میت کو دفن کرنا میت کا اعزاز ہے، کیا حیوانات کو بھی دفن کرنا چاہیے؟
Question
میں نے سنا ہے کہ حدیث میں ہے: "میت کی تکریم میں اس کی تدفین شامل ہے" تو کیا اس میں جانور بھی شامل ہے یعنی جانوروں کو مرنے کے بعد دفن کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ ایک مقولہ ہے کہ "میت کی تکریم میں اس کی تدفین شامل ہے" یہ کوئی حدیث نہیں ہے، علامہ سخاوی رحمه الله نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھے مرفوعاً معلوم نہیں ہے، ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب "الموت" میں بحوالہ ایوب سختیانی ذکر کیا ہے کہ ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ یہ مقولہ مشہور ہے: میت کی تکریم میں سے ہے کہ اس کو جلدی دفنا دیا جائے۔ ملاحظہ ہو "المقاصد الحسنہ" میں علامہ سخاوی رحمه الله فرماتے ہیں:
حديث: "إكرام الميت دفنه" لم أقف عليه مرفوعاً وإنما أخرجه ابن أبي الدنيا في الموت له من جهة أيوب السختياني قال: كان يقال من كرامة الميت على أهله تعجيله إلى حفرته. (المقاصد الحسنة، ص ۱٤۱، رقم: ۱۵۰).
البتہ بعض روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ مرنے کے بعد دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، لیکن اس کا تعلق انسان کے ساتھ ہے نہ کہ جانوروں کے ساتھ۔ ملاحظہ ہو:
عن الحصين بن وحوح أن طلحة بن البراء مرض فأتاه النبي ﷺ، يعوده فقال: إني لا أري طلحة إلا قد حدث فيه الموت فآذنوني به وعجلوا فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله. (رواه أبو داود: ۲/٤۵۰، والبيهقي في سننه الكبري: ۳/۳۸٦، وسننه الصغير: ۱/۲۸٤).
وعن عطاء بن أبي رباح يقول: سمعت ابن عمر رضي الله عنه، يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: إذا مات أحدكم فلا تحبسوه، وأسرعوا به إلى قبره
الخ. (رواه الطبراني في الكبير، رقم: ۱۳٦۱۳، والبيهقي في شعب الإيمان، رقم: ۸۸۵٤).
ہاں جانور کے مرنے کے بعد دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ بہتر ہے تاکہ لوگوں کو اس کے تعفن اور بدبو وغیرہ سے تکلیف نہ ہو۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.