بچہ کی نسبت تبدیل کرنے کا حکم:
Question
میں ایک مطلقہ عورت ہوں میرے شوہر کا خاندانی نام "ملا" ہے جب کہ میرا خاندانی نام "حافظی" ہے میری بچی کی نسبت شوہر کی طرف ہے یعنی ملا ہے اور میں عمرہ کے لیے جانا چاہتی ہوں شوہر ولادت کا کارڈ دینے سے انکار کرتا ہے، نیز دیگر دفتری کاموں میں بھی بچی کی اور میری خاندانی نسبت مختلف ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے تو کیا میرے لیے جائز ہے کہ بچی کی خاندانی نسبت میری طرف کر دوں؟ اور کیا یہ
"من انتسب إلى غير أبيه
الخ".
میں داخل ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ مذکورہ مشکلات کی بنا پر عرفی نسبت تبدیل کرنا درست ہے ہاں ولدیت تبدیل کرنا ناجائز ہے یعنی بچی کا باپ تو وہی کہلائے گا، احادیث میں ایسی مثالیں موجود ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں:
وفي الحديث الصحيح: قال النبي ﷺ للأنصار: لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار. (رواه البخاري، رقم: ۳۷۷۹).
اس حدیث کی شرح میں ابن دقیق العید فرماتے ہیں:
وقوله "لكنت امرءا من الأنصار" أي في الأحكام والعداد والله أعلم، ولا يجوز أن يكون المراد النسب قطعاً. (إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: ۱/۲٦٤، ط: مؤسسة الرسالة).
فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں:
ونسبة الإنسان تقع على وجوه: منها؛ الولادة، والبلادية، والاعتقادية، والصناعية ولا شك أنه لم يرد الانتقال عن نسب آبائه لأنه ممتنع قطعاً
ومعناه: لولا أن النسبة الهجرية لا يسعني تركها لانتسبت إلى داركم. (فتح الباري: ۸/۵۱).
وفي الحديث: قال الحسن: ولقد سمعت أبا بكرة رضي الله عنه قال: بينا النبي ﷺ يخطب جاء الحسن، فقال النبي ﷺ: إن ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين. (رواه البخاري: ۲/۱۰۵۳).
مذکورہ بالا روایت میں نبی پاک ﷺ نے اپنے نواسہ کو اپنا بیٹا فرمایا، یعنی بچہ کی نسبت اپنی طرف فرمائی ۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمه الله لکھتے ہیں:
وفيه إطلاق الابن على ابن البنت. (فتح الباري: ۱۳/٦۷).
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنه کے لیے آپ ﷺ نے یا بنی کے الفاظ استعمال فرمائے
يا بني احفظ الله يحفظك. الخ
، (المعجم الاوسط، للامام الطبرانی، رقم:
۵٤۱۷
) امام بخاری رحمه الله کے لیے جعفی کا لفظ ولاء کے اعتبار سے استعمال ہوا ۔
ہاں بچہ کی ولدیت باپ سے قطع کرنا یعنی حقیقی باپ کو چھپا کر کسی اور کی طرف باپ کی نسبت کرنا ناجائز ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
قیامت کے دن باپ کے نام سے پکارے جانے کا حکم:
سوال: کیا لوگوں کو قیامت کے دن باپ کے نام پکارا جائے گا یا ماں کے نام سے، ماں کے نام کے ساتھ پکارنے کی کوئی روایت ہے یا نہیں؟ اور کیا اس میں ولد الزنا کی حقارت تو نہیں ہو گی؟
الجواب: روایاتِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا، اور بعض ضعیف روایات سے پتا چلتا ہے کہ ماں کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے گا، بعض علماء نے اس میں تطبیق دی ہے کہ ماں کے نام سے پکارنے کی وجہ یہ ہے کہ ولد الزنا کی رسوائی نہ ہو ۔
اور بعض نے یہ کہا کہ عیسی علیہ السلام کی رعایت کی وجہ سے ماں کی طرف نسبت سے پکارا جائے گا ۔
بعض نے یہ کہا کہ بعض مرتبہ باپ کی طرف نسبت کر کے اور بعض مرتبہ ماں کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے گا ۔
بعض نے یہ کہا کہ بعض لوگوں کو ماں کے نام سے اور بعض لوگوں کو باپ کے نام سے پکارا جائے گا ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اگر نسب باپ کی طرف سے مشہور ہو تو باپ سے اور ماں کی طرف سے مشہور ہو تو ماں کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے گا اور اگر صرف نام مشہور ہو تو صرف نام سے پکارا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
أخرج الإمام أبو داود (٤۹۵۰) بسنده عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم. قال أبو داود: ابن أبي زكريا لم يدرك أبا الدرداء. (إسناده منقطع).
