ہیٹر کا استعمال اور ایک حدیث کی تشریح:

4 min readFatwa Vol 8 #84Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حدیث شریف میں آتا ہے:
قال النبي ﷺ: لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون. متفق عليه، وعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: احترق بيت بالمدينة على أهله من الليل فلما حدث رسول الله ﷺ بشأنهم قال: إن هذه النار عدو لكم فإذا نمتم فأطفئوها. متفق عليه.

مہربانی فرما کر سمجھائیں کہ مسئلہ کی روسے ان گھروں کے بارے میں کیا حکم ہے جو مہینے بھر تک سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں فایرپلیس پر آگ جلاتے ہیں، اور ان مساجد کے بارے میں کیا حکم ہے جن میں قالین کے نیچے ہیٹر جلایا جاتا ہے، اور عام گھروں میں بھی لوگ رات بھر ہیٹر جلائے رکھتے ہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

موجودہ دور میں ہیٹر کی ساخت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ اس میں جلنے سے امن رہتا ہے، اور حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ سونے سے پہلے اپنی جان و مال کی حفاظت کا انتظام کر کے سویا کرو مبادا کوئی چنگاری لگ جائے اور جان اور مال و متاع کی ہلاکت کا سبب بن جائے۔
بائیں وجہ اندرونِ قالین ہیٹر میں سو فی صد جلنے سے امن حاصل ہے کیوں کہ وہ آگ ہی نہیں ، البتہ وہ ہیٹر جن میں سرخ آگ نظر آتی ہے اس میں کپڑے یا کملی وغیرہ کے جلنے کا قوی اندیشہ ہے لہذا اس قسم کے ہیٹر کو سونے سے قبل بند کر دینا چاہیے، نیز وہ آگ جلانے کی جگہ جو کمرۂ نشست و برخاست میں بنی ہوئی ہوتی ہے اس کو بھی سونے سے قبل بجھا دینا ضروری ہے ورنہ نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔
شراحِ حدیث کے اقوال ملاحظہ کیجیے:

قال العلامة العيني: وأما القناديل المعلقة في المساجد والبيوت فإن خيف منها أيضاً فتطفأ وإلا فلا. (عمدة القاري: ۱٤/٦۲۲، باب تغطية الإناء، ط: دار الحديث، ملتان).
وقال الشيخ الملا على القاري: قال الإمام النووي: هذا عام يدخل فيه السراج وغيره وأما القناديل المعلقة فإن خيف بسببها حريق دخلت في ذلك وإلا فلا بأس لانتفاء العلة. وقال القرطبي: جميع أوامر هذا الباب من باب الإرشاد إلى المصلحة ويحتمل أن تكون للندب لا سيما فيمن ينوي امتثال الأمر. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۳۱، ط: مكتبة إمدادية، ملتان).
وقال في تكملة فتح الملهم: وقال القرطبي: في هذه الأحاديث أن الواحد إذا بات ببيت ليس فيه غيره وفيه نار فعليه أن يطفئها قبل نومه أو يفعل بها ما يؤمن معه الاحتراق

وأما ما ورد بإطفاء النار مطلقاً كما في حديث أبي موسى فقد يتطرق منه مفسدة أخري غير جر الفتيلة كسقوط شيء من السراج على بعض متاع البيت وكسقوط المنارة فينثر السراج إلى شيء من المتاع فيحرقه فيحتاج إلى الاستيثاق من ذلك فإذا استوثق بحيث يومن معه الإحراق فيزول الحكم بزوال علته، كذا في فتح الباري، والحاصل أن إطفاء السراج أو النار معلل بالأمن من الاحتراق ومن الإسراف وإضاعة المال ويؤخذ منه حكم إطفاء نور الكهرباء فإن لزم منه إضاعة المال منع منه وإن كان لحاجته فلا بأس، والله أعلم. (تكملة فتح الملهم: ۳/٦۵۸).

خلاصہ یہ ہے کہ حدیث شریف میں جو حکم وارد ہوا ہے وہ ارشادی اور استحبابی ہے اور اس میں جان اور مال و متاع کے جلنے سے حفاظت کا سامان ہے، بہت سی مرتبہ ایسا ہوا کہ تھوڑی سی بے پروائی کی وجہ سے آگ والے ہیٹر سے مکان نظر آتش ہوا اور بہت سی جانیں ہلاک ہوئیں۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.