شیخ سے فروعی مسائل میں اختلاف کا حکم:
Question
زید عالم ہے کیا اس کے لیے فروعی مسائل میں اپنے شیخ سے اختلاف کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟ نیز اگر عملِ شیخ اور مسئلہ شرعی میں بظاہر اختلاف نظر آئے تو کس کو ترجیح دینی چاہیے؟ ایک عالم صاحب نے بتایا کہ مسائل الگ ہیں اور مزاجِ شریعت الگ ہے کیا ایسا ممکن ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ عالم کو عالم ہونے کی حیثیت سے مسائل فرعیہ اور فقہی تحقیقات میں اپنے شیخ سے اختلاف کی گنجائش ہے، اس کی وجہ سے باطنی فیض پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا، اور مسائل شرعیہ فرعیہ اور مزاجِ شریعت ایک ہے، ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض مرتبہ مسائل شرعیہ فرعیہ میں رخصت و عزیمت کے دو پہلو ہوتے ہیں اور شیخ عزیمت پر عمل کرے تو اس کی وجہ سے "
الأجر بقدر التعب"
کے قاعدہ سے ان کو دوہرا اجر ملے گا۔
حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمه الله مکہ مکرمہ میں مولد النبی ﷺ میں شرکت فرماتے تھے، کسی نے حضرت گنگوہی رحمه الله سے عرض کیا تو حضرت گنگوہی رحمه الله نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے حاجی صاحب رحمه الله سے اصلاحِ نفس میں بیعت کی ہے مسائل میں بیعت نہیں کی ہے۔ مستفاد از (تحفۃ العلماء، ص
۳۰۲
۔
۳۰۳
)۔
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب رحمه الله نے ماہنامہ "البلاغ" میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کے بارے میں لکھا ہے:
فتوی کی ذمہ داری آ جانے کے بعد حضرت حکیم الامت رحمه الله سے خط و کتابت کا رنگ بھی خاصا بدل گیا تھا، ان خطوط میں اب بڑا حصہ پیچیدہ تحقیقات نے لے لیا تھا، بعض اوقات کسی مسئلہ کی تحقیق میں مرشد اور مرید کا اختلاف بھی ہو جاتا تھا، صفحے کے صفحے اپنے اپنے دلائل اور اشکالات کے جواب میں بذریعہ خطوط لکھے جاتے، کبھی مرید اپنے مرشد کی تحقیق کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا، کبھی مرشد مرید کی تحقیق کو ترجیح دے کر اپنی رائے سے رجوع کر لیتا اور اگر کبھی ایک دوسرے کے دلائل میں غور و فکر اور باہمی مشوروں کے باوجود اختلافِ رائے باقی رہتا تو مسئلہ دریافت کرنے والے سے اختلاف کا اظہار کر دیا جاتا تاکہ اسے جس کے فتوی پر زیادہ اطمینان ہو اس کے مطابق عمل کرے۔ (ماہنامہ "البلاغ" ص
۱۵۷
)۔
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
علم و تحقیق کے سفر میں ایسے مراحل بھی آتے ہیں جہاں ایک طالبِ علم کو کسی دوسرے عالم سے اختلاف کرنا پڑتا ہے، اور بعض مقامات پر اپنے بڑو ں سے بھی اختلاف کرنا پڑتا ہے، اس سلسلہ میں حضرت والد صاحب کا طرزِ عمل یہ تھا کہ نہ تو کسی کا ادب و احترام اس سے اختلافِ رائے کے اظہار میں مانع ہوا، اور نہ کبھی اختلافِ رائے نے ادب و احترام میں ادنی رخنہ اندازی کی، آپ نے بعض مسائل میں بڑے بڑے علماء سے بھی اختلاف کیا، بلکہ اپنے شیخ و مربی حکیم الامت تھانوی قدس سرہ سے بھی چند فقہی مسائل میں اختلافِ رائے رہا۔ (البلاغ، ص
٤٤۵
)۔
احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
شریعت احکامِ ظاہرہ و باطنہ کا مجموعہ ہے اور طریقت صرف احکامِ باطنہ کو کہا جاتا ہے اس لیے طریقت شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ شریعت ہی کا ایک شعبہ ہے، شریعت کے تمام احکامِ ظاہرہ و باطنہ کے کامل اتباع کی بدولت بعض حقائق تکوینیہ و تشریعیہ کا انکشاف ہوتا ہے یہ حقیقت ہے۔ (احسن الفتاوی:
