مسجد کا پانی گھر لا کر استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #114Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک صاحب خیر شخص نے مسجد کے لیے کنواں کھدوا کر پانی کا انتظام کیا، مسجد سے ملحقہ مکان کے لیے بھی اس پانی کے پہنچانے کا انتظام کر دیا، نیز گھر کا مالک ماہانہ بجلی کا بل ادا کرتا ہے جو بجلی پانی کے پمپ میں استعمال ہو گی، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ پڑوسی مسجد کا پانی استعمال کر سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اصل واقف نے اپنی رضامندی سے خود انتظام کر دیا ہے، اور پانی حاصل کرنے کا ماہانہ بجلی کا صرفہ بھی مالکِ مکان ادا کرتا ہے، بنا بریں مسجد کا پانی استعمال کرنا جائز اور درست ہے ۔
فقہاء کی عبارات سے پتا چلتا ہے کہ واقف کی اجازت سے مسجد کی اشیاء استعمال کرنا درست ہے ۔

قال في الفتاوى الهندية: ولو وقف على دهن السراج للمسجد لا يجوز وضعه جميع الليل بل بقدر حاجة المصلين ويجوز إلى ثلث الليل أو نصفه إذا احتيج إليه للصلاة فيه، كذا في السراج الوهاج ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل إلا في موضع جرت العادة فيه بذلك كمسجد بيت المقدس ومسجد النبي ﷺ والمسجد الحرام، أو شرط الواقف تركه فيه كل الليل كما جرت العادة به في زماننا، كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۵۹).
وفي البحر الرائق: بعث شمعاً في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع ولو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام والمؤذن يأخذ من غير صريح الإذن في ذلك فله ذلك. (البحر الرائق: ۵/۲۵۰، ط: كوئته، وكذا في فتاوى الشامي: ٤/۳۷۷، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے: اگر تیل دینے والوں کی بھی اجازت و رضا مندی ہے تو جائز ہے اور متولی کا اذن بھی معتبر ہے ورنہ نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲۲/۲۰۰۳، مکتبہ محمودیہ) ۔
فتاوی محمودیہ کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
اہل محلہ کے لیے مسجد کے نل سے پانی لینا اسی صورت میں درست ہے جب کہ ان لوگوں کی طرف سے اجازت ہو جن کے چندہ سے وہ لگایا گیا ہے، اور اگر وہ خاص مسجد ہی کے لیے لگایا گیا ہے تو پانی لینا درست نہیں ہے ۔ (حاشیہ فتاوی محمودیہ: ۲۲/۲۰۰۱، ط: مکتبہ محمودیہ) ۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے: اگر واقف نے پانی وقف کرتے وقت اس کی اجازت دی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں لیکن مسجد کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا، اب اگر واقف نے کنواں مسجد اور دیگر ضروریات کے لیے تو وقف کیا ہے مگر پانی بجلی کی موٹر یا ڈیزل انجن وغیرہ کے ذریعہ نکالا جاتا ہو تو اس میں چندہ دہندگان کی نیت ضروری ہو گی ۔ (فتاوی حقانیہ: ۵/۱۰۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.