چندہ کی رقم سے ہیٹر یا گرم پانی کا انتظام کرنا :
Question
اگر مسجد میں سخت سردی میں نماز ہو تو وقف کی رقم سے مسجد گرم کرنے کے کیے ہیٹر یا گرم پانی کا انتظام کیا جائے تو درست یا نہیں؟
Answer
فتاوی قاضی خان میں ہے:
مسجد له مستغلات وأوقاف أراد المتولي إن يشتري من غلة الوقف للمسجد دهنا، أو حصيراً أو حشيشاً أو أجرا وجصاً لفرش المسجد أو حصي قالوا إن وسع الواقف ذلك للقيم وقال تفعل ما ترى من مصلحة المسجد كان له أن يشتري للمسجد ما شاء. وإن لم يوسع ذلك، ولكنه وقف لبناء المسجد وعمارة المسجد ليس للقيم أن يشتري ما ذكرنا لأن هذا ليس من العمارة ولا من البناء وإن لم يعرف شرط الواقف في ذلك ينظر هذا القيم إلى من كان قبله فان كانوا يشترون من أوقاف المسجد الدهن والحصير والحشيش والا جر وما ذكرنا كان للقيم إن يفعل ذلك والا فلا. (فتاوى قاضيخان ۳/۲۹۷)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
والأصح ما قال الإمام ظهير الدين أن الوقف على عمارة المسجد وعلى مصالح المسجد سواء كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية: ۲/٤٦۲).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسجد کے روپے سے خرید ے ہوے کوئلے سے صبح کو پانی گرم کیا جاتا ہے اس سے وضوء کر نا کیسا ہے؟
جواب: وقف کے روپے کوئلے کے لیے ہو ں اور وقف نامہ سے اس کی اجازت معلوم ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۲٤۷) ۔
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہو ا جو اشیاء مصالح مسجد میں داخل ہیں ان پر مسجد کے چندہ کی رقم لگا نا جائز ہے ہاں اگر چندہ دیتے وقت یہ تصریح کر دے کہ اس کی رقم صرف عمارت و بناء مسجد ہی پر لگا ئی جائے تو بعض حضرات کے ہاں اس کو دوسرے مصرف پر خرچ کر نا جائز نہیں ہو گا لیکن اصح قول یہ ہے کہ وقف علی عمارۃ المسجد اور وقف علی مصالح المسجد دونوں حکم میں برابر اور یکساں ہیں یعنی ایک کی رقم دوسرے میں خرچ کر نا جائز ہوگا، جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں بحوالہ فتح القدیر مذکور ہوا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.