حالتِ احرام میں روغن زیتون استعمال کرنے پر کفارہ کا حکم:
Question
اگر کسی محرم نے زیتون کا تیل زخم وغیرہ پر لگایا یا ہاتھ پر ملا تو جزا لازم ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر زیتون کا تیل بطور علاج استعمال کیا تو کوئی کفارہ لازم نہیں ہے، لیکن اگر ویسے ہی استعمال کیا تو عضو کامل پر ہو تو دم لازم ہے اور اس سے کم پر ہو تو صدقہ لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
سمت الزيت طيباً (في حديث أم سلمة رضي الله تعالى عنها) ولأنه أصل الطيب بدليل أنه يطيب بإلقاء الطيب فيه، فإذا استعمله على وجه الطيب كان كسائر الأدهان المطيبة، ولأنه يزيل الشعث الذي هو علم الإحرام وشعاره، وعلى ما نطق به الحديث، فصار جارحاً إحرامه بإزالة علمه فتكاملت جنايته فيجب الدم
. ولو داوي بالزيت جرحه أو شقوق رجليه فلا كفارة عليه، لأنه ليس بطيب بنفسه وإن كان أصل الطيب، لكنه ما استعمله على وجه الطيب فلا تجب به الكفارة
(بدائع الصنائع: ۲/۱۹۰، سعيد. وكذا في فتاوى الهندية: ۱/۲٤۰).
عالمگیری میں ہے:
فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيراً فاحشاً ففيه الدم، وإن كان قليلاً ففيه الصدقة
حتى لو طيب به عضواً كاملاً يكون كثيراً يلزمه دم، وفيما دونه صدقة. (الفتاوى الهندية: ۱/۲٤۰).
زبدۃ المناسک میں ہے:
تیسری قسم وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تو خوشبو نہیں ہے لیکن اس میں خوشبو بنائی جاتی ہے اور پھر خوشبو کے طور پر بھی کام میں آتی ہے، اور دوا کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے جیسے زیتون اور تل کا تیل تو اس میں استعمال کا اعتبار ہوگا، پس اگر اس کو تیل لگانے کے طور پر استعمال کیا ہے تو خوشبو کا حکم ہوگا، اور اگر کھانے میں یا بِ وائی کے اندر بھرنے میں استعمال کیا ہے تو اس کے واسطے خوشبو کا حکم نہ ہوگا ۔ (زبدۃ المناسک: ۳۴۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.