۱
/
۵٤۹
)۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے: (خانقاہ تھانہ بھون میں آپ کی خصوصیت):
اگر چہ حضرت تھانوی رحمه الله کے تمام ہی خلفاء علم و عمل، اور دیانت و تقوی اور اصلاح و ارشاد کے درخشاں آفتاب ہیں، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اپنے پیر و مرشد کے علمی مزاج کو سب سے زیادہ حضرت مفتی صاحب رحمه الله نے اپنایا تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت کو فتاوی کے بارے میں سب سے زیادہ اعتماد حضرت مفتی صاحب رحمه الله کی علمی تحقیقات پر ہوتا تھا بار ہا کسی علمی تحقیق پر اپنے کئی خلفاء کو مامور فرمایا کہ ہر ایک اپنی اپنی تحریر پیش کرے حضرت مفتی صاحب رحمه الله بھی ان میں شامل ہوے اور اکثر و بیشتر آپ کی ہی تحریر کو پیر و مرشد سب سے زیادہ پسند فرما کر دعائیں دیتے حضرت تھانوی رحمه الله کو آپ کے فتاوی پر کس قدر اعتماد تھا، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ کئی بار حضرت تھانوی رحمه الله نے اپنے ذاتی معاملات میں حضرت مفتی صاحب رحمه الله ممدوح سے فتوی طلب کر کے اس پر عمل فرمایا۔ ایک مرتبہ اپنی کسی ذاتی معاملہ میں حضرت تھانوی رحمه الله نے حضرت مفتی صاحب رحمه الله سے استفتاء فرمایا مفتی صاحب رحمه الله نے جواب بھیجا تو حضرت تھانوی رحمه الله نے آپ کو خط میں لکھا کہ، آپ کا فتوی ملا اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے پڑھ کر دو خوشیاں ہوئیں ایک تو اس کی کہ علم حاصل ہوا، دوسری اس بات کی کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ میرے بعد بھی کام کرنے والے موجود ہیں۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص
٦۵
، ابتدائیہ، ط: دار الاشاعت)۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کے مابین بھی بہت سارے فقہی مسائل میں اختلاف تھا جس کی تفصیلات کتبِ فقہ میں مشہور و معروف ہیں۔
حضرت امام شافعی رحمه الله اور امام مزنی کے درمیان بھی بعض فقہی مسائل میں اختلاف تھا۔
ملاحظہ ہو المجموع شرح المہذب میں ہے:
قد ذكرنا أن الصحيح من مذهبنا أن الإفراد أفضل، وبه قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه وعثمان رضي الله عنه وعلي رضي الله عنه وابن مسعود رضي الله عنه وابن عمر رضي الله عنه وجابر رضي الله عنه وعائشة رضي الله تعالى عنها ومالك رحمه الله والأوزاعي رحمه الله وأبو ثور رحمه الله، وقال أبو حنيفة رحمه الله وسفيان الثوري رحمه الله وإسحاق بن راهويه رحمه الله والمزني رحمه الله وابن المنذر رحمه الله وأبو إسحاق المروزي: القران أفضل، وقال أحمد: التمتع أفضل، وحكي أبو يوسف رحمه الله أن التمتع والقران أفضل من الإفراد. (المجموع شرح المهذب: ۷/۱۵۲، دار الفكر).
شیخ محمد عوامہ ادب الاختلاف میں فرماتے ہیں:
حكم الاختلاف في الفروع: لا يخفي على العاقل جواز الاختلاف في فروع الأحكام الشرعية عقلاً وشرعاً وأدل دليل على جوازه عقلاً: وقوعه، وأدل دليل على جوازه شرعاً: وقوعه من صدر الأئمة وأفضلها بعد أنبياء الله تعالى ورسله (عليهم السلام) وهم الصحابة رضوان الله عليهم، وفيهم أبو بكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه وبقية الخلفاء الراشدين، وبقية العشرة المبشرين وفقهاء الصحابة وعلماء هم بكتاب الله تعالى
وتابعيهم إلى يومنا هذا. (أدب الاختلاف للشيخ محمد عوامة، ۲۵، ط: دار البشائر الإسلامية).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.