کتے کی اچھی صفات اور بوقتِ ضرورت کتا پالنے کا حکم:
Question
آج کل کچھ لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ کتا سب سے اچھا جانور ہے اس سے بہت سے اچھے کام لیے جاتے ہیں، لیکن شریعتِ اسلامیہ نے اس کو قابل نفرت جانور قرار دیا ہے، اور اس کے پالنے پر ثواب کے کم ہونے کی وعید سنائی ہے اور ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس اس وجہ سے نہیں آئے کہ آپ کے گھر میں کتے کا بچہ تھا، تو شریعت نے کیوں اتنا مبغوض قرار دیا ہے، اس کی کیا وجوہات ہیں، نیز کن حالات میں کتا رکھنے کی اجازت ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ کتے میں جو فوائد ہیں اس سے تو انکار نہیں ہے البتہ اس میں بعض ایسی بری عادتیں اور خرابیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے شریعت نے اس کو مبغوض اور قابل نفرت قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے بلا ضرورتِ شدیدہ اس کا رکھنا جائز نہیں ہے، ہاں کھیتی کی حفاظت کے لیے اور چوکیداری کے لیے نیز شکار کے لیے رکھنے کی اجازت ہے یہ صورتیں حدیث میں مستثنی ہیں۔
بعض علماء نے کتے کی اچھی صفات اور فوائد پر مشتمل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں؛ چنانچہ ابو بکر محمد بن خلف ابن مرزبان محولی نے ایک کتاب بنام
"تفضيل الكلاب على كثير ممن لبس الثياب"
تصنیف کی ہے اس کتاب میں کتے کے بہت سارے فوائد ذکر کیے ہیں؛ ان میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
بھوکا رہتا ہے، یہ فقراء زاہدین کی صفت ہے۔
مکان نہیں بناتا، یہ متوکلین کی صفت ہے۔
رات کو بہت کم سوتا ہے، یہ عابدین کی صفت ہے۔
اس کا کوئی مکان نہیں ہوتا، اور میراث نہیں چھوڑتا، یہ زاہدین کی صفت ہے۔
اپنے مالک کو نہیں چھوڑتا، مخلصین کی صفت ہے۔
اپنی جگہ پر راضی رہتا ہے، یہ متواضعین کی صفت ہے۔
اگر کوئی اس کی جگہ لیتا ہے تو وہ دوسری جگہ تلاش کرتا ہے۔ یہ راضین کی صفت ہے۔
مارنے، بھگانے کے بعد پھر بلائے تو آ جاتا ہے، یہ خاشعین کی صفت ہے۔
کھانا رکھا ہو تو ایسے ہی بیٹھا رہتا ہے چاہے بھوکا ہو، یہ مساکین اور صابرین کی صفت ہے۔
مالک پر جان دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، یہ مخلصین کی صفت ہے۔
مالک کے احسان کو مانتا ہے، اور اس کا دفاع کرتا ہے، یہ شاکرین کی صفت ہے۔
شکار کے طور و طریقے سیکھ لیتا ہے، یہ متعلمین کی صفت ہے۔
مالک کی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے، یہ محافظین کی صفت ہے۔
حراست اور چوکیداری کرتا ہے، یہ مجاہدین کی صفت ہے۔
مالک سے محبت کرتا ہے، اور اس کے دشمن سے نفرت کرتا ہے، یہ محبین کی صفت ہے۔
مالک کے سامنے دم ہلا کر بیٹھتا ہے، یہ متواضعین کی صفت ہے۔
لیکن اس میں چند بری عادتیں بھی ہیں، جو درجِ ذیل ہیں:
حریصانہ: پوری ایک گائے پر ایک کتا دوسرے کتے کو برداشت نہیں کرتا۔
معاندانہ: اگر دوسرے محلہ کا کتا آ جائے تو سارے کتے مل کر اس کو بھگاتے ہیں۔
متنجسانہ: نجاست سے محبت رکھتا ہے اور اس کو کھاتا ہے۔ پیشاب کے لیے پاؤں اٹھاتا ہے پھر اپنے پیشاب کو چاٹتا رہتا ہے۔
شیاطین سے محبت۔ اِس وجہ سے فرشتے اس سے دور رہتے ہیں، اور ساحرین سحر میں کتے (خصوصاً کالے کتے) کے بالوں کو استعمال کرتے ہیں۔
الكلب الأسود شيطان
۔ (رواہ مسلم، رقم:
۵۱۰
)۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں:
الكلب حيوان ملعون تنفر منه الملائكة، وينقص ــ اقتناؤه والمحافظة معه بلا عذرــ من الأجر كل يوم قيراطاً، والسر في ذلك أنه يشبه الشيطان بجبلته لأن ديدنه لعب وغضب وإطراح في النجاسات وإيذاء للناس، ويقبل الإلهام من الشياطين. (حجة الله البالغة: ۱/٤۱٦).
کتے کی مذکورہ بالا خرابیوں کی وجہ سے شوقیہ کتا پالنا جائز نہیں ہے، اور اسی وجہ سے حدیث میں ثواب کم ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں حدیث ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من أمسك كلباً فإنه ينقص كل يوم من عمله قيراط إلا كلب حرث أو ماشية، قال ابن سيرين وأبو صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ إلا كلب غنم أو حرث أو صيد، وقال أبو حازم عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ كلب صيد أو ماشية. (رواه البخاري، رقم: ۲۳۲۲، باب اقتناء الكلب للحرث).
