خلافِ شرع کام کی وکالت کا حکم:
Question
مسلمان وکیل کے لیے جائز ہے کہ خلافِ شرع کام قبول کرے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ حدودِ شریعت میں رہتے ہوے وکالت کا پیشہ فی نفسہ جائز ہے، لیکن خلافِ شرع امور میں وکالت جائز نہیں ہے، وکیل اور موکل دونوں مکلف ہیں، شریعت کی پابندی دونوں پر لازم اور ضروری ہے ۔ اور خلافِ شرع امور مثلاً جھوٹ، دھوکہ، خیانت، باطل حیلے وغیرہ سے بچنا حتی الامکان ضروری ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿ولا تكن للخائنين خصيماً﴾ (سورة النساء، الآية: ۱۰۵).
بخاری شریف میں ہے:
عن عروة عن زينب بنت أم سلمة عن أم سلمة عن النبي ﷺ، قال: إنما أنا بشر وإنكم تختصمون ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع فمن قضيت له من أخيه شيئاً فلا يأخذ فإنما أقطع له قطعة من النار. (رواه البخاري: ۲/۱۰۳۰).
شرح عنایہ میں ہے:
قال (كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه الخ) هذه ضابطة يتبين بها ما يجوز التوكيل به ومالا يجوز. (شرح العناية بهامش فتح القدير: ۷/۵۰۱، كتاب الوكالة، دار الفكر).
وإن علم من الموكل القصد إلى الإضرار بالمدعي ليشتغل الوكيل بالحيل والأباطيل والتلبيس لا يقبل منه التوكيل. (فتاوى قاضيخان: ۳/۷).
اعلاء السنن میں ہے:
والكلام فيما إذا كان الوكيل ألحن من الموكل وأبلغ وأهدي منه إلى وجوه الخصومات لا سيما إذا كان الموكل صالحاً يتقي عن استخراج الحيل والدعاوي الباطلة للغلبة والوكيل بضده، فلا بد أن في وكالته ضراراً بالآخر، فلا يلزم إلا بالتزامه، ومن شاهد حال وكلاء الزمان في إحقاقهم الباطل، وإبطالهم الحق لم يشك قط في صحة قول أبي حنيفة رحمه الله
وأكثر ما يقع التأخير في معرفة الحق من الباطل إنما هو من تلبيسات الوكلاء وتحيلهم على الحق ولبسهم الباطل بالصواب والفقهية من عرف حال زمانه. (إعلاء السنن: ۱۵/۳۲۱، كتاب الوكالة، إدارة القرآن).
امداد الفتاوی میں ہے:
حاصل یہ ہے کہ پیشہ وکالت فی نفسہ جائز ٹھہرا مگر شرط یہ ہے کہ سچے مقدمات لیتا ہو ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳۲۰) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر سچے مقدمات لیتا ہو اور کسی خلافِ امر کا ارتکاب اس میں نہ کرنا پڑتا ہو توپیشہ وکالت جائز ہے ۔
دوسری جگہ مذکور ہے:
جس وکالت میں معصیت پر اجر لیا جائے یعنی جھوٹے اور ناحق مقدمہ کی پیروی کی جاوے اور ظالم کی اعانت کی جاوے ایسی وکالت اور اس کی آمدنی ناجائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤۵۲، ٤۵۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
وکیل اگر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر کے فیس لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ حلال نہیں ہو گی، اور اگر کسی مقدمہ کی صحیح پیروی کرتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی کمائی کو حرام کہا جائے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۲۷٦) ۔
ہاں دفع ظلم کے لیے کچھ تدابیر اختیار کرنی پڑے تو اس کی گنجائش ہے ۔
اعلاء السنن میں ہے:
ومعلوم أن الوكيل إنما يقصد عادة لاستخراج الحيل والدعوي الباطلة ليغلب وإن لم يكن الحق معه، وفي هذا إضرار بالآخر، فلا يلزم إلا بالتزامه إلا إذا كان معذوراً. (إعلاء السنن: ۱۵/۳۲۱، باب الوكالة بالخصومة، إدارة القرآن).
الاشباہ و النظائر کے ایک قاعدے سے بھی استیناس لیا جا سکتا ہے:
إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضرراً بارتكاب أخفهما. (الأشباه والنظائر: ۱/۲٦۱، تحت القاعدة الخامسة "الضرر يزال").
نیز دونوں فریق کے درمیان صلح صفائی وغیرہ کے لیے کچھ توریہ اور حیلہ وغیرہ اختیار کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔
بخاری شریف میں ہے:
عن ابن شهاب أن حميد بن عبد الرحمن أخبره أن أمه أم كلثوم بن عقبة أخبرته أنها سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فينمي خيراً أو يقول خيراً. (رواه البخاري: ۱/۳۷۱، باب ليس الكاذب الذي يصلح بين الناس).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.