غیر مسلموں کے حقوق ـاور راستہ تنگ کرنے والی روایت کی وضاحت:

16 min readFatwa Vol 8 #105Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

مسلم شریف میں (۲/۲۱٤ پر) حدیث مرقوم ہے: "
لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه". وهكذا رواه أبو داود والترمذي وغيرهما
۔ یعنی جب تم یہود اور نصاری سے ملو تو سلام سے ابتدا مت کرو اور جب ان میں کسی سے ملاقات ہو جائے تو تنگ راستہ کی طرف ان کو چلنے پر مجبور کرو۔ غیر مسلم ممالک امریکہ، یورپ وغیرہ میں مسلمانوں کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ تمہارے ہاں غیر مسلموں کے کچھ حقوق ہی نہیں تمہارے مذہب میں وہ تنگ راستہ میں دھکیلنے کے قابل ہیں۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ از راہِ کرم وضاحت کیجیے۔ بینوا بالبیان توجروا بالجنان۔

Answer

حدیثِ مذکور کی تشریح اور وضاحت سے پہلے بطورِ تمہید کچھ معروضات پیش خدمت ہیں:
مذہبِ اسلام ایک انصاف پسند، قامعِ ظلم و ستم، محافظ حقوقِ انسانیت، اخلاقِ حسنہ کی حوصلہ افزائی کنندہ اور مخربِ اخلاق اعمال کی حوصلہ شکنی کنندہ، عالم گیر دستور العمل اور قانونِ حیات دین ہے۔ اس نے جہاں مملکتِ اسلامیہ میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے قوانین جاری کیے، وہیں پر غیر مسلم ذمیوں کے حقوق کی محافظت کے قوانین بھی یکساں طور پر لازم اور عائد کیے۔ معاملات، لین دین اور حقوق میں اسلام اور غیر اسلام کی تمیز کو روا نہیں رکھا۔ بلکہ اس بارے میں عدل و انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوے پورے عالم انسانیت کے قلوب کو اپنا گرویدہ و عاشق بنا لیا۔ انھیں خصوصیات کی وجہ سے چند دہائیوں میں لوگ جوق در جوق اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے، دنیا جس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، ہاں یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی مصور شیر ببر کو بزدل شکل میں منظر عام پر لائے تو یہ شیر کا قصور نہیں ہے بلکہ صاحب قلم کی خیانت ہے۔
غیر مسلموں کے ساتھ عدل و انصاف اور احسان و اکرام کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
(۱) اللہ تبارک و تعالی نے قرآنِ کریم میں تمام انسانوں کے اکرام کا حکم دیا ہے۔
قال الله تعالى: ﴿ولقد كرمنا بني آدم﴾ [الاسراء: ۷۰].

