حدیث التوسل میں لفظِ ندا "یا محمد" کی توجیہات: ۔

3 min readFatwa Vol 1 #78Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب ٧: رد بدعت کا بیان

Question

حدیث التوسل میں لفظِ ندا "یا محمد" کی توجیہات: ۔

Answer

(۱) مولانا سرفراز خان صفدر صاحب رحمہ اللہ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:
اس قصہ میں تو خود فخر دو عالم زندہ اس عالم میں تھے اور آپ ہی کے حکم سے یہ عمل ہوا تھا، آپ ان کی خدمت میں حاضر تھے تو اس وقت میں تو کوئی ضرورت جواب و توجیہ کی نہیں اور بعد آپ کے معمول ہے تو اسی طرح سمجھ کر ہے کہ آپ کی خدمت میں تبلیغ ہوتی ہے، ملائکہ پہنچاتے ہیں علم استقلال (یعنی بغیر فرشتوں کے پہنچانے کے) نہ اس میں ہے اور نہ اس عقیدہ سے پڑھنا اس کا درست ہے تو ایسی حالت میں یہ بھی شرک ہو جائے گا ۔ (تسکین الصدور، ص
٤۳۳
، بحوالہ البراہین القاطعۃ، ص
۲۱۸
) ۔
(۲) الفاظِ دعا کی اتباع حکایۃً کرتے ہیں یعنی ہمارے ذمہ دعا کے الفاظ جیسے حضور ﷺ نے سکھائے اس کا اتباع کرنا ہے ۔
قال الطيبي: نحن نتبع لفظ الرسول بعينه الذي علمه للصحابة.

(۳) غایتِ محبت اور شدید غم کی وجہ سے لفظِ ندا بولا جاتا ہے، جس میں حاضر و ناظر کا تصور نہیں ہوتا ۔
قال في فضل الله الصمد: وإنما المقصود إظهار الشوق وإضرام نار المحبة، وذكر المحبوب يسخن القلب وينشطه فيذهب انجماد الدم، فيجري في العروق، وهذا هو الفرح، والخطاب قد يكون لا على إرادة السماع. (فضل الله الصمد في توضيح الأدب المفرد: ۲/۲۷۹).

(٤) شاعرانہ اور عاشقانہ تخیل کے طریقے پر خطاب کیا جاتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، شعراء تو دیواروں اور کھنڈرات کو مخاطب بناتے ہیں ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
فضل الله الصمد في توضيح الأدب المفرد: ۲/۲۹۸. ۲۹۹).

(۵) نصوص میں خطاب خلافِ قیاس ہے لہذا نصوص سے تجاوز درست نہیں ہوگا، یعنی اپنی طرف سے ندا کے الفاظ بنا کر توسل کرنا اور ادعیہ یا غیر ادعیہ میں استعمال کرنا درست نہیں ہے ۔
قال في فضل الله الصمد: وما ورد على خلاف القياس فيقتصر على مورده ولا يتجاوز عنه. (فضل الله الصمد: ۲/۳۰۰).

(٦) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے "نشر الطیب" میں فرمایا: اور ندا کا شبہ یہاں نہ کیا جاوے دو وجہ سے ایک تو متبادر قصہ سے یہ ہے کہ مسجدِ نبوی میں جانے کو فرمایا ہے سو وہاں حضور قریب ہی تشریف رکھتے ہیں، ندائے غائب لا زم نہیں آتی، دوسرے سلف صالح خوش اعتقاد تھے ندا بالقصد تبلیغ ملائکہ ان کے حال سے ظاہر تھا بخلاف اس وقت کے عوام کے کہ عقیدہ میں غلو رکھتے ہیں اسی لیے ان کو منع کیا جاتا ہے بلکہ ان کی حفاظت کے لیے خواص کو بھی روکا جاتا ہے ۔ (نشر الطیب، ص
۲٤۹
، کتب خانہ اشاعتِ علوم) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.