عاقد کی وکالت کا حکم:
Question
کیا زوج خود اپنے نکاح کا وکیل بن سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی نے کہا کہ میرا نکاح آپ سے کرا دو تو شوہر وکیل نکاح بن کر اس لڑکی کا نکاح اپنے آپ سے کرا سکتا ہے.
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ويجوز لا بن العم أن يزوج بنت عمه من نفسه
وإذا أذنت المرأة للرجل أن يزوجها من نفسه فعقد بحضرة شاهدين جاز
فقوله زوجت يتضمن الشطرين ولا يحتاج إلى القبول. (الهداية: ۲/۳۲۲، فصل في الوكالة بالنكاح).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
امرأة وكلت رجلاً بأن يزوجها من نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسي يجوز وإن لم تقل قبلت. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۹۵. وكذا في الدر المختار: ۳/۹۹، سعيد. وفتح القدير: ۳/۳۰۷، دار الفكر).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال کا ماحصل یہ ہے کہ عورت نے کہا کہ میں نے تجھ کو اجازت دی میرا نکاح اپنے ساتھ کر لو دو گواہوں کے سامنے اس شخص نے دو گواہوں کے سامنے مسجد میں اس عورت کا نکاح اپنے ساتھ کر لیا، شرعاً نکاح درست ہوا یا نہ؟
الجواب: یہ نکاح منعقد ہو گیا. (فتاوی دار العلوم: ۸/۱۹۴، مدلل و مکمل، دار الاشاعت. و فتاوی حقانیہ: ۴/۳۸۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.