ایک روایت سے بدعات کے جواز پر استدلال کا جواب:

8 min readFatwa Vol 8 #159Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

بعض مبتدعین و ہوا پرست درجِ ذیل حدیث سے اپنی بدعات و خرافات پر استدلال کرتے ہوے جائز قرار دیتے ہیں، حدیث یہ ہے: "
ما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن".

کیا یہ روایت حدیث کی معتبر کتابوں میں موجود ہے یا نہیں ؟ اگر جواب اثبات میں ہو تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اولاً تو یہ روایت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه پر موقوف ہے یعنی نبی ﷺ کا قول نہیں ہے، اور اگر بقاعدۂ اصولِ حدیث اس حدیثِ موقوف کو بحکمِ مرفوع تسلیم کر لیں تو پھر اس کے جوابات درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
- حدیث شریف میں
"المسلمون"
سے مراد صحابہ کرام ہیں جس عمل کو وہ اچھا سمجھیں وہ شریعت کی نظر میں اچھا ہے۔ جیسے: بیس رکعات تراویح۔
- یا
"المسلمون"
سے سب مسلمان مراد ہیں اگر وہ کسی چیز پر اتفاق کر لیں تو وہ اجماع ہے۔ جیسے: حنطہ کیلی ہے اور اس کو وزنی بنا دیں تو وزنی بن جائے گی۔
- یا
"المسلمون"
سے کامل مسلمان مراد ہیں یعنی مجتہدین اگر وہ کسی حکمِ غیر منصوص کو قرآن و حدیث کی روشنی سے مستنبط کر کے اچھا کہیں تو وہ اچھا ہوگا۔ یہ روایت حدیث کی چند کتابوں میں مذکور ہے:

أخرج الإمام الطبراني في الكبير (۸۵۸۳) والأوسط (رقم: ۳٦۰۲) واللفظ له: عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: إن الله عزوجل اطلع في قلوب العباد فوجد قلب محمد خير قلوب العباد ثم اطلع في قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد فاختارهم لدينه يقاتلون على دينه فما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن وما رأوه سيئاً فهو عند الله سيء.
وأخرجه أيضاً الإمام أحمد في مسنده، وقال الشيخ شعيب إسناده حسن، (رقم: ۳٦۰۰، الرسالة)، والبزار في مسنده (رقم: ۲۱۳)، والطيالسي في مسنده (رقم: ۲٤۳)، والحاكم في المستدرك (رقم: ٤٤٦۵)، وابن مردويه في أماليه (رقم: ۱۸)، والبيهقي في الاعتقاد (رقم: ۲۹۷)، وأبو نعيم في المعرفة (۱/۱۹)، والخطيب البغدادي في الفقيه والمتفقه (رقم: ٤۳۹ و ٤٤۰).
قال العلامة عبد الحي اللكنوي رحمه الله في تعليقاته على موطأ الإمام محمد رحمه الله: ولم يزل الفقهاء والأصوليون من أصحابنا وغيرهم يذكرونه مرفوعاً وكلمات جماعة من المحدثين شهدت بأنه ليس بمرفوع بل هو قول ابن مسعود رضي الله عنه بل نص بعضهم على أنه لم يوجد مرفوعاً من طريق أصلاً وكنت قد ملت إليه في رسالتي "تحفة الأخيار" ففي "المقاصد الحسنة في الأحاديث المشهورة على الألسنة" لشمس الدين السخاوي رحمه الله: حديث: "ما رآه المسلمون حسناً" أخرجه أحمد من حديث ابن مسعود رضي الله عنه من قوله وكذا أخرجه البزار والطيالسي والطبراني وأبو نعيم في حلية الأولياء في ترجمة ابن مسعود رضي الله عنه بل هو عند البيهقي في "الاعتقاد" من وجه آخر عن ابن مسعود رضي الله عنه، انتهى

اعلم أنه قد جرت عادة كثير من المتفقهين بأنهم يستدلون بهذا الحديث على حسن ما حدث بعد القرون الثلاثة من أنواع العبادات وأصناف الطاعات ظناً منهم أنه قد استحسنها جماعة من العلماء والصلحاء وما كان كذلك فهو حسن عند الله لهذا الحديث، ويرد عليهم من وجهين: أحدهما: أنه حديث موقوف على ابن مسعود رضي الله عنه فلا حجة فيه، ويجاب عنهم

أن قول الصحابي في ما لا يعقل له حكم الرفع على ما هو مصرح في أصول الحديث

وثانيهما: أنه لا يخلو إما أن يكون اللام الداخلة على المسلمين في هذا الحديث للجنس أو للعهد أو للاستغراق ولا رابع؛ أما الأول فباطل لأنه حينئذٍ تبطل الجمعية ويلزم أن يكون ما رآه مسلم واحد أيضاً وإن خالفه الجمهور حسناً عند الله ولم يقل به أحد، وأيضاً يلزم منه أن يكون ما أحدثته الفرق الضالة من البدعات والمنهيات أيضاً حسناً لصدق رؤية مسلم حسناً وهو باطل بالإجماع وأيضاً يخالف قوله ﷺ: ستفترق أمتي على ثلاث وسبعين فرقة كلهم في النار إلا واحدة