(۲) غیر مسلموں کے وفود آ جائیں تو ان کے اکرام کا حکم دیا گیا ہے۔ "
أجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم". (
صحیح البخاری:
۱
/
٤٤۹
)۔
(۳) مکہ مکرمہ میں قحط سالی کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ نے ۵۰۰ دینار بطورِ امداد بھیجے تھے۔ (المبسوط:
۱۰
/
۹۲
، دار الفکر، و شرح السیر الکبیر:
۱
/
۷۰
، و فتاوی الشامی، باب المصرف:
۳
/
۳۰۲
)۔
(٤) حضرت عکرمہ بن ابی جہل
رضي الله عنه
جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ جلدی سے اٹھ کر خوش ہو کر بغیر چادر اس طرف بڑھے اس کے بعد حضرت عکرمہ مسلمان ہوے۔ (صور من حیاۃ الصحابۃ، ص
۱۲۰
)۔
(۵) حضرت عدی بن حاتم
رضي الله عنه
مشرف باسلام ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آں حضرت ﷺ کے گھر میں ایک تکیہ یا گدا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی وہی ان کے سامنے رکھا اور فرمایا: اس پر بیٹھ جاؤ، حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنه نے کہا: آپ تشریف رکھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ آپ بیٹھ جائیں، پھر حضرت عدی
رضي الله عنه
اس پر بیٹھ گئے، اس کے بعد اسلام قبول کیا۔ (صور من حیاۃ الصحابہ، ص
۱۳۹
، و سیرتِ ابن ہشام:
۲
/
۵۸۰
، و الروض الانف:
٤
/
۳٦۰
، و تاریخ الرسل و الامم:
۲
/
۱۸۸
، بیروت)۔
(٦) حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنه کی بہن جب قید ہو کر نبی آ کرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے بلا فدیہ مع نفقہ و ساز و سامان و سواری، اکرام و احترام کے ساتھ رخصت فرمایا۔ (الروض الانف:
٤
/
۳٦۰
، و سیرتِ ابن ہشام:
۳
/
۵۷۹
، و عیون الاثر:
۲
/
۲۸٦
، و تاریخ الرسل و الملوک:
۲
/
۱۸۷
، و السیرۃ النبویۃ لابن کثیر:
٤
/
۱۲۵
، و تاریخ مدینۃ دمشق:
٦۹
/
۱۹۹
، ط: دار الفکر)۔
(۷) نبی کریم ﷺ کی رضاعی بہن شیما بنت الحارث جب قید ہو کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی چادر پھیلا کر اس پر بٹھایا اور اعزاز و اکرام کے ساتھ عطا و نوال کے ساتھ رخصت فرمایا۔ (البدایہ و النہایہ:
٤
/
٤٦۷
،
۷٦۳
، دار المعرفۃ، بیروت، و الروض الانف:
٤
/
۲۲۷
، و سیرۃ ابن ہشام:
۲
/
٤۵۷
، و عیون الاثر:
۲
/
۲۲۱
)۔
(۸) حضرت عبد اللہ بن عمرو
رضي الله عنه
بکری ذبح کرتے تھے تو یہودی پڑوسی کے پاس سالن بھیجتے تھے۔ (شعب الایمان للبیہقی:
۷
/
۸٤
، و سنن الترمذی:
۲
/
۱٦
، و الادب المفرد:
۱
/
۵
)۔
(۹) حضرت علی بن ابی طالب
رضي الله عنه
نے فرمایا: جن کو ہماری جانب سے امان حاصل ہے ان کے خون کا احترام مسلمانوں کے خون کے احترام کی طرح ہے اور ان کا خون بہا مسلمانوں کے خون بہا کی طرح ہے۔ (سنن الدار قطنی:
۳
/
۱٤۷
، القاہرۃ، و نصب الرایہ:
۳
/
۳۸۱
، بیروت، و مسند الامام الشافعی:
۱
/
۳٤٤
، بیروت)۔
(۱۰) مفسرین نے
﴿ليس عليك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء، وما تنفقوا من خير فلأنفسكم﴾ [البقرة: ۲۷۲]
کے شانِ نزول میں لکھا ہے کہ بعض انصار اپنے مشرکین رشتہ داروں پر خرچ کرنے سے گریز کرتے تھے تاکہ مسلمان ہو جائیں، اس پر تنبیہ کر دی گئی کہ ہدایت تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تم جو خرچ کرتے ہو اس کا بدلہ اور اجر ملے گا۔ (روح المعانی:
۳
/
۷۳
) معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔
(۱۱) قرآنِ کریم میں فرمانِ الہی ہے:
﴿لاينها كم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم أن تبروهم وتقسطوا إليهم﴾ [الممتحنة: ۸]
جو غیر مسلم تمہارا مقابلہ نہیں کرتے اور تم سے قتال نہیں کرتے اور تم کو گھروں سے نہیں نکالا ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۲) "
من قتل معاهداً لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاماً". (رواه البخاري، رقم: ۳۱٦٦).

جس نے مسلم ملک کے غیر مسلم شہری کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا، جب کہ یہ خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔
(۱۳) نبی پاک ﷺ نے ہرقل کافر کو خط لکھا اس میں عظیم الروم کے الفاظ لکھے جو اکرام و تعظیم پر دلالت کرتے ہیں۔ (بخاری:
۱
/
۵
/
۷
، مع عمدۃ القاری:
۱
/
۱۵۹
، دار الحدیث، ملتان)۔
(۱٤) وفدِ نجران اور وفدِ ثقیف کو مسجد میں ٹھہرایا تھا۔ جب کہ یہ مسیحی اور غیر مسلم تھے۔ (البدایۃ و النہایۃ:
۵
/
٦۰
، وفد اہل نجران، ط: الریاض، و شرح مواہب:
٤
/
٤۱
۔ و البدایۃ و النہایۃ:
۵
/
۳۳
، قدوم وفد ثقیف علی رسول اللہ ﷺ فی رمضان من سنۃ تسع، ط: الریاض، و تاریخ الاسلام للامام الذہبی:
۲
/
٦٦۹
، بیروت)۔
(۱۵) حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اپنے عمال کو خط تحریر فرمایا تھا اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ غیر مسلم ذمیوں کا خیال رکھو، ان میں سے جو بڑھاپے کو پہنچ جائے، اور اس کے قوی کمزور پڑ جائیں، اور کمائی کے ذرائع ختم ہو جائیں، تو ان کے لیے بیت المال میں سے وظیفہ جاری کر دو۔