وأيضا أخرجه الدارمي في سننه (۲٦۹٤)، وابن حبان في صحيحه (۵۸۱۸)، وأحمد في مسنده (۲۱٦۹۳)، وعبد بن حميد (۲۱۳)، والبيهقي في شعب الإيمان (۸۲٦۵).
قال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف لانقطاعه فإن عبد الله بن أبي زكريا لم يسمع من أبي الدرداء. (تعليقاته على مسند أحمد).
وقال في تعليقاته على ابن حبان: رجاله ثقات غير داود بن عمرو وهو الأودي
وهو صدوق إلا أن عبد الله بن أبي زكريا لم يدرك أبا الدرداء كما نص عليه الحافظان ابن حجر رحمه الله والمنذري وغيرهما، فهو منقطع. (۱۳/۱۳۵/۵۸۱۸).
داود بن عمرو صدوق حسن الحديث، وثقه يحيى بن معين، وقال أحمد بن حنبل: حديثه مقارب، وقال أبو زرعة: لا بأس به، وقال أبو حاتم: شيخ، وقال أبو داود: صالح، ذكره ابن حبان في الثقات، تناكد العجلي فقال: يكتب حديثه ليس بالقوي. (تحرير التقريب: ۱/۳۷٦/۱۸۹٤).
اس کی تائید بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
عن ابن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إن الغادر يرفع له لواء يوم القيامة يقال: هذه غدرة فلان بن فلان. (أخرجه البخاري، رقم: ٦۱۷۷، باب ما يدعي الناس بآبائهم).
اس روایت میں فلان بن فلان یعنی باپ کی طرف نسبت مراد ہے ۔
ماں کے نام سے پکارے جانے کی روایت ملاحظہ کیجیے:
قال في المقاصد الحسنة: إن الله يدعو الناس يوم القيامة بأمهاتهم ستراً منه على عباده.
الطبراني في الكبير من حديث إسحاق بن بشر أبي حنيفة عن ابن جريج عن عبد الله بن أبي مليكة عن ابن عباس رضي الله عنه مرفوعاً به، وفي الباب عن أنس رضي الله عنه رفعه بلفظ يدعي الناس وذكره وعن عائشة رضي الله عنه وكلها ضعاف وقد أورده ابن الجوزي في الموضوعات. (المقاصد الحسنة، ص ۲۰۷).
طبرانی کی روایت میں مطلق اسماء کا ذکر ہے ۔ ملاحظہ ہو :
أخرج الإمام الطبراني في الكبير (۱۱۲٤۲) بسنده عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله تعالى يدعو الناس يوم القيامة بأسمائهم ستراً منه على عباده
الخ. قال الهيثمي: فيه: إسحاق بن بشر أبو حذيفة وهو متروك. (مجمع الزوائد: ۱۰/۳۵۹).
وراجع للمزيد: (كشف الخفاء: ۱/۲٤۷، واللآلي المصنوعة: ۲/۳۷۳، والضعفاء لابن الجوزي: ۱/ ۱۰۰/۳۰۷).
التعلیق الصبیح میں مذکور ہے:
قد جاء في بعض الروايات أنه يدعي الناس يوم القيامة بأسماء أمهاتهم، فقيل: الحكمة في ذلك ستر اولاد الزنا لئلا يفتضحوا لعدم الآباء لهم وقيل: ذلك لرعاية عيسى بن مريم عليه الصلاة والسلام إذ لا أب له وقيل: لا ظهار فضل الحسن والحسين وبشرفهما بإظهار نسبتهما إلى رسول الله ﷺ فإن ثبتت هذه الرواية حمل الآباء على التغليب كما في الأبوين ويحتمل أنهم يدعون بالآباء وأخري بالأمهات أو يدعي البعض بالآباء والبعض بالأمهات أو في بعض المواطن بهم وفي بعضها بهن، انتهى. (التعليق الصبيح: ۵/۱۵۵). (وكذا في بذل المجهود: ۱۹/۱۸۵، وعون المعبود: ۱۳/۲۹۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.