مصلحت کی وجہ سے پرندے کی چونچ کاٹنے کا حکم:
Question
اگر کسی مصلحت کی وجہ سے پرندے کی چونچ کاٹ دی جائے، تاکہ باریک باریک ریزے بھی کھا سکے تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ کیا یہ زندہ جانور کو تکلیف و تعذیب دینے میں شامل تو نہیں ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بعض مصالح کی وجہ سے چونچ کاٹنے کی اجازت ہے، لیکن ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جن سے جانور کو کم سے کم تکلیف ہو اور آج کل ایسے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔
چونچ کاٹنے کے متعلق ضروری تفصیل حسبِ ذیل ہے:
پرندے کی چونچ کاٹنے کی مصلحت؛
اگر چونچ کونہ کاٹا جائے اور عام مقدار سے بڑھ جائے تو کھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
پرندے کی چونچ طبعی طور پر لمبی ہوتی ہے، لمبائی کی مقدار جنس کے اعتبار سے ہوتی ہے، ماہرین کے کہنے کے مطابق بعض پرندے کی چونچ سال میں ۳ سینٹی میٹر تک بڑھتی ہے۔
مرغیوں کی چونچ کاٹنے کی مصلحت:
مرغیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہیں تو آپس میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہو کر نقصان پہنچاتی ہیں اس ضرر سے بچنے کے لیے مرغیوں کی چونچ کاٹی جاتی ہے۔
کھانے میں سہولت ہو جاتی ہے۔
چونچ کاٹنے کے طریقے:
ز
چونچ میں رگیں ہوتی ہیں اگر چونچ بہت چھوٹی کاٹی جائے تو خون بہنے کا اندیشہ ہے نیز درد اور تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے، درد کم کرنے کے درجِ ذیل طریقے ہیں:
ز پر
ندے کے پنجرے میں لکڑی کا ٹکڑا رکھا جائے، پرندہ خود بخود اس پر اپنی چونچ رگڑ لے، اس سے درجِ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
. پر
ندے کو اپنے پنجرے سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
.
مالک اگر یہ فعل انجام دے تو ممکن ہے کہ پرندہ ڈر جائے۔
.
اس میں غلطی کا احتمال کم ہوتا ہے۔
ز
ایسے آلات استعمال کیے جائیں جواس فعل کے لیے خاص بنے ہوے ہیں۔
ز
پرندوں کو جانور کے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے وہ اس کی باریکیوں کو خوب جانتا ہے۔
بنگاہِ شریعت چونچ کاٹنے کا حکم اور اس کے دلائل؛
قال في البحر الرائق: وفي المحيط: أن الأصل إيصال الألم إلى الحيوان لمصلحة تعود إلى الحيوان يجوز ولا بأس بكي البهائم للعلامة. (البحر الرائق: ۸/۲۳۲، دار المعرفة، بيروت). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵٦، وفتاوى الشامي: ٦/۳۸۸، سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: ولا بأس بقطع إلية الشاة إذا انفلتت ويمنعها من اللحوق بالقطع ويخاف عليها الذئب. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.