ذكر أبو عبيد في "الأموال" كتاب عمر بن عبد العزيز رحمه الله لعامله على البصرة وفيه: وانظر من قبلك من أهل الذمة قد كبرت سنه، وضعفت قوته، وولت عنه المكاسب، فأجر عليه من بيت مال المسلمين ما يصلحه. (الاموال، ص ٤٦).

اس عبارت پر ڈاکٹر یوسف قرضاوی فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ اسلام کا عدل و انصاف ہے کہ غیر مسلموں کو والی کے پاس آنے اور مدد طلب کرنے کی مہلت نہیں دی، بلکہ اس سے پہلے والیوں کو توجہ کیا کہ خود جا کر دیکھیں، ان کے حالات کی تفتیش کریں اور حاجات اور مطالبات کا انتظام بیت المال سے کر دیں۔

قال الشيخ: ومعني أجر عليه: اجعل له شيئاً جارياً، وراتباً دورياً، والجميل حقاً أنه لم يدع أهل الذمة حتى يطلبوا هم المعونة، بل طلب الخليفة من الوالي أن يبادر هو فينظر في حالاتهم ومطالبهم، فيسدها من بيت المال، هذا هو عدل الإسلام. (فقه الزكاة: ۲/۱۵۸).

(۱٦) الاشباہ و النظائر میں لکھا ہے: اگر غیر مسلم پر کافر کا لفظ بھاری ہو تو اس کو یا کافر نہ کہا جائے۔
ولو قال لذمي: يا كافر يأثم إن شق عليه. (الأشباه والنظائر: ۲/۲۵۷).

(۱۷) غیر مسلم یہودیہ، نصرانیہ کے ساتھ نکاح منعقد ہو جاتا ہے جب کہ بیوی کے ساتھ آدمی ایک بستر پر لیٹتا ہے دیوار کے ساتھ نہیں لگاتا۔
(۱۸) الاشباہ میں ہے: "
الذمي حكمه حكم المسلمين، إلا أنه لا يؤمر بالعبادات، وقال العلامة الحموي: يعني في غير ما يوجب تعظيمه

