۳٦سال کے بعد دعوی نہیں سنا جائے گا:
Question
ایک شخص کے والد صاحب نے تقریباً ۷۵ سال پہلے ایک زمین خریدی، یہ زمین بعض وجوہات کی بنا پر مشتری کے نامزد نہیں ہوئی تھی، کاغذات میں بائع کا نام درج ہے، مشتری نے اس پر مکان بنایا۔ پھر ۷۵ سال بعد بائع کے ورثہ نے مشتری کے ورثہ پر دعوی کر دیا کہ یہ زمین ہماری ہے، آپ مکان کی قیمت لے کر یہاں سے چلے جائیں، بائع و مشتری دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ اُس زمانہ میں زمین کی قیمت تقریباً سو روپے تھی لیکن اب اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ کیا اتنی مدت کے بعد زمین پر دعوی سنا جائے گا یا نہیں ؟
Answer
فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو زمین میں تصرف کرتے ہوے دیکھے اور باوجود قدرت کے اور عدمِ عذر کے ۳٦ سال تک دعوی نہ کرے تو پھر اس لمبی مدت کے بعد دعوی نہیں سنا جائے گا۔ بنا بریں صورتِ مسئولہ میں بائع کے ورثہ نے مشتری کو ایک طویل زمانہ تک تصرف کرتے دیکھا اور قدرت کے باوجود کوئی دعوی نہیں کیا تواب ان کا دعوی نہیں سنا جائے گا۔ ملاحظہ فرمائیں علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
وفي الحامدية عن الولوالجية: رجل تصرف زماناً في أرض ورجل آخر يري الأرض والتصرف ولم يدع ومات على ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوي ولده فتترك على يد المتصرف
ثم اعلم أنه نقل العلامة ابن الغرس في الفواكه البدرية عن المبسوط: إذا ترك الدعوى ثلاثاً وثلاثين سنة ولم يكن مانع من الدعوي ثم ادعي لا تسمع دعواه لأن ترك الدعوى مع التمكن يدل على عدم الحق ظاهراً، ومثله في البحر وفي جامع الفتاوى.
وقال المتأخرون من أهل الفتوى لا تسمع الدعوي بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائباً أو صبياً أو مجنوناً ليس لهما ولي أو المدعي عليه أميراً جائراً يخاف منه كذا في الفتاوى العتابية. (فتاوى الشامي: ٦/۷٤۲، سعيد).
احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
شرعاً تین سال کے بعد عدمِ سماعِ دعوی کی کوئی وجہ نہیں ، یہ مدت گزرنے کے بعد بھی دعوی سنا جائے گا، البتہ حضراتِ فقہائے کرام رحمه الله نے چھتیس (۳٦) برس تک بدونِ عذر دعوی دائر نہ کرنے کی صورت میں عدمِ سماع کا فیصلہ فرمایا ہے، وہ بھی اس لیے کہ اتنی طویل مدت تک بدونِ عذر خاموش رہنا مدعی کے کاذب ہونے کی دلیل ہے لہذا اگر اس کا یقین ہو جائے کہ مدعی کا واقعۃً حق ہے تو چھتیس برس گزرنے کے بعد بھی اس کا دعوی سنا جائے گا۔
قال في الأشباه: إن الحق لا يسقط بتقادم الزمان. (
احسن الفتاوی:
۷
/
۲۱۲
)۔
امداد الاحکام میں بحوالہ شامی چند قیود مرقوم ہیں:
۱۔ مدعی کا حال، صلاح بخوبی معلوم نہ ہو، اگر وہ معروف بالصلاح ہو، اور حیلہ تزویر کا احتمال اس پر نہ ہو تو دعوی بہرحال مسموع ہے۔
۲۔ تاخیر کے لیے کوئی عذر قوی نہ ہو، اگر عذر قوی موجود ہو تو، دعوی بہرحال مسموع ہوگا۔
۳۔ مدعی علیہ دعوی مدعی کا منکر ہو، اگر وہ مقر ہے تو دعوی مسموع ہے۔ گو کتنی مدت گزر جائے۔ (ملخص از امداد الاحکام:
٤
/
۱۰۰
)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (فتاوی حقانیہ:
۵
/
٤۰۹
، و فتاوی دار العلوم دیوبند، جلدِ اول، ص
٦۵۸
، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.