جانور کی غذا کے لیے زندہ جانور پنجرے میں چھوڑنے کا حکم:
Question
اگر کسی کے پاس چڑیا گھر میں شکاری جانور نمائش کے لیے رکھے ہوے ہیں، تو اس کی خوراک کے لیے زندہ جانور پنجرے میں ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ زندہ ڈالنے کی دو وجوہات ہیں؛ ۱۔ زائرین کے مزہ اور دلچسپی کے لیے، ۲۔ ان کو وحشیت پر قائم رکھنے کے لیے۔ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ زندہ جانور کو اذیت دینا شریعتِ مطہرہ میں جائز اور درست نہیں ہے حدیث شریف میں ممانعت وارد ہوئی ہے، جانور کو ذبح کر کے ڈالا جائے، لیکن اگر شکاری جانور ذبح شدہ یا مردہ جانور کو نہیں کھاتے تو ایسے جانوروں کو رکھنے سے احتراز کرنا چاہیے، ماہرین سے سنا ہے کہ پنجرے میں رکھے ہوے سانپ مردہ یا ذبح شدہ مرغی نہیں کھاتے تو ایسے قابل نفرت اور ڈراونے سانپ پالنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ مسلم شریف میں روایت ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: لا تتخذوا شيئاً فيه الروح غرضاً. (صحيح مسلم، رقم: ۱۹۵۷).
وفي رواية له عن هشام بن زيد بن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: دخلت مع جدي أنس بن مالك رضي الله عنه دار الحكم بن أيوب فإذا قوم قد نصبوا دجاجة يرمونها قال: فقال أنس رضي الله عنه: نهي رسول الله ﷺ أن تصبر البهائم. (رقم: ۱۹۵٦).
وفي رواية له عن سعيد بن جبير قال: مر ابن عمر رضي الله عنه بنفر قد نصبوا دجاجة يترامونها فلما رأوا ابن عمر رضي الله عنه تفرقوا عنها فقال ابن عمر رضي الله عنه: من فعل هذا، إن رسول الله ﷺ لعن من فعل هذا. (رقم: ۱۹۵۸).
قال الإمام النووي رحمه الله: قال العلماء: صبر البهائم أن تحبس وهي حية لتقتل بالرمي ونحوه وهو معني لا تتخذوا شيئاً فيه الروح غرضاً أي لا تتخذوا الحيوان الحي غرضاً ترمون إليه
وهذا النهي للتحريم
ولأنه تعذيب للحيوان. (شرح النووي على مسلم: ۱۳/ ۱۰۸، بيروت).
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے کہ جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا جائز نہیں ہے، بوقتِ ذبح بھی زائد از ضرورت تکلیف دینے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے۔
قال: وكره النخع وهو أن يبلغ بالسكين النخاع
وقيل: أن يكسر عنقه قبل أن يسكن من الاضطراب، وكل ذلك مكروه لأنه تعذيب الحيوان بلا ضرورة، والحاصل أن كل ما فيه زيادة ألم لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه، كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۸).
قال في الدر: يكره تعليم البازي بالطير الحي، لتعذيبه. (الدر المختار: ٦/٤۷٤، سعيد).
قال في الهندية: ويعلم بالمذبوح كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۵/٤۳۱). (وكذا في المحيط البرهاني: ۵/۲۵۳، ط: دار إحياء التراث، وتحفة الملوك، ص ۲٤۱، ط: دار البشائر الإسلامية).
فتاوی رشیدیہ میں مرقوم ہے: سوال: ایک کیڑے کو جس کا نام گھینسا ہے اس کو توڑ توڑ کر اور کانٹے میں لگا کر شکار ماہی کا کرتے ہیں پس ایسا شکار کرنا اور اس مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟
جواب: اول اس کو مار کر پھر ٹکڑے کر کے کانٹے میں لگانا درست ہے اور زندہ کو لگانا منع ہے کہ اذیت ذی روح کی مکروہ تحریمی ہے۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
۵۸۱
، اسلامی کتب خانہ)۔
مردہ جانور، سانپ یا وحشی جانوروں کو کھلانے کا حکم:
جانوروں کو مردار کھلانے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علما نے منع کیا ہے، ہاں مردار کو ایک جگہ ڈال کر جانور کو اس طرف لے جانا درست ہے تاکہ وہ خود کھا لے۔ جیسے فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردار کو بلی، کتے کے پاس نہیں لے جانا چاہیے، بلکہ بلی، کتے کو مردار پر چھوڑنا چاہیے۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی بزازیہ میں ہے:
ولا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۸۲، فصل في حكم المسجد).
نفع المفتي والسائل
میں ہے:
ثم إن كان لا بد من سقي الخمر فرساً لا يشربه بل يضع الخمر بين يديه ليشربه، كما أن لا ينبغي أن يؤكل الميتة الكلب إلا بأن يضع الميتة بين يدي الكلب، فيأكله بنفسه كما في مطالب المؤمنين. (نفع المفتي والسائل، باب ما يتعلق بالحيوانات، ص ٤۷۲، بيروت).
المحيط البرهاني
میں ہے:
رجل له امرأة ذمية أو أب ذمي ليس له أن يقوده إلى البيعة، وله أن يقوده من البيعة إلى منزله، لأن الذهاب إلى البيعة معصية وإلى المنزل لا، ولا يحمل الخمر إلي الخل ولكن يحمل الخل إليها، وكذلك لا يحمل الجيفة إلى الهرة ويحمل الهرة إلى الجيفة. (المحيط البرهاني: ٦/۱۰۳، فصل في معاملة أهل الذمة، كتاب الاستحسان، رشيدية).
لیکن بعض فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ناپاک پانی جانوروں کو پلا سکتے ہیں۔
البحر الرائق میں ہے:
وفي الذخيرة: ولا بأس برش الماء النجس في الطريق ولا يسقي للبهائم وفي خزانة الفتاوى: ولا بأس بأن يسقي الماء النجس للبقر والإبل والغنم. (البحر الرائق: ۱/۱۲۵، كوئته).
ضرورت کی وجہ سے دوسرے قول پر فتوی دے سکتے ہیں پہلا قول کراہت یعنی خلاف اولی پر محمول ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.