الخ". (الأشباه: ۳/۸۳، ط: إدارة القرآن)
یعنی غیر مسلم ذمی کا حکم مسلمانوں کے حکم کی طرح ہے ہاں وہ عبادات کے اہل نہیں اس لیے عبادات کا حکم نہیں دیا جائے گا، علامہ حموی رحمه الله اس پر فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی (بڑی شخصیات کی) طرح ان کی (بڑی شخصیات کی) عزت و تعظیم نہیں کی جائے گی (تاکہ مذہبِ منسوخ کی حقانیت کا شبہ نہ ہو)۔
لہذا یہ کہنا کہ اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق نہیں افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔
اس مختصر تمہید کے بعد اصل جواب کی طرف آتے ہیں: جس حدیث کے متعلق آپ نے استفسار فرمایا اس حدیث پر شارحینِ حدیث نے شروحاتِ حدیث میں بحث فرمائی ہے۔ مثلاً: بذل المجہود شرح ابی داود: ۲/ ۱٤۲، و تکملہ فتح الملہم: ٤/۲۵۵، و مرقاۃ المفاتیح، نیز فقہ کی کتابوں میں: شامی: ٤/۲۰۸، البحر الرائق: ۵/۱۱۳ پریہ بحث موجود ہے۔ لیکن اس حدیث مبارک کا ایک بے غبار اور آسان مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنی محترم شخصیات کے اکرام میں ہجوم اور ازدحام میں خود اپنے آپ کو تنگ جگہ کی طرف دھکیلتے تھے اور ان کے لیے کھلا راستہ چھوڑتے تھے اور ان کے آگے نہیں چلتے تھے بلکہ کھلے ہوئے راستہ میں بھی تلامذہ خود دیوار سے لگ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور شیخ کو گزرنے دیتے تھے۔
اسی لیے جب اعرابی کی اونٹنی رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی سے آگے ہوئی تو صحابہ کرام پر شاق گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس دنیا میں جو آگے ہوتا ہے وہ کبھی پیچھے بھی ہو جاتا ہے۔ (مصنفِ ابن ابی شیبہ:
۱۸
/
۱۸۷
، ط: المجلس العلمی، و مسند احمد:
۳
/
۱۰۳
، دار الفکر، و البخاری:
۱
/
٤۰۲
، باب ناقۃ النبی ﷺ)۔
اور ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر رضي الله عنه اور حضرت عمر رضي الله عنه جنازہ سے آگے اس لیے چلتے تھے تاکہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں اگر وہ پیچھے چلتے تو ہجوم میں لوگ ان کے لیے راستہ کھلا چھوڑتے اور خود دقت اور مشقت برداشت کرتے۔ (شرح معانی الآثار:
۱
/
۳۱۲
، ط: فیصل، و مسند البزار:
۲
/
۱۳۷
، ط: مکتبۃ العلوم و الحکم، و سنن کبری للبیہقی:
۲
/
۲۵
، دار المعرفۃ) اور اب بھی یہی عادت ہے، تو اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ غیر مسلم جن کو ذمی کہتے ہیں اور ذمی کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، ان کی حفاظت تو اپنی جگہ لیکن ان کو عموماً اور ان کی محترم شخصیات کو خصوصاً وہ عزت مت دو جو تم اپنی محترم شخصیات کو دیتے ہو اگر وہ تنگ جگہ میں کھڑے یا چلتے ہوں تو ان کو چلنے دیں اگر ہم نے ان کو وہی عزت دی جو ہم اپنے مشائخ اور والدین کو دیتے ہیں تو اس سے عام مسلمانوں میں ان کے مذہب کے حق ہونے کا شبہ پیدا ہو گا جب کہ ان کا مذہب محرف اور منسوخ ہے اور ہمارا دین تا قیامت باقی اور حق ہے۔
حدیثِ مذکور کے ان الفاظ "
لا تبدءوا اليهود ولا النصارى"
سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں ان کی محترم شخصیات خصوصاً اور عام غیر مسلم عموماً مراد ہیں، اس لیے کہ سلام کا قاعدہ یہ ہے کہ کم درجے والا بڑے درجے والے کو سلام کرتا ہے تو اس حدیث میں بتلایا کہ غیر مسلم کا درجہ جتنا بھی بڑا ہو مسلمان نہ اس کو ابتداء بالسلام کریں اور نہ خود کنارے پر کھڑے ہو کر اس کے لیے راستہ کشادہ کریں، احادیث کی کتابوں میں
"يسلم الصغير على الكبير" (رواه البخاري، رقم: ٦۲۳۲)
کے الفاظ وارد ہیں اس میں عمر کے لحاظ سے صغیر اور مرتبہ میں صغیر دونوں داخل ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمه الله نے فتح الباری میں فرمایا:
حاصل ما في هذا الحديث أن المفضول بنوع ما يبدأ الفاضل. (فتح الباري: ۱۱/۱۷).
دوسری جگہ مازری سے نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
يبدأ الأدنى منهما الأعلى قدراً في الدين إجلالاً لفضله. (فتح الباري: ۱۱/۱٦).
معلوم ہوا کہ مسلمان غیر مسلموں کی بڑی شخصیات کو خصوصاً اور دوسروں کو عموماً شرعی سلام "جو عبادت ہے" کی ابتداء نہ کریں اور نہ ان کے لیے راستہ کشادہ کریں، ہاں اگر سلام کی جگہ اشارہ کر کے گڈ مارننگ یا اس جیسے الفاظ کہہ دیں تو گنجائش ہے تاکہ وہ مانوس ہو جائیں لیکن سلام کے الفاظ صرف مسلمانوں کے لیے شرعی الفاظ ہیں جو شریعت نے مقرر کیے ہیں۔
والله أعلم وعلمه أحكم
۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.