نکاح میں غیر مسلم کی وکالت کا حکم:
Question
ایک لڑکی مسلمان ہوئی اس کا نکاح ہونے والا ہے اور باپ وغیرہ غیر مسلم ہیں، تو کیا اس کے نکاح میں باپ وکیل بن سکتا ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے تو غیر مسلم والد نکاح کا وکیل بن سکتا ہے.
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
إن الوكيل في النكاح معبر وسفير والتمانع في الحقوق دون التعبير ولا ترجع الحقوق إليه بخلاف البيع لأنه مباشر حتى رجعت الحقوق إليه. (الهداية: ۲/۳۲۲، فصل في الوكالة بالنكاح. ومثله في البحر الرائق: ۳/۱۳٦، فصل في الوكالة، كوئته).
شامی میں ہے:
الوكيل في النكاح وما بعده سفير محض فلا بد من إضافة هذه العقود المذكورة إلى المؤكل. (فتاوى الشامي: ۳/۸۱۷، مطلب في العقود التي لا بد من إضافتها الي المؤكل، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ولی اور وکیل میں فرق ہے، نکاح میں وکیل کا کام صرف الفاظ کی تعبیر کا رہتا ہے اصل ایجاب و قبول زوجین کا ہوتا ہے. (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۵۳۸، مبوب و مرتب).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.