توسل کے بارے میں حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ کے واقعہ کی تحقیق:

8 min readFatwa Vol 1 #76Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب ٧: رد بدعت کا بیان

Question

ایک شخص حضرت عثمان رضي اللہ عنہ سے ملنا چاہتا تھا مگر نہیں مل سکتا تھا حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ان کو تو سل والی دعا سکھلائی اور حضرت عثمان رضي اللہ عنہ ملے ۔ اس قصہ کی سند کی تحقیق مطلوب ہے؟

Answer

اس واقعہ کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
ابو امامہ سہل بن حنیف رضي اللہ عنہ اپنے چچا عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ سے نقل کر تے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے پاس اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے آیا کر تا تھا لیکن حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کسی مشغولی کی وجہ سے اس کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے، اور نہ اس کی حاجت پوری فرماتے تھے تو وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ سے ملا اور ان سے ان کی شکایت کی تو حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ نے ان کو کہا وضو کا پانی لاؤ اور وضو کرو اور مسجد جا کر دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کر و:

"اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبينا محمد ﷺ نبي الرحمة يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك عزوجل فيقضي لي حاجتي"

پھر اپنی حاجت کا تذکرہ کرو، اس شخص نے ایسا ہی کیا اور پھر حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے پاس گیا تو بہت اکرام بھی کیا اور ان کی حاجت بھی پوری فرمائی اس کے بعد وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ سے ملے اور ان کا شکریہ ادا کیا تو حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ نے فرمایا ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ ایک نابینا شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا آپ صبر کریں گے تو اس شخص نے کہا مجھے لے کر چلنے والا کوئی شخص نہیں ہے، اور مجھے بہت تکلیف ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو کا پانی لاؤ اور وضو کرو پھر دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کرو، جو گذر چکی ۔ حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم ہم وہاں سے جدا نہیں ہوے اور گفتگو کچھ لمبی ہو گئی یہاں تک کہ وہی شخص ہمارے پا س آئے وہ ایسے ٹھیک ہو گئے کہ گویا ان کی آنکھ میں کو ئی نقص نہیں تھا ۔

"روى الطبراني في "الصغير" (۱/۱۸۳، من اسمه طاهر) فقال: حدثنا طاهر بن عيسى قيرس المقري المصري التميمي حدثنا أصبغ بن الفرج حدثنا عبد الله بن وهب (تابعه "في ذكر هذه القصة" أحمدُ بن شبيب وهو ثقة[ في دلائل النبوة للبيهقي:
٦
/
۱٦۸
]وإسماعيلُ بن شبيب وهو مجهول، دلائل النبوة:
٦
/
۱٦۷
) عن شبيب بن سعيد المكي عن روح بن القاسم عن أبي جعفر الخطمي المدني عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عمه عثمان بن حنيف أن رجلاً كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه في حاجة له فكان عثمان لا يلتفت إليه ولا ينظر في حاجته، فلقي عثمان بن حنيف رضي الله عنه فشكا ذلك إليه، فقال له عثمان بن حنيف ائت الميضأة فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فيه ركعتين ثم قل: "اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبينا محمد ﷺ نبي الرحمة، يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك [ربي] عزوجل فيقضي لي حاجتي الخ.
وقال: لم يروه عن روح بن القاسم إلا شبيب بن سعيد أبو سعيد المكي وهو ثقة وهو الذي يحدث عنه أحمد [ابن أحمد] بن شبيب عن أبيه عن يونس بن يزيد الأيلي وقد روى هذا الحديث شعبة عن أبي جعفر الخطمي واسمه عمير بن يزيد وهو ثقة تفرد به عثمان بن عمر بن فارس عن شعبة، والحديث صحيح وروى هذا الحديث عون بن عمارة عن روح بن القاسم عن محمد بن المنكدر عن جابر وهم فيه عون بن عمارة والصواب حديث شبيب بن سعيد.

