آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد ندا کا حکم:
Question
روایتِ توسل میں آنحضرت
ﷺ
کی طرف آپ کی وفات کے بعد اور قبر کے سامنے نہ ہو تے ہوے ندا "
يا محمد"
مذکور ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
ملاحظہ ہو "
المعجم الصغير" للطبراني
میں ہے:
"حدثنا طاهر بن عيسى قيرس المقري المصري التميمي حدثنا أصبغ بن الفرج حدثنا عبد الله بن وهب عن شبيب بن سعيد المكي عن روح بن القاسم عن أبي جعفر الخطمي المدني عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عمه عثمان بن حنيف أن رجلاً كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه في حاجة له فكان عثمان رضي الله عنه لا يلتفت إليه ولا ينظر في حاجته فلقي عثمان بن حنيف فشكا ذلك إليه، فقال له عثمان بن حنيف: ائت الميضأة فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فيه ركعتين ثم قل: اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبينا محمد ﷺ نبي الرحمة، يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك [ربي] عزوجل فيقضي لي حاجتي الخ. (رواه الطبراني في المعجم الصغير: ۱/۱۸۳، دار الفكر).
واقعہ کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:
ابو امامہ سہل بن حنیف
رضي الله عنه
اپنے چچا عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ سے نقل کر تے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان
رضي الله عنه
کے پاس اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے آیا کر تا تھا لیکن حضرت عثمان
رضي الله عنه
کسی مشغولی کی وجہ سے اس کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے، اور نہ اس کی حاجت پوری فرماتے تھے تو وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف
رضي الله عنه
سے ملا اور ان سے ان کی شکایت کی تو حضرت عثمان بن حنیف
رضي الله عنه
نے ان کو کہا وضو کا پانی لاؤ اور وضو کرو اور مسجد جا کر دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کر و:
"اللهم إني أسئلك وأتوجه إليك بنبينا محمد ﷺ نبي الرحمة يا محمد إني أتوجه بك إلى ربك عزوجل فيقضي لي حاجتي"
پھر اپنی حاجت کا تذکرہ کرو، اس شخص نے ایسا ہی کیا اور پھر حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے پاس گیا تو بہت اکرام کیا اور ان کی حاجت بھی پوری فرمائی اس کے بعد وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ سے ملے اور ان کا شکریہ ادا کیا تو حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ نے فرمایا ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ ایک نابینا شخص خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور نابینائی کی شکایت کی تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا آپ صبر کریں تو اس شخص نے کہا مجھے لے کر چلنے والا کوئی شخص نہیں ہے، اور مجھے بہت تکلیف ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو کا پانی لاؤ اور وضو کرو پھر دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کرو، جو گذر چکی ۔ حضرت عثمان بن حنیف رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم ہم وہاں سے جدا نہیں ہوے اور گفتگو کچھ لمبی ہو گئی یہاں تک کہ وہی شخص ہمارے پا س آئے وہ ایسے ٹھیک ہو گئے کہ گویا ان کی آنکھ میں کو ئی نقص نہیں تھا ۔
Answer
نبی ﷺ نے جس طرح الفاظِ دعا سکھائے ہیں ہمارے ذمہ ان الفاظ کا اتباع کرنا ہے، اور توسل کی حدیث میں
"يا محمد"
کے الفاظ مذکور ہیں یہ بھی حضور
ﷺ
نے تعلیم فرمائے ہیں اس کی حکایت ہم کر ر ہے ہیں، لہذا اس دعا کا پڑھنا درست ہے، اگر چہ آپ ﷺ کی موجود گی میں نہ ہو اور قبر اطہر کے سامنے نہ ہو، اس لیے کہ آپ ﷺ کو سنانا یا آپ
ﷺ
سے حاجت مانگنا مقصود نہیں ہے، بلکہ الفاظِ نبوی کی حکایت مقصود ہے، سننے والے اور حاجت روا تو اللہ رب العزت ہیں، اگر کوئی شخص اس نیت سے یہ دعا پڑھے کہ نبی علیہ السلام دور سے سنتے ہیں اور آپ
ﷺ
ہی حاجت کو پورا کریں گے اور شفا دیں گے، یہ حرام ہے، اور اس طرح دعا کر نا درست نہیں ۔
عمدۃ القاری میں ہے:
فإن قلت: ما الحكمة في العدول عن الغيبة إلى الخطاب في قوله: "عليك أيها النبي" مع أن لفظ الغيبة هو الذي يقتضيه السياق كان يقول: السلام على النبي فينتقل من تحية الله إلى تحية النبي ثم تحية النفس ثم إلى تحية الصالحين.
قلت: أجاب الطيبي: بما محصله، نحن نتبع لفظ الرسول بعينه الذي علمه للصحابة. (عمدة القاري: ٤/۵۸٤).
