حضرت علی رضي الله عنه کے پیر میں تیر لگا تو نماز میں نکالا گیا، اس واقعہ کی تحقیق:

4 min readFatwa Vol 8 #157Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

حضرت شیخ زکریا رحمه الله نے تبلیغی نصاب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے متعلق ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ جب آپ کے پیر مبارک میں تیر لگا تو اس کو نماز میں نکالا گیا، اور اس کی تکلیف آپ کو محسوس نہیں ہوئی، اس واقعہ کا حوالہ اور تحقیق درکار ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمه الله نے یہ قصہ فضائل اعمال میں (
۳۸۱
) پر نقل فرمایا ہے اور کوئی حوالہ مرحمت نہیں فرمایا۔ بظاہر اس قصہ کا تعلق ترغیبِ نماز سے ہے یعنی صحابہ کرام کی نماز کی طرح اپنی نماز یں مثالی بنانا چاہیے۔ اس وجہ سے شہرت پر اکتفا کرتے ہوئے حوالہ کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔
تلاشِ بسیار کے باوجود یہ قصہ کسی معتبر کتاب میں نہیں ملا، البتہ کتبِ شیعہ میں بلا سند دستیاب ہوا ہے چند کتب کے حوالے درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
ارشاد القلوب میں حسن بن ابی الحسن الدیلمی لکھتے ہیں:

وكان إذا توجه إلى الله تعالى توجه بكليته، وانقطع نظره عن الدنيا وما فيها، حتى أنه لا يبقي يدرك الألم، لأنهم كانوا إذا أرادوا إخراج الحديد والنشاب من جسده الشريف، تركوه حتى يصلي، فإذا اشتغل بالصلاة وأقبل على الله أخرجوا الحديد من جسده ولم يحس به. (إرشاد القلوب: ۲/۲۲).

منتہی الآمال میں مذکور ہے:

مد له نطع ما بين الصفين صلي عليه، والسهام تتناوله من بين يمين ويسار وتقع على الأرض، فلا يرتاع ولا يقوم حتى يفرغ، ولما أصيبت قديدة بسهم أرادوا إخراجه بطريقة لا تؤلمه، فصبروا حتى انصرف إلى صلاته فأخرجوه. (منتهي الآمال، ص: ۲۱۷).

اسی طرح حلیۃ الابرار میں (
۲
/
۱۸۰
) پر سید ہاشم بحرانی نے اس واقعہ کو بحوالہ ارشاد القلوب نقل کیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ جھوٹ اور بہتان ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات صحابہ میں معروف نہیں ہے کہ ان کو تیر لگا تھا اور نماز میں نکالا گیا۔ ملاحظہ ہو منہاج السنہ میں رقم طراز ہیں:

قال الرافضي: الثاني أنه كان أعبد الناس يصوم النهار ويقوم الليل

وكان إذا أريد إخراج الحديد من جسده يترك إلى أن يدخل في الصلاة فيبقي متوجهاً إلى الله غافلاً عما سواه غير مدرك للآلام التي تفعل به

والجواب: أن يقال: هذا الكلام فيه من الأكاذيب المختلفة ما لا يخفي إلا على أجهل الناس بأحوال القوم ومع أنه كذب ولا مدح فيه ولا في عامة الأكاذيب

وما ذكر من إخراج الحديد من جسده فكذب فإن علياً لم يعرف أنه دخل فيه حديد. (منهاج السنة النبوية: ٤/۱۳٤، المكتبة السلفية).

بہرحال اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل و مناقب میں شیعہ نے غلو سے کام لیا ہے اور من گھڑت روایات نقل کر دی ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خود شیعہ بھی اس بات کے معترف ہیں۔ چنانچہ ابن ابی الحدید شیعی نے نہج البلاغہ کی شرح میں
"ترجمة عمار في مدح القناعة"
کے تحت لکھا ہے:
ولكن الشأن في الصحيح ما يروي عنه عليه السلام، فقد أكثر الكذب عليه، وولدت العصبية أحاديث، لا أصل لها. (شرح نهج البلاغة: ٤/٦۳۲).

نیز ہمارے علماء نے بھی اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو: (ازالۃ الخفاء:
٤
/
٤٤۲
، و سیرتِ سیدنا علی مرتضی از مولانا محمد نافع صاحب، و تذکرۃ الحفاظ للذہبی:
۱
/
۸۲
، و المنار المنیف لابن القیم، ص:
۱۱٦
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.