معجم کبیر میں ہے:

حدثنا طاهر بن عيسى قيرس المصري المقري حدثنا أصبغ بن الفرح حدثنا ابن وهب عن أبي سعيد المكي عن روح بن القاسم عن أبي جعفر الخطمي المدني عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عمه عثمان بن حنيف أن رجلاً كان يختلف إلى عثمان بن عفان في حاجة له فكان عثمان لا يلتفت إليه ولا ينظر في حاجته، فلقي ابن حنيف فشكا ذلك إليه فذكر القصة الخ. (رواه الطبراني في الكبير: ۹/۱۷).

خلاصہ یہ ہے کہ روح بن القاسم سے شبیب بن سعید قصہ نقل کرتے ہیں، اور شبیب خود ثقہ راوی ہیں، اور شبیب سے نقل کرنے والے تین حضرات ہیں (۱) عبد اللہ بن وہب ۔ (۲) احمد بن شبیب ۔ (۳) اسماعیل بن شبیب ۔ ان میں سے عبد اللہ بن وہب کی روایت کو ضعیف قرار دیا جا سکتا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے شبیب سے مصر میں سنی اور اس میں غلطی اور وہم کا مکان ہے ۔
لیکن حقیقت یہ ہے شبیب بن سعید سے دو راوی احمد اور اسماعیل نے بصرہ میں جائے اقامت پر سنی اور احمد ثقہ ہے اور ابن وہب بھی ثقہ ہے انہوں نے مصر میں سنی جو احمد کی روایت کے بالکل موافق ہے تو پھر غلط اور وہم کہنے کی کوئی وجہ بظاہر نظر نہیں آتی ۔
ہاں احمد بن شبیب نے کبھی روایت بیان کرتے ہوے قصہ نقل کیا جب کہ نشاط تھا یا قصہ بیان کرنے کی ضرورت تھی، جس کو یعقوب بن سفیان (ثقہ) نے نقل کیا ، اور کبھی قصہ بیان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تو بیان نہیں کیا ، اس بلا قصہ روایت کو محمد بن علی بن یزید الصائغ و عباس بن الفرج نے نقل کیا ، بنا بریں احمد بن شبیب پر اختلاف قائم کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اس کو محدثین خرم کہتے ہیں، کبھی اختصار مطلوب ہوتا ہے اور گا ہے گا ہے تفصیل درکار ہوتی ہے، جیسا کہ حدیث
"إنما الأعمال بالنيات"
کو امام بخاری کبھی پوری نقل کرتے ہیں اور کبھی مختصر روایت کرتے ہیں ۔
الغرض
"يعقوب بن سفيان (ثقة، قاله ابن حجر في التقريب) عن أحمد بن شبيب (ثقة، راجع: تحرير التقريب) عن شبيب بن سعيد (ثقة، قاله ابن المديني) عن روح بن القاسم (ثقة)". (أخرجه البيهقي في دلائل النبوة: ٦/۱٦۸)
یہ طریق قوی ہے، اور ابن وہب اور اسماعیل اس کے متابع ہیں، لہذا قصہ والی روایت حسن ہے اس سے استدلال درست ہے ۔
تنبیہ: صاحبِ ہدم المنارہ نے کثرتِ روات اور حفظِ راوی کی وجہ سے احمد کی بدونِ قصہ والی روایت کو ترجیح دی ہے، لیکن کثرتِ روات سے ترجیح صحیح نہیں ہے کیونکہ یعقوب کے ساتھ عباس بن الفرج بھی قصہ نقل کرتے ہیں، نیز حفظِ راوی کی وجہ سے بھی ترجیح غیر صحیح ہے کیونکہ یعقوب بن سفیان احفظ و اوثق الناس ہے، تینوں حضرات (محمد بن علی بن یزید الصائغ، عباس بن الفرج، حسین بن یحیی) مل کر بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے چہ جائیکہ حسین بن یحیی مجہول ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.