حالتِ احرام میں صابون کے استعمال پر کفارہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #320Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (٦): جنایات کا بیان

Question

حالتِ احرام میں صابون استعمال کرنے پر کوئی جزا واجب ہے یا نہیں؟

Answer

صابون کے ذریعہ ہاتھوں کی صفائی مقصود ہے خوشبو مقصود نہیں ہے، نیز اس کو دیکھنے والا طیب اور خوشبو نہیں سمجھتا بلکہ صفائی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور اس میں خوشبو کے اجزاء قلیل اور صفائی کے اجزاء زیادہ ہیں، لہذا اس میں دم واجب نہیں ہاں صدقہ دینا چاہیے ۔
غنیۃ الناسک میں ہے:

وغسل الرأس واللحية والجسد بالسدر ونحوه

بخلاف غسله بصابون أو دلوك وأشنان فإنه لا يكره إلا أن يزيل الوسخ. (غنية الناسك في بغية المناسك: ٤۷، فصل في مكروهات الإحرام، إدارة القرآن).

لباب المناسک میں ہے:

الغسل أي الاغتسال بالماء القراح، وماء الصابون والأشنان، ويكره بالسدر لكن يستحب أن لا يزيل الوسخ بأي ماء كان بل يقصد الطهارة أو دفع الغبار والحرارة. (لباب المناسك مع شرحه: ۱۳۵، فصل في مباحاته، بيروت).

معلم الحجاج میں ہے:
خالص صابون میں کوئی چیز واجب نہیں ہے، لیکن محرم کو میل دور کرنا مکروہ ہے ۔ (معلم الحجاج: ۲۳۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.