر كفر على الإطلاق خطا ويجب البحث عن حقيقته فإن كان في ذلك رد ما لزم في شرط الإيمان فهو كفر وإلا فلا. انتهى. (رسائل ابن عابدين: ٤/۳۰۲).
(والسحر) قال في المدارك: إن كان في قول الساحر أو فعله رد ما لزم في شرط الإيمان فهو كفر وإلا فلا. (مرقاة المفاتيح: ۱/ ۱۲۳، مكتبه إمدادية، ملتان).
انوار البروق في انواع الفروق
میں ہے:
فالذي يستقيم في هذه المسألة ما حكاه الطرطوشي عن قدماء أصحابنا إنا لا نكفره حتى يثبت أنه من السحر الذي كفر الله به أو يكون سحراً مشتملاً على كفر كما قاله الشافعي
الخ. (٤/۲۹۷، دار الكتب العلمية بيروت).
احکام القرآن میں مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
والحق الحقيق بالقبول الذي لا يجوز الحيد عنه والعدول، وإليه يرجع كلام الأئمة الفحول هو ما قاله الإمام أبو منصور: إن القول بأن السحر كفر على الإطلاق خطأ بل يجب البحث عن حقيقته، فإن كان في ذلك رد ما لزم من شرط الإيمان فهو كفر وإلا فلا. ذكره في الروح ورد المحتار. (أحكام القران: ۱/ ٤۱، ط: إدارة القرآن).
معارف القران میں ہے:
خلاصہ یہ ہے کہ جس سحر میں کوئی عمل کفر اختیار کیا گیا ہو جیسے شیاطین سے استغاثہ و استمداد یا کواکب کی تاثیر کو مستقل ماننا یا سحر کو معجزہ قرار دے کر اپنی نبوت کا دعوی کرنا وغیرہ تو یہ سحر باجماع کفر ہے اور جس میں یہ افعالِ کفر نہ ہوں مگر معاصی کا ارتکاب ہو وہ گناہِ کبیرہ ہے۔ (معارف القرآن:
۱
/
۲۷۹
)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سحر کی مختلف اقسام ہیں بعض تو کفر محض ہیں اور بعض نہیں جو اقسام کفر ہیں ان کا استعمال کرنا یا سیکھنا سکھانا ہر حال میں حرام قطعی ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند:
۲
/
۲۱۳
، ط: دار الاشاعت)۔
سحر کرانے والا اگر ساحر کی تصدیق نہ کرے تو بھی سحر کی ناجائز صورتوں میں مجرم و مرتکب کبیرہ ہے۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
٦۱
، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.