سونے سے پہلے زیتون اور سرمہ کا استعمال:
Question
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ سونے سے پہلے زیتون کا تیل لگانا اور سرمہ لگانا سنت ہے؟ کیا یہ کسی حدیث میں آیا ہے یا نہیں ؟ نیز سرمہ لگانے کا طریقہ کیا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
احادیث میں آتا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے روغنِ زیتون اور سرمہ استعمال فرمایا ہے، بنا بریں ان دونوں کا استعمال مستحب ہے، اور محبت کی علامت ہے، تاہم تتبع کثیر کے باوجود رات کے وقت تیل لگانے سے متعلق کوئی روایت دستیاب نہیں ہوئی، ہاں سوتے وقت سرمہ لگانا آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں آنکھ میں تین سلائی اور بائیں آنکھ میں تین سلائی استعمال کرے، اس کے علاوہ دیگر طریقے بھی احادیث میں منقول ہیں البتہ اس طریقہ کو حافظ ابن حجر رحمه الله اور علامہ عینی رحمه الله نے راجح قرار دیا ہے۔ علامہ آلوسی رحمه الله روح المعانی میں فرماتے ہیں:
وقد جاء في الحديث مدح الزيت لأنه منها، أخرج عبد بن حميد في مسنده والترمذي وابن ماجه عن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: ائتدموا بالزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة، وأخرج البيهقي عن عائشة رضي الله تعالي عنها أنها ذكر عندها الزيت فقالت: كان رسول الله ﷺ يأمر أن يؤكل ويدهن ويستعط به ويقول إنه من شجرة مباركة وهو في حد ذاته ممدوح. (روح المعاني: ۱۸/۱٦۷).
(وكذا في سنن ابن ماجه، رقم: ۳۳۱۰).
وفي الشمائل المحمدية: عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ يكثر دهن رأسه وتسريح لحيته، ويكثر القناع، حتى كان ثوبه ثوب زيات. (الشمائل المحمدية، ص ۱۱٦).
زاد المعاد
میں مرقوم ہے:
قال حماد بن سلمة عن سماك بن حرب قيل لجابر بن سمرة: أ كان في رأس النبي ﷺ شيب؟ قال: لم يكن في رأسه شيب إلا شعرات في مفرق رأسه إذا ادهن واراهن الدهن، قال أنس رضي الله عنه: وكان رسول الله ﷺ يكثر دهن رأسه ولحيته، ويكثر القناع كأن ثوبه ثوب زيات. (زاد المعاد: ۱/۱۷٦، ط: مؤسسة الرسالة).
سرمہ استعمال کرنے سے متعلق روایات ملاحظہ کیجیے:
وفي زاد المعاد: وكان له مكحلة يكتحل منها كل ليلة ثلاثاً عند النوم في كل عين. (زاد المعاد: ۱/۱۷٦، ط: مؤسسة الرسالة).
وفي الشمائل المحمدية: حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي البصري، أخبرنا عبيد الله بن موسي، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن عباد بن منصور، وحدثنا على بن حجر حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ يكتحل قبل أن ينام بالإثمد ثلاثاً في كل عين، وقال يزيد بن هارون في حديثه: أن النبي ﷺ كانت له مكحلة يكتحل منها عند النوم ثلاثاً في كل عين. حدثنا أحمد بن منيع، حدثنا محمد بن يزيد عن محمد بن إسحاق عن محمد بن المنكدر عن جابر هو ابن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: عليكم بالإثمد عند النوم فإنه يجلو البصر، وينبت الشعر. (الشمائل المحمدية، ص ۱٤٦، ۱٤۷).
حضرت مولانا محمد زکریا صاحب رحمه الله شمائل ترمذی کی درجِ ذیل حدیث نقل فرمانے کے بعد شرح میں رقم طراز ہیں:
حدثنا محمد بن حميد الرازي، أنبانا أبو داود الطيالسي عن عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنه، أن النبي ﷺ قال: اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر وزعم أن النبي ﷺ كانت له مكحلة يكتحل منها كل ليلة ثلاثة في هذه وثلاثة في هذه.
ترجمہ: ابن عباس
رضي الله عنه
فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اثمد کا سرمہ آنکھوں میں ڈالا کرو، اس لیے کہ وہ آنکھ کی روشنی کو بھی تیز کرتا ہے، اور پلکیں بھی زیادہ اُگاتا ہے، حضرت ابن عباس
رضي الله عنه
یہ بھی کہتے تھے کہ حضور اقدس ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس میں سے تین تین سلائی ہر رات آنکھوں میں ڈالا کرتے تھے۔
فائدہ: اثمد ایک خاص سرمہ کا نام ہے جو سیاہ سرخی مائل ہوتا ہے سرمہ سوتے وقت ڈالنا زیادہ مفید ہے کہ آنکھ میں دیر تک باقی رہتا ہے اور مسامات میں سرایت بھی اس وقت زیادہ کرتا ہے۔
سلائی کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں: بعض روایات میں دونوں آنکھوں میں تین تین وارد ہوئی ہیں جیسا کہ ابھی گزرا ہے، اور بعض روایات میں دائیں آنکھ میں تین بائیں میں دو وارد ہوئی ہیں یہ مختلف اوقات پر محمول ہیں کہ بعض مرتبہ حضور ﷺ ایسا فرماتے تھے اور بعض مرتبہ ایسا۔ حافظ ابن حجر رحمه الله، ملا علی قاری رحمه الله وغیرہ حضرات نے پہلی صورت کو راجح فرمایا ہے چنانچہ نبی آ کرم ﷺ سے بھی متعدد احادیث میں یہی صورت نقل کی گئی ہے۔ (شمائل ترمذی، ص
٤۷
، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.