وإذا بطل أن يكون اللام للجنس تعين أن يكون للعهد أو للاستغراق إما على الأول: فالمعهود إما المسلمون الكاملون كأهل الاجتهاد كما قال على القاري في "المرقاة" المراد بالمسلمين زبدتهم وعمدتهم وهم العلماء بالكتاب والسنة الأتقياء عن الشبهة والحرام، انتهى.
وإما الصحابة وهو الأظهر بل لا يميل القلب الصادق إلى سواه لكونه بعض حديث من حديث طويل مشتمل على توصيف الصحابة والأصل في اللام هو العهد الخارجي ويؤيده دخول الفاء على قوله: ما رآه المسلمون، على ما هو أصل الرواية وإن اشتهر بحذفها على لسان الأمة فإذن لا يدل الحديث إلا على حسن ما استحسنه الصحابة أو ما استحسنه الكاملون من أهل الاجتهاد لا على حسن ما استحسنه غيرهم من العلماء الذين حدثوا بعد القرون الثلاثة ولا حظ لهم من الاجتهاد ما لم يدخل ذلك في أصل شرعي.
أقول: كلام محمد رحمه الله ههنا صاف من الكدورات لأنه إنما استدل بهذا الحديث على حسن قيام رمضان بالجماعة وهو أمر استحسنه الصحابة والتابعون والأئمة المجتهدون والعلماء الكاملون. (التعليق الممجد على موطأ محمد، ص ۱۴۴، ط: قديمي كتب خانه).

حضرت مولانا سرفراز خان صفدر فرماتے ہیں:
اس روایت کے متعلق چند ضروری ابحاث ہیں جن کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔
اول بحث یہ ہے کہ اگر چہ بعض حضرات فقہائے کرام رحمه الله نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے لیکن یہ روایت مرفوع نہیں ہے بلکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه پر
موقوف ہے۔ چنانچہ علامہ جمال الدین الزیلعی الحنفی (المتوفی ۷۶۱؁ ھ) لکھتے ہیں:
ولم أجده إلا موقوفاً على ابن مسعود رضي الله عنه. (نصب الراية: ۴/۱۳۳).

دوسری بحث یہ ہے کہ "
المسلمون"
سے کون سے مسلمان مراد ہیں؟ اگر الف اور لام اس میں جنس کے لیے ہو تو لازم یہ آئے گا کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے تہتر فرقے سب کے سب ناجی ہو جائیں کیوں کہ ہر ایک فرقہ از راہِ تدین اپنے معمول کو حسن ہی سمجھتا ہے اور یہ اس حدیث کے خلاف ہے جو "
ما أنا عليه وأصحابي"
کے الفاظ سے پیش کی جاچکی ہے۔
اور اگر الف اور لام سے استغراق مراد ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس چیز کو تمام مسلمان اچھا سمجھیں وہ چیز اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھی ہی ہو گی، تو اس سے اجماعِ امت مراد ہوگا، اور اجماع کے حسن ہونے میں کیا شک ہے؟ لیکن اس سے مبتدعین کو کوئی فائدہ نہ ہوگا کیوں کہ بدعات کا وجود خیر القرون میں ہرگز نہ تھا۔ لہذا سب مسلمانوں کا ان پر اتفاق و اجماع نہ ہوا۔
اور اگر الف و لام سے عہدِ خارجی مراد ہو تو اس سے مسلمانوں کا ایک مخصوص طبقہ مراد ہوگا کہ مسلمانوں کا وہ گروہ اور طبقہ جس چیز کو اچھا سمجھے وہ اللہ تعالی کے نزدیک اچھی ہو گی اور مسلمانوں کا وہ گروہ اولین درجہ پر بفحوائے حدیث
"ما أنا عليه وأصحابي"
صرف صحابہ کرام رضي الله عنہم کا گروہ ہی ہو سکتا ہے اور یہی بات صحیح ہے کہ جس چیز کو حضراتِ صحابہ کرام رضي الله عنہم پسند کریں وہ اچھی ہو گی۔
اگر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه کی اس روایت اور ان سے مروی دیگر روایات کو سرسری نظر سے دیکھ لیا جائے تو "
المسلمون"
سے حضراتِ صحابہ کرام رضي الله عنہم کا گروہ ہی متعین ہو جاتا ہے۔ (راہِ سنت، از ص ۱۱۳۔ تا ۱۱٦، باب سوم بدعات کے جواز پر جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اُن پر ایک نظر، ط: مکتبہ صفدریہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.