علامہ عینی رحمه الله عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں:
واختلفوا في سبب النقص فقيل امتناع الملائكة من دخول بيته أوما يلحق المارين من الأذى أو ذلك عقوبة لهم لاتخاذهم ما نهي عن اتخاذه أو لكثرة أكله النجاسات أو لكراهة رائحتها أو لأن بعضها شيطان أو لولوغه في الأواني عند غفلة صاحبها. (عمدة القاري: ۹/۹).
نیز یہ بھی ممکن ہے کہ مبغوض ہونے کی وجہ: اس کے لعاب میں مسموم اور زہریلے اثرات ہیں اور وہ اپنے مالک کو بار بار چاٹتا رہتا ہے۔ چنانچہ فتح الملہم میں علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب رقم طراز ہیں:
وقد حقق بعض الأطباء الألمانين من النصارى في عصرنا أن التتريب أيضاً مفيد لدفع السم الذي يكون في لعاب الكلب. (تكملة فتح الملهم: ۳/۵٦).
ہاں بوقتِ ضرورت کتا رکھنے کی اجازت ہے اور حدیثِ بالا میں بھی اس کا استثناء موجود ہے۔ البتہ بعض احادیث میں مطلقاً ممانعت وارد ہوئی ہے، اس کے بارے میں بھی شراحِ حدیث کی رائے یہ ہے کہ؛ اس سے مراد وہ کتا ہے جو فقط لہو لعب کے لیے ہو اور اس میں کوئی منفعت مقصود نہ ہو، ورنہ ضرورت کے لیے جائز ہے۔
ملاحظہ ہو بذل المجہود میں ہے:
لا تصحب الملائكة رفقة فيها جرس أو كلب
(مسلم، رقم ۲۱۱۳) وهذا إذا خليا عن المنفعة، وأما ما احتيج إليه منهما فمرخص فيه. (بذل المجهود: ۱۲/۵۳).
تكملة فتح الملهم
میں مرقوم ہے:
والذي يظهر لهذا العبد الضعيف، أن الكراهة المذكورة في الحديث إنما تنصرف إلى كلب وجرس قصد منهما اللهو والغناء. (تكملة فتح الملهم: ٤/۱۷۹).
وقال الإمام النووي: قال الخطابي: إنما لا تدخل الملائكة بيتاً فيه كلب أو صورة مما يحرم اقتناؤه من الكلاب والصور، فأما ما ليس بحرام من كلب الصيد والزرع والماشية والصورة التي تمتهن في البساط والوسادة وغيرهما فلا يمتنع دخول الملائكة بسببه وأشار القاضي إلى نحو ما قاله الخطابي والأظهر أنه عام في كل كلب وكل صورة. (شرح النووي على مسلم: ۲/۲۰۰).
خلاصہ یہ ہے کہ علامہ خطابی اور قاضی عیاض کے نزدیک ضرورت کا کتا ممنوع نہیں اور دخولِ ملائکہ کے لیے بھی مانع نہیں ہے البتہ امام نووی کے نزدیک ہر قسم کا کتا دخولِ ملائکہ سے مانع ہے۔
قال المناوي: لكن الظاهر أن المراد غير المأذون في اتخاذه، لأن المسافر يحتاجه. (فيض القدير: ٦/٤۰۵).
علامہ عبد الرؤوف مناوی کے نزدیک بھی ضرورت کے لیے کتا رکھنا ممنوع نہیں۔
وللمزيد ينظر: (عمدة القاري: ۱۵/۱۲۲، وحياة الحيوان: ۲/۲۹۰، بيروت، وتحفة الأحوذي: ۵/۲۹۲)
فقہاء نے بھی بوقتِ ضرورت کتا رکھنے کی اجازت دی ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مذکور ہے:
لا ينبغي اتخاذ كلب إلا لخوف لص أو غيره فلا بأس به ومثله سائر السباع، عيني. وجاز اقتناؤه لصيد وحراسة ماشية وزرع إجماعاً. وفي الشامية: قوله لا ينبغي اتخاذ كلب، الأحسن عبارة الفتح: وأما اقتناؤه للصيد وحراسة الماشية والبيوت والزرع فيجوز بالإجماع لكن لا ينبغي أن يتخذه في داره إلا إن خاف لصوصاً أو أعداء للحديث من اقتني كلباً إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۲۲۷، سعيد). (وكذا في فتح القدير: ۷/۱۱۹، دار الفكر، والفقه على المذاهب الأربعة: ۲/۱٦۱).
خلاصہ یہ ہے کہ بخاری شریف کی روایت میں جو استثناء ہے کہ حفاظت، زراعت، شکار اور حراست کے لیے کتا رکھنا جائز اور درست ہے اس کے پیش نظر جواز ہی راجح ہے، بلکہ فی زماننا مجرم کی تلاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور برف باری والے علاقوں میں ایک آدمی کی سواری کھینچتا ہے۔ ہاں شوقیہ کتا رکھنا ممنوع ہے اور اجر کے کم ہونے کا باعث ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.