شوقیہ چوہے گھر میں رکھنے کا حکم:
Question
ایک آدمی کو گھر میں چوہے رکھنے کا شوق ہے۔ کیا شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شریعتِ مطہرہ نے ایسے جانوروں کو پالنے اور گھر میں رکھنے کی اجازت دی ہے جن میں کوئی فائدہ ہو مثلاً: دل بہلانے کے لیے پرندے پالنا، اور حفاظت وغیرہ کی غرض سے کتا پالنا جائز اور درست ہے، لیکن ایسے جانور جو موذی ہوں مثلاً: سانپ، بچھو وغیرہ یا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور طبیعت گھن محسوس کرے جیسے چوہا جس کو حدیث میں فویسقہ کہا گیا ہے تو ایسے جانور پالنا کراہت سے خالی نہیں۔
امام بخاری رحمه الله نے باب قائم کیا ہے:
باب خمس من الدواب فواسق يقتلن في الحرم.
اس باب کے تحت نمبر دو پر یہ حدیث نقل فرمائی ہے:
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه رفعه قال: خمروا الآنية وأوكوا الأسقية وأجيفوا الأبواب وأكفتوا صبيانكم عند العشاء فإن للجن انتشاراً وخطفة وأطفئوا المصابيح عند الرقاد فإن الفويسقة ربما اجترت الفتيلة فأحرقت أهل البيت. (صحيح البخاري، رقم: ۳۳۱٦).
یعنی کبھی کبھی چوہا پورے گھر کو آگ لگانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو فویسقہ کہا گیا۔
عمدۃ القاری میں ہے:
فقيل له: لم قال لها الفويسقة، قال: لأن رسول الله صلي الله عليه وسلم استيقظ لها وقد أخذت الفتيلة لتحرق بها البيت. (عمدة القاري: ۷/۵۰۰، باب ما يقتل المحرم من الدواب، ط: دار الحديث، ملتان).
ہاں مفید جانوروں کو پنجرے میں رکھنا جائز اور درست ہے، اس کے حوالے ما قبل میں گزر چکے ہیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.