ادعیہ میں صیغہ مذکر کو مؤنث میں تبدیل کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #25Urdu
Vol. 8باب (۱)ــــ: عملیات اور سحر سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر کوئی شخص کسی عورت کو دم کر رہا ہو اور حدیث کی دعا پڑھ رہا ہو جیسے: "
أسئل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك"
اس دعا میں
يشفيك
میں کاف کا فتحہ ہے تو لڑکی کے لیے کسرہ پڑھے یا حدیث کی اتباع میں فتحہ پڑھنا چاہیے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ افضل اور بہتر یہ ہے کہ الفاظِ حدیث کی اتباع میں فتحہ پڑھے اگر چہ لڑکی یا عورت پر دم کر رہا ہو، اور مذکر کا صیغہ شخص یا فرد کی تاویل کے ساتھ درست ہے، کیوں کہ یہ بات باعثِ برکت ہے، البتہ مؤنث کی وجہ سے کسرہ استعمال کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
ملاحظہ ہو شیخ ابن حجر الہیتمی المکی رحمه الله نے
"الإفادة لما جاء في المرض والعيادة"
میں لکھا ہے:

منها كما في مسلم وغيره أسئل الله العظيم رب العرش العظيم أن يعافيك ويشفيك

وينبغي فتح الكاف في المؤنث مريداً الشخص اتباعاً للفظ الوارد كما قاله الأئمة في نحو حنيفاً مسلماً في دعاء الافتتاح. (الإفادة لما جاء في المرض والعيادة، ص ۱۰).

موسوعہ فقہیہ کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
قال: وقياس ذلك أن تأتي المرأة أيضاً بـ حنيفاً مسلماً، بالتذكير، على إرادة الشخص، محافظة على الوارد ما أمكن. (الموسوعة الفقهية: ٤/۵۰).

فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اذکار و ادعیہ کے الفاظ توقیفی ہوتے ہیں اور ان میں خصائص و اسرار ہیں، قیاس کا دخل نہیں ہے لہذا اور اد کے الفاظ کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ ملاحظہ ہو:
حدثنا البراء بن عازب

فقلت آمنت برسولك الذي أرسلت قال: قل: آمنت بنبيك الذي

وأولي ما قيل في الحكمة في رده على من قال: الرسول، بدل النبي، أن ألفاظ الأذكار توقيفية ولها خصائص وأسرار لا يدخلها القياس فتجب المحافظة على اللفظ الذي وردت به وهذا اختيار المازري قال: فيقتصر فيه على اللفظ الوارد بحروفه وقد يتعلق الجزاء بتلك الحروف ولعله أوحي إليه بهذه الكلمات فيتعين أداء ها بحروفها. (فتح الباري: ۱۱/۱۱۲).

شرح النووی میں ہے:
إن سبب الإنكار أن هذا ذكر ودعاء فينبغي فيه الاقتصار على اللفظ الوارد بحروفه. (شرح النووي على صحيح مسلم: ۲/۳٤۸). (وكذا في إكمال المعلم للقاضي عياض: ۸/۲۰۹، وشرح الابي: ۹/۱۱۵).
بذل المجهود
میں ہے:
ثم لا فرق بين الرجل والمرأة في الأذكار والأدعية لحمله على التغليب أو إرادة الأشخاص. (بذل المجهود: ٤/۱۲۱).
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا:
۲
/
۱۳۸
)۔
ہاں چونکہ قرآن و حدیث کے الفاظ سے اقتباس جائز ہے اس وجہ سے کچھ تبدیلی کے ساتھ بالکسر بھی جائز ہے۔

قال في مختصر المعاني: أما الاقتباس فهو أن يضمن الكلام نظماً كان أو نثراً شيئاً من القرآن أو الحديث لا على أنه منه

ولا بأس بتغيير يسير في اللفظ المقتبس للوزن أو غيره. (مختصر المعاني: ۱/٤۵٦).

شیخ جمل حاشیہ جلالین میں فرماتے ہیں:

ويغتفر في الاقتباس تغير يسير في اللفظ المقتبس كقول بعض المغاربة لما مات له صاحب:
قد كان ما خفت أن يكونا
ظ
إنا إلى الله راجعونا

فتاوی فریدیہ میں مرقوم ہے:
سوال:
فاطر السموات والأرض أنت وليي في الدنيا والآخرة توفني مسلماً وألحقني بالصالحين
، اگر اس آیت کو کوئی دعا کی جگہ میں جمع کے صیغوں سے پڑھے یعنی
"توفنا مسلمين وألحقنا بالصالحين"؟
تو کیا اس سے کوئی گناہ ہوتا ہے؟ الخ۔
الجواب: یہ اقتباس کی ایک قسم جو کہ اجماعاً جائز ہے الخ۔ (فتاوی فریدیہ:
۱
/
۲٤۰
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.