الادب المفرد کی شرح میں ہے:
"السلام عليك" هذا هو المشروع أن يقوله المصلي سراً، كما كان الصحابة يقولونه سراً في عهد النبي ﷺ وبعد وفاته ﷺ، سواء كانوا قريباً من النبي ﷺ أو بعيداً منه، في مسجده أوفي مسجد آخر، في المدينة أو في البيت، أو الصحراء أوفي بلاد بعيدة، وإن كان السياق يقتضي أن يؤتى بلفظ الغيبة؛ لأن المصلي ينتقل من تحية الله إلى تحية النبي ثم إلى تحية النفس ثم إلى الصالحين. قال الطيبي: ويحتمل أن يقال على طريق أهل العرفان: إن المصلين استفتحوا باب الملكوت بالتحيات، فأذن لهم بالدخول في حريم الحيي الذي لا يموت، فقرت أعينهم بالمناجاة، فنبهوا على أن ذلك بواسطة نبي الرحمة وبركة متابعته، فالتفتوا فإذا الحبيب في حرم الحبيب حاضر، فأقبلوا عليه قائلين: "السلام عليك
والخطاب ليس على إرادة الاستماع، وإن كان الأصل في الخطاب يؤتى به لإسماع المخاطب، فكثيراً ما يؤتي به لغير ذلك، كما هو كثير فاش في كلام العرب والسنة وكلام الصحابة وفي كلام الناس، كما في الندبة وذكر المرء حبيبه في غيبته وأمثال ذلك، فكانت هذه الأمور تجري بمرأي ومسمع من الصحابة، فلم يكن يخطر ببال أحدهم أن النبي ﷺ يسمع ما يتكلم به الناس في بيوتهم، وإن أمكن أن تخرق له العادة في بعض ذلك، إلا أن الذي جرى عليه خرق العادة أن يخبر الله تعالى نبيه بما شاء لا أن يسمعه كلام من بعد عنه، وإن كان ذلك مما يجوز عقلاً. فالصحابة لم يكونوا يتوهمون أن الخطاب على إرادة الإسماع الخ. (فضل الله الصمد في توضيح الأدب المفرد: ۲/۲۹۸. ۲۹۹، باب السلام اسم من اسماء الله عزوجل، ط: بيروت).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے:
جواب اگر یہ عقیدہ ہو کہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں تو شرک ہے البتہ روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر یا رسول اللہ کہنا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۹
/
٤۰۸
، کتب خانہ مظہری) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: یا رسول اللہ کہنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: یا رسول اللہ کہنے میں بڑی تفصیل ہے بعض طریقے سے جائز اور بعض طریقے سے ناجائز ہے الی قولہ، مطلب یہ کہ نزدیک ہو یا دور صحیح عقیدہ کے ساتھ صلوۃ و سلام پڑھتے وقت یا رسول اللہ کہا جائے تو وہ جائز ہے مگر یہ عقیدہ ہو نا چاہیے کہ دور سے پڑھتے ہوے درود و سلام آپ کو بذریعہ فرشتہ پہنچائے جاتے ہیں، خدا کی طرح بنفس نفیس سن لینے کا عقیدہ نہ رکھے، اسی طرح التحیات میں
"السلام عليك أيها النبي"
کہ کر سلام پہنچایا جاتا ہے اس میں کو ئی شک و شبہ نہیں، نیز قرآن پاک پڑھتے وقت
﴿يا أيها المزمل﴾
عبارت کے طور پر پڑھا جاتا ہے اس میں بھی کو ئی حرج نہیں ہے، اس کو حاضر و ناظر کی دلیل بنا لینا جہالت ہے، نیز حاضر و ناظر کے عقیدے کے بغیر فقط جوشِ محبت میں
"يا رسول الله"
کہا جائے یہ بھی جائز ہے، کبھی غایتِ محبت اور شدید غم کی حالت میں حاضر و ناظر کے تصور کے بغیر غائب کے لیے لفظ ندا بولتے ہیں یہ بھی جائز ہے، کبھی صرف تخیل کے طریقے کے ساتھ شاعرانہ و عاشقانہ خطاب کیا جاتا ہے اس میں بھی کو ئی حرج نہیں، شعراء تو دیواروں اور کھنڈرات کو مخاطب بناتے ہیں یہ ایک محاورہ ہے حاضر و ناظر وغیرہ کا کوئی عقیدہ یہاں نہیں ہو تا، البتہ بدوں صلاۃ و سلام حاضر ناظر جان کر حاجت روائی کے لیے اٹھتے بیٹھتے
"يا رسول الله" "يا علي" "يا غوث"
وغیرہ کہنا بیشک ناجائز اور ممنوع ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۲
/
٦۲
۔
٦۳
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
تسکین الصدور میں حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ (م
۱٤۳۲
ھ) فرماتے ہیں:
حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: اقول: اس قصہ میں تو خود فخر عالم زندہ اس عالم میں تھے اور آپ ہی کے حکم سے یہ عمل ہوا تھا، آپ ان کی خدمت میں حاضر تھے تو اس وقت میں تو کوئی ضرورت جواب و توجیہ کی نہیں اور بعد آپ کے معمول ہے تو اسی طرح سمجھ کر ہے کہ آپ کی خدمت میں تبلیغ ہوتی ہے ملائکہ پہنچاتے ہیں علمِ استقلالی (یعنی بغیر فرشتوں کے پہنچانے کے ۔ صفدر) نہ اس میں ہے اور نہ اس عقیدہ سے پڑھنا اس کا درست ہے تو ایسی حالت میں یہ بھی شرک ہو جائے گا ۔ (تسکین الصدور، ص
٤۳۳
، بحوالہ البراہین القاطعہ،
۲۱۹
) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.