کفار فروعی احکام کے مکلف ہیں یا نہیں ؟

7 min readFatwa Vol 8 #208Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کفار فروعی احکام کے مکلف ہیں یا نہیں ؟ یا اس میں اختلاف ہے، اگر مسئلہ مختلف فیہ ہے تو راجح مذہب کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ایمانیات میں تو کسی کا اختلاف نہیں دنیا و آخرت دونوں جہاں میں مخاطب ہیں۔ (۲) عقوبات میں بھی بالاتفاق مخاطب ہیں سوائے حد شرب کے۔ لیکن احکامِ اسلام کا التزام یعنی پابندی کا معاہدہ اگر نہ ہو تو ان پر حد جاری نہیں ہو گی۔
(۳) معاملات میں بالاتفاق آخرت میں مخاطب ہیں دنیا میں مخاطب ہونے کے بارے میں اختلاف ہے: امام زفر رحمه الله کے نزدیک مخاطب ہیں چاہے ذمی ہو یا حربی، لہذا جو معاملات خلاف شرع کریں گے ان کے فساد کا حکم لگایا جائے گا۔
صاحبین رحمه الله کے نزدیک حربی مخاطب نہیں البتہ اہل ذمہ اس کے مخاطب ہیں کیوں کہ معاملات میں انہوں نے احکامِ اسلام کا التزام کیا ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک اہل ذمہ کے خلاف شرع معاملات پر بھی حکمِ فساد نہ لگایا جائے گا بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیوں کہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکامِ اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا۔
(٤) عبادات میں بالاتفاق آخرت میں مخاطب ہیں البتہ دنیا میں مخاطب ہونے کے بارے میں اختلاف ہے؛ جمہور کے نزدیک اعتقاداً مخاطب ہیں نہ کہ اداء ً الا یہ کہ ایمان لے آویں۔ البتہ اکثر شوافع کے نزدیک اعتقاداً و اداءً مخاطب ہیں، بعض لوگوں نے ان کے قول کی یہ تاویل کی ہے کہ اس سے مراد ایمان لانے کے بعد اداء ً مخاطب ہیں اگر یہ بات صحیح ہو تو پھر شوافع بھی جمہور کے ساتھ ہیں۔
مختصر دلائل ملاحظہ کیجیے:۔ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث ملاحظہ ہو:

وعن ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ بعث معاذاً رضي الله عنه إلى اليمن فقال: ادعهم إلى شهادة: أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله فإن هم أطاعوا لذلك فاعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فإن هم أطاعوا لذلك فاعلمهم أن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم. (رواه البخاري، رقم: ۱۳۹۵، باب وجوب الزكاة).

علامہ عینی رحمه الله اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

يستدل لمن يذهب إلى أن الكفار غير مخاطبين بشريعة الدين وإنما خوطبوا بالشهادة فإذا أقاموها توجهت عليهم بعد ذلك الشرائع والعبادات لأنه صلي الله عليه وسلم قد أوجبها مرتبة وقدم فيها الشهادة ثم تلا بالصلاة والزكاة. (عمدة القاري: ٦/۳۲۵، دار الحديث، ملتان).
فتح الملهم
میں مرقوم ہے:

وقال علامة عصرنا الفاضل الكشميري: إن قولهم الكفار مخاطبون بالمعاملات إن كان المراد به ثواباً وعقاباً في الآخرة فمسلم لا شك فيه وإن كان المراد صحة وفساداً في أحكام الدنيا فليس هذا عندي على الإطلاق

فكما أنهم استثنوا من العقوبات حد الشرب كذلك ينبغي تقييد المعاملات أيضاً بشيء يخرج أمثال هذه الفروع المنصوصة عليها في كتب الفقه. (فتح الملهم: ۱/۵٤۱، مكتبة دار العلوم كراتشي).

حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله امداد الاحکام میں فقہی عبارات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
عباراتِ مذکورہ سے امورِ ذیل مستفاد ہوئے:
(۱) امام زفر رحمه الله کے نزدیک تمام خطاباتِ عامہ واردہ فی الشرع دربارۂ معاملات کفار کو بھی شامل ہیں خواہ وہ حربی ہوں یا ذمی اور عمومِ خطاب کی وجہ سے حکم بھی عموماً ثابت ہوگا لہذا جو معاملات کفار اہل حرب و اہل ذمہ خلاف شرع کریں گے ان پر حکم فساد لگایا جائے گا، گو اہل حرب سے بوجہ عدمِ ولایت و اہل ذمہ سے بوجہ معاہدہ کے تعرض نہ کیا جائے گا۔
(۲) صاحبین کے نزدیک اہل حرب کے معاملات خلاف شرع ہیں ہر ایک پر حکم فساد نہ لگایا جائے گا کیوں کہ انہوں نے احکامِ اسلام کا التزام نہیں کیا گویا ثبوتِ حکم کے لیے ان کے نزدیک عمومِ خطاب کافی نہیں بلکہ التزام بھی شرط ہے اور وہ اہل حرب میں مفقود ہے لیکن اہل ذمہ کے جو معاملات اسلام کے مسائل متفق علیہا کے خلاف ہوں گے ان پر حکم فساد لگایا جائے گا کیوں کہ وہ معاملات میں احکامِ اسلام کا التزام کر چکے ہیں۔
(۳) امام اعظم رحمه الله کے نزدیک اہل ذمہ کے بھی معاملات خلاف شرع پر حکم فساد نہ لگایا جائے گا بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیوں کہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکامِ اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا، ہاں اگر کسی معاملہ کی بابت معاہدہ ہی میں ان سے شرط کر لی جائے اس کا التزام ان کی طرف سے ہوگا، باقی معاملاتِ شرعیہ جو ان کے معتقدات کے موافق نہیں اور نہ ان سے ان کے بارے میں کوئی شرط کی گئی ہے، ان میں اہل ذمہ کی طرف سے التزام نہیں پایا گیا لہذا ایسے معاملات جب وہ اپنے مذہب کے موافق کریں گے تو ان کو صحیح مانا جائے گا اور حکم فساد نہ دیا جائے گا

جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب بالفروع فی العقوبات و المعاملات اگر چہ ہیں لیکن حکم بالحرمۃ و الفساد کے لیے خطاب عام کافی نہیں بلکہ التزام بھی شرط ہے، اہل حرب نے تو احکامِ اسلام کا التزام بالکل نہیں کیا نہ اپنے معتقد کے موافق میں اور نہ مخالف میں لہذا وہ تو جس طرح بھی روپیہ کمائیں خواہ ربا سے خواہ غصب سے خواہ بیوعِ باطلہ و فاسدہ سے خواہ اپنے مذہب کے موافق خواہ مخالف طریق سے بہر صورت وہ روپیہ وغیرہ ان کی ملک میں داخل ہو جائے گا اور مسلمان کو تنخواہ میں لینا اس کا جائز ہے اور اہل ذمہ نے احکامِ اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے موافقات میں کیا ہے، مخالفات میں نہیں کیا، سوا ان امور کے جن کی شرط ان سے کر لی جائے، پس جو عقد اہل ذمہ اپنے دین کے موافق کریں و شرائطِ معاہدہ کے بھی خلاف نہ ہو اس میں حکم صحت دیا جائے گا گو وہ شریعت کے خلاف ہو البتہ جو عقد ان کے دین کے بھی خلاف ہو یا شرائطِ معاہدہ کے خلاف ہو اس میں حکم فساد دیا جائے گا،
ولعل الحق لا يتجاوز عن ذلك ولعل الله يحدث بعد ذلك أمراً، والله أعلم
۔ (امداد الاحکام:
٤
/
۳۸۹
۔
۳۹۰
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.